غزلِ
حسرت موہانی
نیازِ عاشِقی کو ناز کے قابِل سمجھتے ہیں
ہم اپنے دِل کو بھی، اب آپ ہی کا دِل سمجھتے ہیں
عَدم کی راہ میں رکھّا ہی ہے پہلا قدم میں نے
مگر احباب اِس کو آخری منزِل سمجھتے ہیں
قریب آ آ کے منزل تک پلٹ جاتے ہیں منزِل سے
نہ جانے دِل میں کیا آوارۂ منزِل سمجھتے ہیں
الہٰی ایک دِل ہے، تُو ہی اِس کا فیصلہ کر دے
وہ اپنا دِل سمجھتے ہیں، ہم اپنا دِل سمجھتے ہیں
حسرت موہانی
نیازِ عاشِقی کو ناز کے قابِل سمجھتے ہیں
ہم اپنے دِل کو بھی، اب آپ ہی کا دِل سمجھتے ہیں
عَدم کی راہ میں رکھّا ہی ہے پہلا قدم میں نے
مگر احباب اِس کو آخری منزِل سمجھتے ہیں
قریب آ آ کے منزل تک پلٹ جاتے ہیں منزِل سے
نہ جانے دِل میں کیا آوارۂ منزِل سمجھتے ہیں
الہٰی ایک دِل ہے، تُو ہی اِس کا فیصلہ کر دے
وہ اپنا دِل سمجھتے ہیں، ہم اپنا دِل سمجھتے ہیں
حسرت موہانی
0 comments so far,add yours