حضرت معین الدین چشتیؒ
آپ کے لازوال و بے مثال ملفوظات دیکھئے‘
(۱) نماز مومن کی معراج ہے، قرب الٰہی کے لئے نماز ہی ذریعہ ہے۔
(۲) سن لو کہ کوئی گناہ اس قدر نقصان نہیں پہنچاتا جتنا کسی مسلمان کو ذلیل اور بے عزت کرنا پہنچاتا ہے۔
(۳) عذاب جنہم سے بچنا چاہتے ہو تو بے بسوں کی مدد کرو، مجبوروں اور لا چاروں کی حاجت روائی کرو اور بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔
(۴) درویش و ہے کہ کسی کو محروم نہ کرے۔
(۵) لوگوں سے مدد کی امید نہ رکھنا اور حرف شکایت زبان پر نہ لانا ہی توکل ہے۔
(۶) محبت کی علامت یہ ہے کہ اطاعت کے ساتھ ہی محبوب (اللہ) کی ناراضگی سے ڈرتے رہو۔
(۷) صادق وہ ہے جو کسی چیز کا بھی مالک نہ ہو اور دنیوی معاملات میں داخل نہ دیتا ہو۔
(۸) بلند آواز میں قہقہ لگانا اچھی بات نہیں کہی جاسکتا۔
(۹) قبرستان میں ہنسی مذاق نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لئے جاؤ۔
(۱۰) اللہ کے عارفین سورج کی طرح پوری دنیا کو معرفت کی روشنی سے چمکاتے ہیں۔
(۱۱) اے دنیا والو اللہ کے سواء کسی اور کو لائقِ عبادت مت سمجھو۔
(۱۲) جو دونوں جہانوں سے اپنی توجہ ہٹالے وہی عارف ہے۔
(۱۳) عارف کا کم تر درجہ یہ ہے کہ وہ صفاتِ الٰہی کا مظہر ہے۔
(۱۴) اللہ کا عاشق وہ ہے جو ابتدائے عشق میں ہی فناء ہوجائے۔
(۱۵) قرب حق حاصل کرنے کے لئے دریا جیسی سعادت، آفتاب جیسی شفقت اور زمین جیسی تواضع کی ضروری ہے۔
(۱۶)عارف وہ ہے جو موت کو عزیز رکھے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے علاوہ اور کسی چیز سے تعلق نہ رکھے۔
(۱۷) جھوٹوں کے گھروں سے برکات اٹھالی جاتی ہیں۔
(۱۸) عاشقِ حق وہ ہے جو نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد اگلی نمازِ فجر تک یادِ حق میں محو رہے۔
(۱۹) عارف وہ ہے جو دونوں جہانوں سے بیزار ہو۔
(۲۰) دل تو محبت کا آتشکدہ ہے اس میں جو داخل ہوتا ہے جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔
(۲۱) اہل اللہ کا مقام بہت بلند ہے، یہ تو فرشتوں کو بھی حاصل نہیں۔
(۲۲) محنت اور حدمت سے ہی بلند درجہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(۲۳) توبہ کی امید پر گناہ کرنے والا بدترین ہے۔
(۲۴) لوگوں سے اپنی پریشانیاں بیان کرتے پھرنا توکل نہیں۔
(۲۵) نفس کی زینت بھوکے کو کھانا کھلانا، حاتمند کی حاجت روائی کرنا اور مخالفوں سے حسنِ سلوک کرنے میں ہے۔
(۲۶) مصائب اور سختیوں کا آنا صحت اور ایمان کی نشانیاں ہیں۔
(۲۷) عارف دنیا اور اللہ تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے۔
(۲۸) موت، فاقہ اور درویشی کو دوست رکھنے والا مومن کہلاسکتا ہے۔
(۲۹) اللہ کی دوستی اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوکر ہی مل کر سخت ہے۔
(۳۰) حس کو اپنے قریب بھی مت آنے ہو۔
(۳۱) مرد حق وہ ہے جو سوائے اللہ کسی پر بھروسہ نہ کنرے ۔
(۳۲) تلاوت کرنے سے ہی نعمت ملتی ہے۔
(۳۳) مومن کی نشانی یہ ہے مہ میصبت کو ہنس کر قبول کرتا ہے۔
(۳۴) نماز کو اللہ تعالیٰ نے بطور امانت مسلمانوں کے سپرد فرمایا ہے۔
(۳۵) خود پسندی اور تکبر بڑے گناہ ہیں۔
(۳۶) اپنی غلط بات پر قائم رہنا ہی کم ظرفی ہے۔
(اقوال کاخزانہ)
(۱)بہتی ندیوں کا شور سنو کس طرح شور کرتی چلتی ہیں مگر جب سمندر میں پہونچتی ہیں تو بالکل خاموش ہوجاتی ہیں ۔
(۲)نیک لوگوں کی صحبت نیکی سے بہتر اور بروں کی صحبت بدی سے بدتر ہے ۔
(۳)تمہارا کوئی گناہ اس قدر ضرر رساں ثابت نہ ہوگا جتنا کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ۔
(۴)بد بختی یہ ہے کہ گناہ کرتا رہے پھر بھی مقبولِ بارگاہ ہونے کا امید وار رہے ۔
(۵)جس نے بھی کوئی نعمت پائی اس نے سخاوت کی بنا پر پائی۔
(۶)در حقیقت متوکل وہ ہے جو مخلوق کی کلفت و اذیت سے دوچار ہو مگر وہ کسی سے شکایت نہ کرے بلکہ کسی سے ذکر بھی نہ کرے ۔
(۷)عارف کی علامت یہ ہے کہ موت کو محبوب رکھے ، راحت کو خیر باد کردے ، اور یادِ الٰہی سے مانوس ہوجائے ۔
(۸)اہلِ معرفت ایسے آفتاب ہیں جو تمام عالم پر درخشاں ہیں اور تمام عالم ان کے نور سے منور ہے (اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ معرفت اہلِ دنیا کے لئے قابلِ قدر ہیں ۔

0 comments so far,add yours