آج 13 دسمبر صاحب طرز شاعر اور تنقید نگار سید وحید اختر کا یومِ وفات ہے۔
شُعلہ بنا کے چھوڑوں گا سارے بدن کو مَیں
جل جل کے دیکھتا ھُوں تمھارے بدن کو مَیں
سید وحید اختر 12 اگست 1934 کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ 1954ء میں جامعہ عثمانیہ سے بی اے کیا اور 1956ء میں ایم اے کیا۔ 1960ء میں خواجہ میر درد کے تصوف پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پہلی نظم 1949ء میں شائع ہوئی۔ان کی طبیعت کا رجحان نظم کی طرف زیادہ ہے۔
ان کی تخلیقات ہندوستان اور پاکستان کے معیاری رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہے۔طالب علمی کے زمانے میں اورنگ آباد کالج کے رسالہ ’’نورس‘‘ اور مجلہ’’عثمانیہ‘‘ کے مدیر رہ چکے ہیں۔ رسالہ ’’صبا‘‘ کی ادارت کے رکن کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں صدر شعبۂ فلسفہ رہے۔
شاعری کے ابتدائی دور میں برق تخلص رکھا ۔ ترقی پسند تحریک کیلئیے بھی آزادانہ طور پر لکھتے رہے ہیں۔ مندرجہ ذیل کتابیں ان کی اردو غزل اور نظم میں ہیں۔
ان کی گراں قدر ادبی خدمات کی بنا پر ہندوستان کی جانب سے انہیں بہت سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ جن مین غالب ایوارڈ، سہتیہ ایوارڈ اور اردو اکادمی ادبیات آندھرا پردیش کی جانب سے بھی بہت سے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
"پتھروں کا مغنی" کے نام سے ان کا کلام چھپ گیا ہے۔ ان کے دیگر شعری مجموعوں کے نام یہ ہیں
"زنجیر کا نغمہ"، "شب کا رزمیہ"
سید وحید اختر کا دہلی میں 13 دسمبر 1996 کو 61 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔
ٹھہری ہے تو اک چہرے پہ ٹھہری رہی برسوں
بھٹکی ہے تو پھر آنکھ بھٹکتی ہی رہی ہے

0 comments so far,add yours