اردو کے معروف افسانہ نگار اوپندر ناتھ اشک نے اپنی کتاب "چرواھے" کا
انتساب منٹو کے نام کیا تو لکھا:" منٹو کے نام...... جو کبھی مجھے بہت اچھا
لگتا ہے کبھی بہت برا"
منٹو کی وفات کے بعد اوپندر ناتھ اشک نے اس کا خاکہ لکھا تو اس کا چیختا، چنگھاڑتا اور ہر کسی کو چونکتا ہوا عنوان تھا:
"منٹو میرا دشمن !"
لیکن یہ خاکہ پڑھۓ تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اوپندر ناتھ اشک از سر تاپا ایک آنسو ہے جو اس کے دیدہ تر سے مسلسل بہہ رہا ہے
منٹو کی دنیا سے رحلت پر آنسو کی اس دھار کو ہی اپنے خاکے میں لفظوں کی صورت دی ہے یہ خاکہ کیا ہے ؟ منٹو کی دہلی ریڈیو پر گزری ہوئی زندگی کا پورا سوانح نامہ، اس زمانے کی پوری تاریخ اور اس دور میں ریڈیو سے وابستہ بڑے بڑے ادیبوں کا اعمال نامہ.... ان کا کردار نامہ
منٹو کے آخری لمحات کا حال ان کے نامور بھانجے حامد جلال نے لکھا ہے اور یہ بات صاف محسوس ہے کہ منٹو اپنا دشمن آپ تھا دوست سب کا تھا سب کے کام آتا تھا سب سے محبت کرتا تھا افسانے لکھتا تو عام افسانہ نگاروں کی روش اختیار نہ کرتا اور اپنے افسانے میں اپنی انفرادیت کا کوئی نقش ضرور ابھارتا ڈرامہ تخلیق کرتا تو دوسروں سے مختلف اور منفرد نظر آتا زندگی گزاری تو اپنی مرضی کے مطابق اپنے ڈھنگ سے، اپنے طریقے سے اور اپنے سلیقے سے، کسی کو اپنے دل کی مسجد کا امام بننے کی اجازت نہ دی وہ اپنی زندگی میں بھی جو زیادہ طویل نہیں تھی افسانے کی اقلیم میں حکمران تسلیم کیا جاتا تھا اور وفات کے بعد بھی اسے افسانے کا تاجدار شمار کیا گیا
یہ سعادت حسن منٹو ہے جو 17 جنوری 1955ء کو لاہور میں فوت ہو گیا تو کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ منٹو واقعی مر گیا لیکن جب یقین ہو گیا کہ اس کے جسد خاکی سے روح اڑ گئ ہے تو سب لوگوں نے شہادت دی کہ
"منٹو اپنے فن کی دنیا میں زندہ رہے گا"
"منٹو اردو ادب کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے"
اور منٹو واقعی زندہ ہے کہ اپنی وفات کے اسے پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ آج کے دور کے افسانے اور آج کے زمانے کی حقیقتیں لکھ رہا ہے اور قبر کی تہہ در تہہ مٹی سے بھی ہمارے معاشرے کی حرکتیں دیکھ رھا ہے
لاھور کی ادبی دنیا منٹو کی کفیل نہ بن سکی یہ دور منٹو کی شدید ترین اقتصادی پریشانیوں کا دور تھا اس نے تیزی سے لکھا اپنے افسانوں کی قلیل ترین قیمت بھی قبول کی اور جو کچھ ملا اس سے شراب کی ضرورت پوری کی
17 جنوری کو بہاولپور میں پاکستان اور ہندوستان کا کرکٹ میچ ہو رہا تھا اس میچ میں ایک گیند عزرائیل نے آسمان سے پھینکا جو بہاولپور میں گرنے کی بجاۓ لاھور میں منٹو کی وکٹ پر آ گرا اور منٹو کی وکٹ اڑ گئ
اس کے آخری وقت کا دردناک بلکہ عبرتناک احوال ان کے بھانجے حامد جلال نے لکھا ہے یہ موت اس عظیم افسانہ نگار کی موت تھی جس نے شراب پی پی کر اپنی زندگی جوانی میں ہی تباہ کر ڈالی تھی
منٹو کو زندگی کے آخری لمحوں میں ھسپتال لے جایا جا رھا تھا ایمبولینس کے آنے سے پہلے صرف ایک یا دو بار منٹو نے اپنے منہ سے رضائی ہٹائی انہوں نے کہا مجھے بڑی سردی لگ رہی ھے اتنی سردی شاید قبر میں بھی نہیں لگے گی میرے اوپر دو رضائیاں ڈال دو کچھ دیر توقف کے بعد ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک نمودار ہوئی انہوں نے آھستہ سے کہا "میرے کوٹ کی جیب میں ساڑھے تین روپے پڑے ھیں ان میں کچھ اور پیسے ملا کر تھوڑی سی وہسکی منگا دو" شراب کے لیۓ ان کا اصرار جاری تھا ان کی تسلی کے لیے ایک پوا منگا لیا گیا انہوں نے بوتل کو بڑی عجیب آسودہ نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے " میرے لیے دو پیگ بنا دو" منٹو ماموں کی آنکھوں میں اس وقت بھی اپنے لیے کوئی شائبہ موجود نہیں تھا"
منٹو کی شراب نوشی اور موت کا یہ واقعہ میں نے بے مقصد نہیں لکھا ہمارے بہت سے ادیب شراب کو کو تخلیقی ضرورت سمجھتے ہیں جوش ملیح آبادی، مخمور جالندھری، اختر شیرانی، شاد امرتسری، ساغر صدیقی، اسرارلحق مجاز، اقبال ساجد،ظہیر کاشمیری اور دوسرے ادبا شراب کی نذر ہو گیۓ اور اب یہ نئ نسل کی عادات میں بھی شامل ھے لیکن جو لوگ شراب نہیں پیتے اور اعلی ادب تخلیق کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ شراب کمزوری ہے تخلیقی قوت نہیں یہ زندگی سے فرار کا راستہ دکھاتی ھے ادیب کو ارتکاز نہیں بخشتی، نہ اسے نۓ خیالات و تصورات سے آشنا کرتی ھے
حامد جلال نے منٹو کی وفات سے سانپ اور انسان کی کہانی یاد کی یہ کہانی یوں ہے:
ایک آدمی نے اپنے دوستوں کے منع کرنے کے باوجود سانپ پال رکھا تھا ایک دن سانپ نے اپنا سارا زہر اس کے جسم میں اتار دیا اس آدمی نے بھی سانپ کا سر پکڑا اور اسے کاٹ کے پھینک دیا
حامد جلال نے لکھا ھے "اگر وہ اس وقت موجود ہوتے اور منٹو ماموں اپنی ضرورت بیان کرتے تو انہں صرف اتنا کہنے کی ضرورت تھی "سانپ اور آدمی کی کہانی کو نہ بھولنا"
میں اپنے سر کو اثبات میں جنبش دیتا اور شراب کا آخری جام انہیں پینے کے لیے دے دیتا
منٹو کی المناک موت سے حامد جلال نے بڑا سبق آموز نتیجہ نکالا ھے نئے اور پرانے لکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق ھے
لیکن اس سبق کو کون سیکھے گا ؟
اس سبق پر کون عمل کرے گا ؟
آپ میں سے کون کون سمجھتا ھے (شراب) چیز اچھی ھے طبعیت کی روانی کے لیے ؟؟؟
منٹو کی وفات کے بعد اوپندر ناتھ اشک نے اس کا خاکہ لکھا تو اس کا چیختا، چنگھاڑتا اور ہر کسی کو چونکتا ہوا عنوان تھا:
"منٹو میرا دشمن !"
لیکن یہ خاکہ پڑھۓ تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اوپندر ناتھ اشک از سر تاپا ایک آنسو ہے جو اس کے دیدہ تر سے مسلسل بہہ رہا ہے
منٹو کی دنیا سے رحلت پر آنسو کی اس دھار کو ہی اپنے خاکے میں لفظوں کی صورت دی ہے یہ خاکہ کیا ہے ؟ منٹو کی دہلی ریڈیو پر گزری ہوئی زندگی کا پورا سوانح نامہ، اس زمانے کی پوری تاریخ اور اس دور میں ریڈیو سے وابستہ بڑے بڑے ادیبوں کا اعمال نامہ.... ان کا کردار نامہ
منٹو کے آخری لمحات کا حال ان کے نامور بھانجے حامد جلال نے لکھا ہے اور یہ بات صاف محسوس ہے کہ منٹو اپنا دشمن آپ تھا دوست سب کا تھا سب کے کام آتا تھا سب سے محبت کرتا تھا افسانے لکھتا تو عام افسانہ نگاروں کی روش اختیار نہ کرتا اور اپنے افسانے میں اپنی انفرادیت کا کوئی نقش ضرور ابھارتا ڈرامہ تخلیق کرتا تو دوسروں سے مختلف اور منفرد نظر آتا زندگی گزاری تو اپنی مرضی کے مطابق اپنے ڈھنگ سے، اپنے طریقے سے اور اپنے سلیقے سے، کسی کو اپنے دل کی مسجد کا امام بننے کی اجازت نہ دی وہ اپنی زندگی میں بھی جو زیادہ طویل نہیں تھی افسانے کی اقلیم میں حکمران تسلیم کیا جاتا تھا اور وفات کے بعد بھی اسے افسانے کا تاجدار شمار کیا گیا
یہ سعادت حسن منٹو ہے جو 17 جنوری 1955ء کو لاہور میں فوت ہو گیا تو کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ منٹو واقعی مر گیا لیکن جب یقین ہو گیا کہ اس کے جسد خاکی سے روح اڑ گئ ہے تو سب لوگوں نے شہادت دی کہ
"منٹو اپنے فن کی دنیا میں زندہ رہے گا"
"منٹو اردو ادب کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے"
اور منٹو واقعی زندہ ہے کہ اپنی وفات کے اسے پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ آج کے دور کے افسانے اور آج کے زمانے کی حقیقتیں لکھ رہا ہے اور قبر کی تہہ در تہہ مٹی سے بھی ہمارے معاشرے کی حرکتیں دیکھ رھا ہے
لاھور کی ادبی دنیا منٹو کی کفیل نہ بن سکی یہ دور منٹو کی شدید ترین اقتصادی پریشانیوں کا دور تھا اس نے تیزی سے لکھا اپنے افسانوں کی قلیل ترین قیمت بھی قبول کی اور جو کچھ ملا اس سے شراب کی ضرورت پوری کی
17 جنوری کو بہاولپور میں پاکستان اور ہندوستان کا کرکٹ میچ ہو رہا تھا اس میچ میں ایک گیند عزرائیل نے آسمان سے پھینکا جو بہاولپور میں گرنے کی بجاۓ لاھور میں منٹو کی وکٹ پر آ گرا اور منٹو کی وکٹ اڑ گئ
اس کے آخری وقت کا دردناک بلکہ عبرتناک احوال ان کے بھانجے حامد جلال نے لکھا ہے یہ موت اس عظیم افسانہ نگار کی موت تھی جس نے شراب پی پی کر اپنی زندگی جوانی میں ہی تباہ کر ڈالی تھی
منٹو کو زندگی کے آخری لمحوں میں ھسپتال لے جایا جا رھا تھا ایمبولینس کے آنے سے پہلے صرف ایک یا دو بار منٹو نے اپنے منہ سے رضائی ہٹائی انہوں نے کہا مجھے بڑی سردی لگ رہی ھے اتنی سردی شاید قبر میں بھی نہیں لگے گی میرے اوپر دو رضائیاں ڈال دو کچھ دیر توقف کے بعد ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک نمودار ہوئی انہوں نے آھستہ سے کہا "میرے کوٹ کی جیب میں ساڑھے تین روپے پڑے ھیں ان میں کچھ اور پیسے ملا کر تھوڑی سی وہسکی منگا دو" شراب کے لیۓ ان کا اصرار جاری تھا ان کی تسلی کے لیے ایک پوا منگا لیا گیا انہوں نے بوتل کو بڑی عجیب آسودہ نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے " میرے لیے دو پیگ بنا دو" منٹو ماموں کی آنکھوں میں اس وقت بھی اپنے لیے کوئی شائبہ موجود نہیں تھا"
منٹو کی شراب نوشی اور موت کا یہ واقعہ میں نے بے مقصد نہیں لکھا ہمارے بہت سے ادیب شراب کو کو تخلیقی ضرورت سمجھتے ہیں جوش ملیح آبادی، مخمور جالندھری، اختر شیرانی، شاد امرتسری، ساغر صدیقی، اسرارلحق مجاز، اقبال ساجد،ظہیر کاشمیری اور دوسرے ادبا شراب کی نذر ہو گیۓ اور اب یہ نئ نسل کی عادات میں بھی شامل ھے لیکن جو لوگ شراب نہیں پیتے اور اعلی ادب تخلیق کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ شراب کمزوری ہے تخلیقی قوت نہیں یہ زندگی سے فرار کا راستہ دکھاتی ھے ادیب کو ارتکاز نہیں بخشتی، نہ اسے نۓ خیالات و تصورات سے آشنا کرتی ھے
حامد جلال نے منٹو کی وفات سے سانپ اور انسان کی کہانی یاد کی یہ کہانی یوں ہے:
ایک آدمی نے اپنے دوستوں کے منع کرنے کے باوجود سانپ پال رکھا تھا ایک دن سانپ نے اپنا سارا زہر اس کے جسم میں اتار دیا اس آدمی نے بھی سانپ کا سر پکڑا اور اسے کاٹ کے پھینک دیا
حامد جلال نے لکھا ھے "اگر وہ اس وقت موجود ہوتے اور منٹو ماموں اپنی ضرورت بیان کرتے تو انہں صرف اتنا کہنے کی ضرورت تھی "سانپ اور آدمی کی کہانی کو نہ بھولنا"
میں اپنے سر کو اثبات میں جنبش دیتا اور شراب کا آخری جام انہیں پینے کے لیے دے دیتا
منٹو کی المناک موت سے حامد جلال نے بڑا سبق آموز نتیجہ نکالا ھے نئے اور پرانے لکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق ھے
لیکن اس سبق کو کون سیکھے گا ؟
اس سبق پر کون عمل کرے گا ؟
آپ میں سے کون کون سمجھتا ھے (شراب) چیز اچھی ھے طبعیت کی روانی کے لیے ؟؟؟

0 comments so far,add yours