جون ایلیا کو گفتگو میں انوکھے اچھوتے فقروں، نت نئی تاویلوں سے مخاطب کو لاجواب کردینے میں ملکہ حاصل تھا۔ برجستہ، ایسا سفاک جارحانہ فقرے چست کرتے،
ایسی دلیل وضع کرتے کہ تن بدن میں آگ لگا دے، آدمی آئینے سے چہرہ چھپانے لگے۔
کبھی ایسا شوخ و شگفتہ، ایسا زاویہ طراز، معنی خیز فقرہ کہ آدمی دیکھتا رہ جائے۔ اور دادو تحسین کرتے بھی نہ بنے۔

بڑے بھائی رئیس امروہوی کے حادثاتی انتقال پر لوگ تعزیت کررہے تھے اور صبر و استقامت کی تلقین کررہے تھے۔ سنتے رہے اور پھر آہ بھر کر بولے۔ ’’ہاں صاحب! ہمیں اپنے بھائی کے قتل کا کوئی تجربہ تو نہیں تھا۔

‘‘ کسی دن گھریلو امور کا قصہ چل رہا تھا کہنے لگے۔ ’’یار شکیل! سنتے ہیں، پچھلے زمانوں میں بیویاں مر بھی جایا کرتی تھیں۔‘‘

عام لوگوں کے مشورہ پر قسم قسم کے ٹوٹکے بھی آزمائے جاتے رہے۔ مہینوں تک کچی کلیجی نچوڑ کر عرق پیتے رہے۔ چار مغز، سُچے موتی، زعفران، مشک اور سونے کے سفوف سے مرکب جوارشوں کے تجربے بھی کیے جاتے رہے۔ سر پر انڈوں، کبھی جسم پر سرسوں، زیتون اور روغن بادام کی مالش کی جارہی ہے۔

کسی حکیم ڈاکٹر نے نسخے پر ہوالشافی لکھ دیا یا نسخے پر پہلے ہی سے کندہ ہوا ہو ،مطب سے باہر نکلتے ہی بیزاری سے کہتے۔ اسے تو خود پر اعتبار نہیں سارا ذمہ تو اس نے خدا پر ڈال دیا ہے۔‘‘

( شکیل عادل زادہ نے جون ایلیا پر انشائیے اور مضامین کی کتاب’’فرنود ‘‘میں لکھا۔)
 
 

0 comments so far,add yours