ایک دن خشونت سنگھ نے دوران گفتگو کہا "تمہاری سوانح کا کیا ہے بس ایک حادثہ لکھنے بیٹھو تو رسیدی ٹکٹ پر درج ہو جائے"
رسیدی ٹکٹ شائد اس لیے کہا کہ باقی ٹکٹوں کا سائز بدلتا رہتا ہے لیکن رسیدی ٹکٹ کا وہی چھوٹا سا رہتا ہے ٹھیک ہی کہا تھا جو کچھ بیتا دل کی تہوں میں بیتا تھا اور وہ سب کچھ نظموں اور ناولوں کے حوالہ ہو گیا پھر باقی کیا رہا؟ پھر بھی کچھ سطور لکھ رہی ہوں کچھ یوں جیسے زندگی کے حساب کتاب کے کاغذ پر ایک چھوٹی سی رسیدی ٹکٹ چسپاں کر رہی ہوں، نظموں اور ناولوں کے حساب کتاب کی کچی رسید کو پکی کرنے کے لیے !

(امرتا پریتم کی خودنوشت رسیدی ٹکٹ سے اقتباس صفحہ نمبر 9)


0 comments so far,add yours