بلانوشی اور لاابالی پن کی روایت کے نئے وارث عبدالحمید عدم تھے۔ اختر شیرانی کی طرح وہ بھی چلتی پھرتی بوتل تھے۔ طبیعت ان کی انتہائی موزوں تھی۔ بلا کے زودگو تھے اور بہت عمدہ شعر بے تکلفی سے کہہ جاتے تھے۔ شراب سے انہیں بہت تعلق تھا ۔ ہر وقت پیتے تھے، بے تحاشا پیتے تھے لیکن مے ان پر بالعموم کوئی ناگوار اثر نہیں ڈالتی تھی۔ ان کے بہترین اشعار بھی شراب ہی کے موضوع پر ہیں ؎ چل اے غمِ دوراں درِ میخانہ ہے نزدیک آرام سے بیٹھیں گے ذرا بات کریں گے …………… ظلمتوں سے نہ ڈر کہ رستے میں روشنی ہے شراب خانے کی …………… میں میکدے کی راہ سے ہوکر نکل گیا ورنہ سفر حیات کا کتنا طویل تھا میں شاعروں کے ساتھ بالعموم مے نوشی نہیں کرتا تھا۔ اختر شیرانی کے ساتھ تو ایک دو بار شریکِ جام ہوا بھی لیکن قریبی دوستی اور انتہائی موانست کے باوجود عدمؔ کے ساتھ مے نوشی میں شرکت میں نے کبھی نہیں کی۔ شراب دیکھتے ہی ان پر ایک ایسی وارفتگی طاری ہوجاتی تھی کہ وہ حزم و احتیاط کو بالائے طاق رکھ دیتے تھے۔ میری اپنی زندگی جس نہج پر بسر ہورہی تھی‘ اس میں تھورا بہت رکھ رکھائو ضروری تھا اور کھُل کھیلنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ چناں چہ اپنے اور ان کے درمیان ایک محدود سا فاصلہ میں نے ہمیشہ باقی رکھا۔ انہوں نے بھی اس علم کے باوجود کہ میں زاہدِ خشک نہیں ہوں‘ مجھے اپنے ساتھ پینے کے لیے کبھی مجبور نہیں کیا۔ ایک مرتبہ شراب کے لیے مضطرب تھے اور حصول کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ میری جیب میں پیسے نہیں تھے لیکن گھر پر شراب کی نصف بوتل موجود تھی۔ میں انہیں یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گیا کہ میرے وعدے کو نصف سمجھنا۔ گھر پر مہمان آئے ہوئے ہیں‘ اس لیے شراب لے کر دروازے سے میں باہر نہیں نکل سکتا۔ کھڑکی سے نیچے گرا دوں گا‘ اگر تم اچک لینے میں کامیاب ہوگئے تو تمہاری ورنہ دھرتی کی۔ یہ حادثہ پیش آئے تو شور نہ مچانا اور چپ چاپ چلے آنا۔ عدمؔ خلوص سے وعدہ کرکے میرے ساتھ ہولیے لیکن جیسے ہی میرا ہاتھ باہر نکلا ‘ وہ بے قابو ہوگئے اور زور سے چلائے: ’’متل صاحب ذرا احتیاط سے۔ بوتل ٹوٹ گئی تو میرا دل ٹوٹ جائے گا۔‘‘ ان کی پکار گھر والوں نے بھی سن لی۔ پردہ فاش ہوچکا تھا، اب احتیاط غیر ضروری تھی۔ میں نے کہا:’’ عدمؔ صاحب اب وعدہ نصف نہیں رہا، میں آپ کے لیے بوتل لے کر نیچے آرہا ہوں۔‘‘ شراب وہ ہر ماحول میں پی لیتے تھے اور صحبتِ ناجنس بھی ان پر گراں نہیں گزرتی تھی۔ غالباً اپنی داخلی کیفیات میں وہ اتنے مگن رہتے تھے کہ بیرونی دنیا ان کے لیے کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی تھی۔ ایک مرتبہ مجھے ایک جگہ لے گئے ۔ منزل ایک حجرۂ تاریک تھا۔ اختر شیرانی وہاں پہلے سے موجود تھے۔ ان کے علاوہ وہاں کچھ عجیب الخلقت لوگ جمع تھے اور ایک لنگڑا ہارمونیم پر کچھ گا رہا تھا۔ آواز اس کی اتنی بھیانک تھی کہ غالبؔ کا مصرعہ: جس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے‘ ایک نئے مفہوم کے ساتھ میرے ذہن میں گونجنے لگا۔ میں دو تین منٹ کے بعد وہاں سے کھسک آیا لیکن بعد میں ان کے ایک دوست نے جس کا نام غالباً قمر تسکین تھا‘ مجھے بتایا کہ عدمؔ اور اخترؔ شیرانی اس حجرۂ تاریک میں اکثر جاتے تھے اور اس عزرائیل صفت مغنی کی موسیقی پر عالمِ سرور میں سر دھنتے تھے۔ ان دونوں کے مزاج میں کوئی ایسی سرشارانہ کیفیت تھی جو زہر کو تریاق بنا دیتی تھی۔ شراب کا گھونٹ اترتے ہی وہ حجرۂ تاریک ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا تھا اور اس کی جگہ چشمِ تصور میں وہ میکدۂ ازل ناچنے لگتا تھا جس میں حافظؔ و خیامؔرقصاں اور غزل خواں ان کے منتظر تھے۔ اخترؔ شیرانی کے لیے تو بعد میں باہر کی دنیا بالکل ہی بے حقیقت ہوگئی تھی اور ان کے ذہنی ہیولوں نے ان کے لیے ٹھوس شکلیں اختیار کرلی تھیں جس سے وہ خواب ہی میں نہیں بلکہ عالمِ بیداری میں بھی ہمکلام رہتے تھے۔ ان دنوں ان کی رہائش ایک گندی بستی کے شکستہ سے کمرے میں تھی۔ میں کبھی کبھی ملنے چلے جاتا تو مجھ سے پوچھتے کیا تمہیں کوئی آواز نہیں آرہی۔ پھر کہتے رات اس نے مجھے پوری غزل لکھوا دی۔ وہ بولتی جارہی تھی اور میں لکھتا جاتا تھا۔ اسے خللِ حو اس کا نام دیا جاسکتا ہے لیکن یہ خارجی ماحول پر داخلیت کی فتح بھی تو ہے۔
(گوپال متل کی کتاب’’لاہور کا جو ذکر کیا‘‘ سے مقتبس)
 
 

0 comments so far,add yours