عمر کے آخری سالوں میں ان کی راتیں باری علیگ صاحب کے پرانی انارکلی
والے چوبارے اور مصطفی قریشی کے گھر بھی بسر ہوئیں، باری علیگ کا یہ چوبارہ
ان کے بڑے بیٹے مسعود باری کے تصرف میں تھا، ان کے چوبیس گھنٹے مہمانوں کو
ویلکم اور خدا حافظ کہنے میں گزرتے تھے۔
ایک بار جالب صاحب نے وہاں روزانہ جانا شروع کر دیا، جالب صاحب جب پرانی انار کلی چوک میں پہنچتے تو وہاں پان شاپ پر ایک نوجوان انکے استقبال کے لئے کھڑا ہوتا ، وہ جالب صاحب کو پان اور سگریٹ کی ڈبیہ دیتا، ان کا بستہ ان ک بغل سے اپنے ہاتھ میں لیتا اور انہیں مسعود باری تک پہنچاتا، یہ معمول ایک عرصے تک جاری رہا ، ہم سب اس کو جالب صاحب کا دیوانہ سمجھتے رہے۔
ایک دن کیا ہوا کہ جالب صاحب اپنا بستہ خود بغل میں دبائے وہاں پہنچے ، ان کا دیوانہ ان کے پیچھے تھا، وہ بہت غصے میں تھا اور بری طرح جالب صاحب کو گھور رہا تھا، جالب صاحب کے بھی ہوش اڑے ہوئے تھے، کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا ، بڑی مشکل سے اس نوجوان کو بولنے پر آمادہ کیا گیا، باقی بات آپ اسی نوجوان کی زبانی سنئیے: "آپ لوگوں نے مجھے ان پڑھ سمجھا ہواتھا، اور میرے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا تھا۔ ہاں! میں ان پڑھ ہوں مگر میری باجی نے تو بی اے کیا ہوا ہے۔کل رات میں نے گھر میں ذکر کر دیا کہ آجکل "غالب صاحب" کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہوں وہ تو میری باجی نے بتایا کہ غالب کو مرے ہوئے تو سو سال سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں!!۔"
ایک بار جالب صاحب نے وہاں روزانہ جانا شروع کر دیا، جالب صاحب جب پرانی انار کلی چوک میں پہنچتے تو وہاں پان شاپ پر ایک نوجوان انکے استقبال کے لئے کھڑا ہوتا ، وہ جالب صاحب کو پان اور سگریٹ کی ڈبیہ دیتا، ان کا بستہ ان ک بغل سے اپنے ہاتھ میں لیتا اور انہیں مسعود باری تک پہنچاتا، یہ معمول ایک عرصے تک جاری رہا ، ہم سب اس کو جالب صاحب کا دیوانہ سمجھتے رہے۔
ایک دن کیا ہوا کہ جالب صاحب اپنا بستہ خود بغل میں دبائے وہاں پہنچے ، ان کا دیوانہ ان کے پیچھے تھا، وہ بہت غصے میں تھا اور بری طرح جالب صاحب کو گھور رہا تھا، جالب صاحب کے بھی ہوش اڑے ہوئے تھے، کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا ، بڑی مشکل سے اس نوجوان کو بولنے پر آمادہ کیا گیا، باقی بات آپ اسی نوجوان کی زبانی سنئیے: "آپ لوگوں نے مجھے ان پڑھ سمجھا ہواتھا، اور میرے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا تھا۔ ہاں! میں ان پڑھ ہوں مگر میری باجی نے تو بی اے کیا ہوا ہے۔کل رات میں نے گھر میں ذکر کر دیا کہ آجکل "غالب صاحب" کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہوں وہ تو میری باجی نے بتایا کہ غالب کو مرے ہوئے تو سو سال سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں!!۔"

0 comments so far,add yours