نوشی
گیلانی 1964 میں بہاولپور میں پیدا ہوئی. نوشی گیلانی اردو شاعرہ ہیں
جنہوں نے اپنی شاعری کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی. آپ
پاکستان کے بہترین اردو شاعروں میں سے ایک ہیں. نوشی گیلانی نے بڑی کامیابی
کے ساتھ شاعری کے پانچ مجموعے شائع کیے ہیں. ان کی اردو شاعری جو پاکستان
میں شائع کی گئی ان میں درج ذیل شامل ہیں:
محبتیں جب شمار کرنا (1993)
اُداس ہونے کے دن نہیں (1997)
پہلا لفظ محبّت لکھا (2003)
اے میرے شریکِ رسالِ جان
ہم تیرا انتظار کرتے رہے
ان کی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور ان کی شاعری برطانیہ میں بھی پڑھی گئی. انہوں نے لوک گلوکار “پٹھانے خان” کو خراج تحسین پیش کیا.
نوشی گیلانی 1995 میں سان فرانسسکو میں قیام پذیر ہوئی لیکن سعید خان سے شادی کے بعد انہوں نے آسٹریلیا جانے کا فیصلہ کیا. انہوں نے 25 اکتوبر 2008 میں سعید خان سے شادی کی جو کہ آسٹریلیا کے رہنے والے اُردو شاعر ہیں اور حال میں وہ سڈنی-آسٹیلیا میں رہ رہے ہیں.
وہ نوجوان خواتین اُردو شاعروں کی اہم رکن ہیں. آپ نے شاعری کے میدان میں بہت اعلٰی کام کیا ہے اور ان کی شاعری نوجوان طبقے میں بہت پسند کی جاتی ہے.
یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو
مِرے خدا مِرے دُکھ سے نکال دے اُس کو
وہ چُپ کھڑا ہے کئی دن سے تیری خاطر تو
کواڑ کھول دے اذنِ سوال دے اُس کو
عذاب بد نظری کا جِسے شعور نہ ہو
یہ میری آنکھیں، مِرےخّد و خال دے اُس کو
یہ دیکھنا شب ہجراں کہ کِس کی دستک ہے
وصال رُت ہے اگر وہ تو ٹال دے اُس کو
وہ جس کا حرفِ دُعا روشنی ہے میرے لیے
میں بُجھ بھی جاؤں تو مولا اُجال دے اُس کو
محبتیں جب شمار کرنا (1993)
اُداس ہونے کے دن نہیں (1997)
پہلا لفظ محبّت لکھا (2003)
اے میرے شریکِ رسالِ جان
ہم تیرا انتظار کرتے رہے
ان کی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور ان کی شاعری برطانیہ میں بھی پڑھی گئی. انہوں نے لوک گلوکار “پٹھانے خان” کو خراج تحسین پیش کیا.
نوشی گیلانی 1995 میں سان فرانسسکو میں قیام پذیر ہوئی لیکن سعید خان سے شادی کے بعد انہوں نے آسٹریلیا جانے کا فیصلہ کیا. انہوں نے 25 اکتوبر 2008 میں سعید خان سے شادی کی جو کہ آسٹریلیا کے رہنے والے اُردو شاعر ہیں اور حال میں وہ سڈنی-آسٹیلیا میں رہ رہے ہیں.
وہ نوجوان خواتین اُردو شاعروں کی اہم رکن ہیں. آپ نے شاعری کے میدان میں بہت اعلٰی کام کیا ہے اور ان کی شاعری نوجوان طبقے میں بہت پسند کی جاتی ہے.
یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو
مِرے خدا مِرے دُکھ سے نکال دے اُس کو
وہ چُپ کھڑا ہے کئی دن سے تیری خاطر تو
کواڑ کھول دے اذنِ سوال دے اُس کو
عذاب بد نظری کا جِسے شعور نہ ہو
یہ میری آنکھیں، مِرےخّد و خال دے اُس کو
یہ دیکھنا شب ہجراں کہ کِس کی دستک ہے
وصال رُت ہے اگر وہ تو ٹال دے اُس کو
وہ جس کا حرفِ دُعا روشنی ہے میرے لیے
میں بُجھ بھی جاؤں تو مولا اُجال دے اُس کو

0 comments so far,add yours