ممبئی
شہر حمید اختر کے لیے اجنبی تو کبھی نہیں تھا۔ یہاں ساحر‘ ابراہیم جلیس
اور وہ خود دھومیں مچاتے زندگی کے روشن دِنوں کی باتیں کیا کرتے تھے۔
ابراہیم جلیس نے غضب کیا کہ اس شہر کی روداد لکھ ڈالی‘ جو حمید اختر کے
نظریہء شہر پر مبنی تھی۔ مزید غضب خود حمید اختر نے کیا جنہوں نے یہ گمشدہ
روداد کھوج نکالی اور مجھے بھیج دی۔
ابراہیم جلیس کے بیان کردہ بہت سے واقعات خود حمید اختر بار بار بیان کر چکے ہیں۔ ساحر اور ابراہیم جلیس کی لڑائیاں، ابراہیم جلیس کا رپورتاژ ’شہر‘ صرف ممبئی کی ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، کلکتہ اور دہلی کی کہانی بھی ہوسکتا ہے جس طرح لاہور کو فکر تونسوی کی ڈائری نے امر کردیا اسی طرح ممبئی حمید اختر کی یاداشتوں اور ابراہیم جلیس کے اس رپورتاژ میں مجسّم ہو گیا۔
بقول جلیس شہر کو بعض لوگ انسان کی تمدنی زندگی کا حسن سمجھتے ہیں مگر حمید اختر شہر کو تمدنی زندگی کی بیہودگی قرار دیتا ہے۔ بعض لوگ اور حمید اختر دونوں اپنی جگہ غلط ہیں۔ اگر آپ کی جیب خالی ہے تو شہر بھی خالی ہے۔ اگر جیب میں ایک روپیہ بھی ہے تو شہر تاج ہوٹل کی سمت آتا ہے۔ اگر جیب میں ایک چھدام بھی نہیں ہے تو شہر مندر یا مسجد نظر آتا ہے۔ تمدنی زندگی کی بیہودگی کا عرفیہ نام سڑک بھی ہے۔ شہر کی سڑک صرف دو گھنٹے سوتی ہے بلکہ طوائف کی طرح سوتی ہی نہیں بلکہ اپنے پہلو میں ہزاروں بے خانماں انسانوں کو سلاتی ہے۔ گھروں سے بھاگے ہوئے، روزگار کی تلاش میں آئے ہوئے، غم، بیماری اور افلاس کے مارے، اپنی مائوں، باپوں اور بیویوں کی آغوش چھوڑ چھاڑ کر شہر کی سڑک کی آغوش میں پناہ لیتے ہیں۔ شہر یعنی ممبئی کے شب و روز کی اس کہانی میں حمید اختر اس کی رُوح کی طرح سمائے ہوئے ہیں
ابراہیم جلیس اب ممبئی کا ایک چہرہ دکھاتے ہیں:
’’ساحر، حمید اختر، نظر حیدر آبادی، وریندر دیو اور جلیسوف دادر چلے گئے۔ ساڑھے نو بجے ساحر کو ایک فلم پروڈیوسر سے ملنا تھا۔ اس کے گیتوں کا کنٹریکٹ ہونے والا تھا۔ اس فلم پروڈیوسر کا دفتر تلاش کرنے میں ہم نے دادر کی ساری فلم کمپنیوں کے دفتر چھان مارے۔ کسی فلم کمپنی کا دفتر کسی درزی کی دکان کے بیک روم میں تھا۔ کسی کا دفتر کسی ایرانی ہوٹل کی بغل میں تھا۔ کوئی فلم کمپنی ایک کمرے کے فلیٹ میں تھی تو کوئی کسی لانڈری کے زیرِ سایہ
حمید اختر مدھم روشنی کے باوجود ہر دکان کا سائن بورڈ بڑی مستعدی سے پڑھ رہا تھا۔ لاکھوں کروڑوں سائن بورڈ ،حمید اختر نے پوچھا
’اس فلم پروڈیوسر کا ٹیلی فون نمبر تمہیں یاد ہے؟‘ ساحر نے ٹیلی فون نمبر بتایا اورہم سب ایک لانڈری میں ٹیلی فون کرنے چلے گئے۔ پروڈیوسر نے فون پر جواب دیا
’اچھا آپ لوگ وہیں انتظار کیجئے۔ میں ابھی اپنا آدمی بھیجتا ہوں‘
ریسور رکھ کر حمید اختر نے کہا۔ ’وہ آدمی آدھ گھنٹے سے پیشتر کیا آئے گا۔ آئو‘ جب تک سامنے والے ہوٹل میں چائے پی لیں‘
ہم لانڈری سے باہر نکل رہے تھے کہ ایک آدمی نے باہر سے آکر ہم سے پوچھا ’ابھی ابھی آپ ہی لوگوں نے سیٹھ کو ٹیلی فون کیا تھا‘ ہم نے کہا ’ہاں’’تو آئو سیٹھ صاحب آپ لوگوں کو بلاتا ہے۔‘‘وہ شخص ہمیں اس لانڈری کے اُوپر والی منزل میں لے گیا۔
ایک کمرے کا دروازہ کھولا۔ سامنے سیٹھ تھا اور ہم محو حیرت۔ سیٹھ جی نے پوچھا: ’’آپ لوگ سوڈا لیتے یا چائے لیتے۔۔۔؟‘‘ ساحر اور ویریندر نے کہا۔ ’’ہم لوگ سوڈا لیتے۔ ’’حمید اختر نظر حیدر آبادی اور جلیسوف نے کہا: ’’خدا نا کرے ہم سوڈا لیں۔ ہم تو چائے لیتے۔‘‘خدایا۔۔۔رحم کر شہر آ کر تو سوڈا اور چائے پینے کی بجائے لینا پڑتا ہے۔ خیر سوڈا اور چائے لینے کے بعد کاروباری گفتگو شروع ہوئی۔ سیٹھ اور ساحر لدھیانوی کھٹی کھٹی ڈکاریں لے لے کر گفتگو کرنے لگے۔
ساحر نے پوچھا۔’’مجھے آپ پہلے فلم کی کہانی دکھائیے۔ میں سچو ایشن دیکھ کر بتاسکوں گا کہ میں گیت لکھ سکتا ہوں یا نہیں۔‘‘
سیٹھ نے جواب دیا:’’کہانی کو تو آپ ادھر چھوڑو۔ ابھی ہم کو کہانی سالی کا کوئی پرواہ نہیں ہے۔ آپ ’’رتن‘‘ فلم کی طرح ہم کو دس بارہ پھڑک دار گیت لکھدو۔ ہر گیت میں جوبن‘ ساجن اور سجنی کے لفج جرور آنے چاہئیں۔ ہم گیتوں پر کوئی کہانی ادھر فِٹ کرلیں گا۔‘‘ ساحر نے دوسرے دن ایک دم بارہ گیتوں کے لانے کا وعدہ کیا۔ ہم رخصت ہوئے۔
ساحر کو بڑا غصہ آرہا تھا۔ اس نے جلیسوف سے کہا: ’’جوبن کا لفج جرور ہونا چاہیے کیوں ساجن؟‘‘
جلیسوف نے جواب دیا:’’ہاں سجنی اور گیت کا ٹیمپو بھی فاسٹ ہونا چاہیے۔‘‘
اس شہر کا ہر پل بدلتا چہرہ دراصل ایک ہی چہرہ ہے۔ صرف کرداروں کے چہرے کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ حمید اختر، ساحر لدھیانوی، ابراہیم جلیس اور۔۔۔۔ اور۔۔۔ لیکن حمید اختر بھی کیا‘ بس ساحر اور جلیس ہی اس شہر کے مرکزی کردار ہیں۔ کم ازکم ابراہیم جلیس کا ’شہر‘ پڑھ کر تو یہی تاثر ملتا ہے۔
مثلاً جب تک ان دونوں کی جیبوں میں پیسے ہوتے وہ ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے اور ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے اور جب کبھی چینی ریستورن میں ڈنر کھاتے تو کچھ نہ پوچھئے ایک خاص قسم کے الکوحلی‘ سرور کے زیر اثر جلیسوف ساحر سے کہتا:
’’ساحر۔۔۔تم جوش ملیح آبادی سے زیادہ بڑے شاعر ہو۔ تمہاری نظم تاج محل۔۔۔آہاہا۔۔۔ مرمریں تاج محل کے سامنے تم نے ایک کالا تاج محل کھڑا کر دیا ہے۔ تمہارا تاج محل سچ سچ دُنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے۔۔۔جوش کی یہ قسمت کہاں!‘‘
ساحر خوش ہو کر کہتا:’’جلیسوف تم ہندوستان کے چیخوف ہو‘ چیخوف۔ تمہاری کہانیاں اس بورژوائی دور کی سنگین ترین کہانیاں ہیں۔ بعض اوقات تو مجھے تمہارے مقابلہ میں کرشن چندر بھی ہیچ نظر آتا ہے۔‘‘
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بل ادا کرتے وقت دونوں جھگڑتے ہیں کہ بل میں ادا کروں گا۔ نہیں میں ادا کروں گا۔ نہیں۔۔۔اور جب جیب میں پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو پھر ساحر جلیسوف کی عدم موجودگی میں حمید اختر سے گل فشانیاں کرتا ہے۔ بڑا آیا جوش سے بڑا شاعر۔۔۔جی وہ کسی مدراسی شاعر کا مقابلہ کر لے‘‘۔۔۔ ’’اور جلیسوف۔۔۔مست قلندر‘‘ اور ’’لطف شباب‘‘ کے افسانہ نگار اس سے اچھا لکھتے ہیں۔ جی اسے تو یونہی لفٹ مل گئی ہے۔ بڑا چیخوف کہیں کا۔۔۔۔!‘‘
اچانک جلیسوف کی نظر ایک بوڑھے پر پڑی جو پنجابی کولڈ ڈرنگ شاپ کے آگے چلتے چلتے گر پڑا تھا۔ اس بوڑھے نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے اپنی لاٹھی ٹٹولی۔ یہ لاٹھی کے سہارے اُٹھا۔ اس کی کمر کمان کی طرح جھکی ہوئی تھی سارا جسم ضعف اور رعشے سے کپکپا رہا تھا۔ دو قدم چل کر وہ پھر کیچڑ میں گر پڑتا تھا۔ پنجابی کولڈ ڈرنگ شاپ کے آگے لکڑی کی بینچیں آمنے سامنے لگی ہوئی تھیں اور لوگ باگ ان بینچوں پر بیٹھے لسی کے گلاس ہاتھ میں لیے بڑے غور سے ہوٹل کے گرامو فون کی طرف متوجہ تھے۔ جس کے ذریعہ شمشاد بیگم اپنی کسی محبت کی ماری سہیلی کی چور ملاقات کا راز افشا کر رہی تھی۔ اپنے بالم سے ۔۔۔۔۔ ہو اپنے ساجن سے مل کر آئی ہو۔۔۔۔؟
حمید اختر چیخا: لسی اور شمشاد بیگم۔۔۔ آئو نظر حیدر آبادی اور اے جلیسوف۔
حمید اختر اور نظر حیدرآبادی دونوں ہوٹل میں چلے گئے اور جلیسوف آگے نکل گیا۔ اس بوڑھے کے پاس۔ سڑک پر چلنے والے بھی شمشاد بیگم کی اس بدبخت سہیلی کا راز سننے بڑے شوق سے رُک گئے تھے۔ وہ بوڑھا ان کے پیروں کے قریب آ گرتا اور پھر اُٹھتا اور چلنے کی کوشش کرتا۔ کُتے بھونک رہے تھے۔ اور وہ لوگ ہنس رہے تھے۔ انسانی تمدن کی بیہودگی۔ یہ تھا حمید اختر کا نظریہء شہر۔
اور مجھے ابراہیم جلیس کو درست کرنے کی اجازت دیجئے کہ حمید اختر اپنے اس نظریے میں غلط نہیں تھا۔ ممبئی بہت پیچھے رہ گیا ہے اور حمید اختر بہت آگے نکل آئے ہیں لیکن اپنی تمام تر بیہودگی کے باوجود یہ شہر آج بھی حمید اختر کے اندر بسا ہوا ہے۔ ممبئی ہی نہیں‘ یہ دنیا بھی اس کے درجنوں دوستوں سے خالی ہو گئی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ حمید اختر آج بھی ان سڑکوں ‘ گلیوں‘ بازاروں اور ریستورانوں کی طرف بے اختیار لپک پڑیں گے۔۔۔ اور 9؍اگست 1947ء کے اس لمحے کو کھوجنے کی کوشش کریں گے جب وہ ممبئی سے لدھیانہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔
(احمد سلیم کی لکھی کتاب’’ حمید اختر: سوانح عمری‘‘ سے مقتبس)
ابراہیم جلیس کے بیان کردہ بہت سے واقعات خود حمید اختر بار بار بیان کر چکے ہیں۔ ساحر اور ابراہیم جلیس کی لڑائیاں، ابراہیم جلیس کا رپورتاژ ’شہر‘ صرف ممبئی کی ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، کلکتہ اور دہلی کی کہانی بھی ہوسکتا ہے جس طرح لاہور کو فکر تونسوی کی ڈائری نے امر کردیا اسی طرح ممبئی حمید اختر کی یاداشتوں اور ابراہیم جلیس کے اس رپورتاژ میں مجسّم ہو گیا۔
بقول جلیس شہر کو بعض لوگ انسان کی تمدنی زندگی کا حسن سمجھتے ہیں مگر حمید اختر شہر کو تمدنی زندگی کی بیہودگی قرار دیتا ہے۔ بعض لوگ اور حمید اختر دونوں اپنی جگہ غلط ہیں۔ اگر آپ کی جیب خالی ہے تو شہر بھی خالی ہے۔ اگر جیب میں ایک روپیہ بھی ہے تو شہر تاج ہوٹل کی سمت آتا ہے۔ اگر جیب میں ایک چھدام بھی نہیں ہے تو شہر مندر یا مسجد نظر آتا ہے۔ تمدنی زندگی کی بیہودگی کا عرفیہ نام سڑک بھی ہے۔ شہر کی سڑک صرف دو گھنٹے سوتی ہے بلکہ طوائف کی طرح سوتی ہی نہیں بلکہ اپنے پہلو میں ہزاروں بے خانماں انسانوں کو سلاتی ہے۔ گھروں سے بھاگے ہوئے، روزگار کی تلاش میں آئے ہوئے، غم، بیماری اور افلاس کے مارے، اپنی مائوں، باپوں اور بیویوں کی آغوش چھوڑ چھاڑ کر شہر کی سڑک کی آغوش میں پناہ لیتے ہیں۔ شہر یعنی ممبئی کے شب و روز کی اس کہانی میں حمید اختر اس کی رُوح کی طرح سمائے ہوئے ہیں
ابراہیم جلیس اب ممبئی کا ایک چہرہ دکھاتے ہیں:
’’ساحر، حمید اختر، نظر حیدر آبادی، وریندر دیو اور جلیسوف دادر چلے گئے۔ ساڑھے نو بجے ساحر کو ایک فلم پروڈیوسر سے ملنا تھا۔ اس کے گیتوں کا کنٹریکٹ ہونے والا تھا۔ اس فلم پروڈیوسر کا دفتر تلاش کرنے میں ہم نے دادر کی ساری فلم کمپنیوں کے دفتر چھان مارے۔ کسی فلم کمپنی کا دفتر کسی درزی کی دکان کے بیک روم میں تھا۔ کسی کا دفتر کسی ایرانی ہوٹل کی بغل میں تھا۔ کوئی فلم کمپنی ایک کمرے کے فلیٹ میں تھی تو کوئی کسی لانڈری کے زیرِ سایہ
حمید اختر مدھم روشنی کے باوجود ہر دکان کا سائن بورڈ بڑی مستعدی سے پڑھ رہا تھا۔ لاکھوں کروڑوں سائن بورڈ ،حمید اختر نے پوچھا
’اس فلم پروڈیوسر کا ٹیلی فون نمبر تمہیں یاد ہے؟‘ ساحر نے ٹیلی فون نمبر بتایا اورہم سب ایک لانڈری میں ٹیلی فون کرنے چلے گئے۔ پروڈیوسر نے فون پر جواب دیا
’اچھا آپ لوگ وہیں انتظار کیجئے۔ میں ابھی اپنا آدمی بھیجتا ہوں‘
ریسور رکھ کر حمید اختر نے کہا۔ ’وہ آدمی آدھ گھنٹے سے پیشتر کیا آئے گا۔ آئو‘ جب تک سامنے والے ہوٹل میں چائے پی لیں‘
ہم لانڈری سے باہر نکل رہے تھے کہ ایک آدمی نے باہر سے آکر ہم سے پوچھا ’ابھی ابھی آپ ہی لوگوں نے سیٹھ کو ٹیلی فون کیا تھا‘ ہم نے کہا ’ہاں’’تو آئو سیٹھ صاحب آپ لوگوں کو بلاتا ہے۔‘‘وہ شخص ہمیں اس لانڈری کے اُوپر والی منزل میں لے گیا۔
ایک کمرے کا دروازہ کھولا۔ سامنے سیٹھ تھا اور ہم محو حیرت۔ سیٹھ جی نے پوچھا: ’’آپ لوگ سوڈا لیتے یا چائے لیتے۔۔۔؟‘‘ ساحر اور ویریندر نے کہا۔ ’’ہم لوگ سوڈا لیتے۔ ’’حمید اختر نظر حیدر آبادی اور جلیسوف نے کہا: ’’خدا نا کرے ہم سوڈا لیں۔ ہم تو چائے لیتے۔‘‘خدایا۔۔۔رحم کر شہر آ کر تو سوڈا اور چائے پینے کی بجائے لینا پڑتا ہے۔ خیر سوڈا اور چائے لینے کے بعد کاروباری گفتگو شروع ہوئی۔ سیٹھ اور ساحر لدھیانوی کھٹی کھٹی ڈکاریں لے لے کر گفتگو کرنے لگے۔
ساحر نے پوچھا۔’’مجھے آپ پہلے فلم کی کہانی دکھائیے۔ میں سچو ایشن دیکھ کر بتاسکوں گا کہ میں گیت لکھ سکتا ہوں یا نہیں۔‘‘
سیٹھ نے جواب دیا:’’کہانی کو تو آپ ادھر چھوڑو۔ ابھی ہم کو کہانی سالی کا کوئی پرواہ نہیں ہے۔ آپ ’’رتن‘‘ فلم کی طرح ہم کو دس بارہ پھڑک دار گیت لکھدو۔ ہر گیت میں جوبن‘ ساجن اور سجنی کے لفج جرور آنے چاہئیں۔ ہم گیتوں پر کوئی کہانی ادھر فِٹ کرلیں گا۔‘‘ ساحر نے دوسرے دن ایک دم بارہ گیتوں کے لانے کا وعدہ کیا۔ ہم رخصت ہوئے۔
ساحر کو بڑا غصہ آرہا تھا۔ اس نے جلیسوف سے کہا: ’’جوبن کا لفج جرور ہونا چاہیے کیوں ساجن؟‘‘
جلیسوف نے جواب دیا:’’ہاں سجنی اور گیت کا ٹیمپو بھی فاسٹ ہونا چاہیے۔‘‘
اس شہر کا ہر پل بدلتا چہرہ دراصل ایک ہی چہرہ ہے۔ صرف کرداروں کے چہرے کے رنگ بدلتے رہتے ہیں۔ حمید اختر، ساحر لدھیانوی، ابراہیم جلیس اور۔۔۔۔ اور۔۔۔ لیکن حمید اختر بھی کیا‘ بس ساحر اور جلیس ہی اس شہر کے مرکزی کردار ہیں۔ کم ازکم ابراہیم جلیس کا ’شہر‘ پڑھ کر تو یہی تاثر ملتا ہے۔
مثلاً جب تک ان دونوں کی جیبوں میں پیسے ہوتے وہ ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے اور ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے اور جب کبھی چینی ریستورن میں ڈنر کھاتے تو کچھ نہ پوچھئے ایک خاص قسم کے الکوحلی‘ سرور کے زیر اثر جلیسوف ساحر سے کہتا:
’’ساحر۔۔۔تم جوش ملیح آبادی سے زیادہ بڑے شاعر ہو۔ تمہاری نظم تاج محل۔۔۔آہاہا۔۔۔ مرمریں تاج محل کے سامنے تم نے ایک کالا تاج محل کھڑا کر دیا ہے۔ تمہارا تاج محل سچ سچ دُنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے۔۔۔جوش کی یہ قسمت کہاں!‘‘
ساحر خوش ہو کر کہتا:’’جلیسوف تم ہندوستان کے چیخوف ہو‘ چیخوف۔ تمہاری کہانیاں اس بورژوائی دور کی سنگین ترین کہانیاں ہیں۔ بعض اوقات تو مجھے تمہارے مقابلہ میں کرشن چندر بھی ہیچ نظر آتا ہے۔‘‘
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بل ادا کرتے وقت دونوں جھگڑتے ہیں کہ بل میں ادا کروں گا۔ نہیں میں ادا کروں گا۔ نہیں۔۔۔اور جب جیب میں پیسے ختم ہو جاتے ہیں تو پھر ساحر جلیسوف کی عدم موجودگی میں حمید اختر سے گل فشانیاں کرتا ہے۔ بڑا آیا جوش سے بڑا شاعر۔۔۔جی وہ کسی مدراسی شاعر کا مقابلہ کر لے‘‘۔۔۔ ’’اور جلیسوف۔۔۔مست قلندر‘‘ اور ’’لطف شباب‘‘ کے افسانہ نگار اس سے اچھا لکھتے ہیں۔ جی اسے تو یونہی لفٹ مل گئی ہے۔ بڑا چیخوف کہیں کا۔۔۔۔!‘‘
اچانک جلیسوف کی نظر ایک بوڑھے پر پڑی جو پنجابی کولڈ ڈرنگ شاپ کے آگے چلتے چلتے گر پڑا تھا۔ اس بوڑھے نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے اپنی لاٹھی ٹٹولی۔ یہ لاٹھی کے سہارے اُٹھا۔ اس کی کمر کمان کی طرح جھکی ہوئی تھی سارا جسم ضعف اور رعشے سے کپکپا رہا تھا۔ دو قدم چل کر وہ پھر کیچڑ میں گر پڑتا تھا۔ پنجابی کولڈ ڈرنگ شاپ کے آگے لکڑی کی بینچیں آمنے سامنے لگی ہوئی تھیں اور لوگ باگ ان بینچوں پر بیٹھے لسی کے گلاس ہاتھ میں لیے بڑے غور سے ہوٹل کے گرامو فون کی طرف متوجہ تھے۔ جس کے ذریعہ شمشاد بیگم اپنی کسی محبت کی ماری سہیلی کی چور ملاقات کا راز افشا کر رہی تھی۔ اپنے بالم سے ۔۔۔۔۔ ہو اپنے ساجن سے مل کر آئی ہو۔۔۔۔؟
حمید اختر چیخا: لسی اور شمشاد بیگم۔۔۔ آئو نظر حیدر آبادی اور اے جلیسوف۔
حمید اختر اور نظر حیدرآبادی دونوں ہوٹل میں چلے گئے اور جلیسوف آگے نکل گیا۔ اس بوڑھے کے پاس۔ سڑک پر چلنے والے بھی شمشاد بیگم کی اس بدبخت سہیلی کا راز سننے بڑے شوق سے رُک گئے تھے۔ وہ بوڑھا ان کے پیروں کے قریب آ گرتا اور پھر اُٹھتا اور چلنے کی کوشش کرتا۔ کُتے بھونک رہے تھے۔ اور وہ لوگ ہنس رہے تھے۔ انسانی تمدن کی بیہودگی۔ یہ تھا حمید اختر کا نظریہء شہر۔
اور مجھے ابراہیم جلیس کو درست کرنے کی اجازت دیجئے کہ حمید اختر اپنے اس نظریے میں غلط نہیں تھا۔ ممبئی بہت پیچھے رہ گیا ہے اور حمید اختر بہت آگے نکل آئے ہیں لیکن اپنی تمام تر بیہودگی کے باوجود یہ شہر آج بھی حمید اختر کے اندر بسا ہوا ہے۔ ممبئی ہی نہیں‘ یہ دنیا بھی اس کے درجنوں دوستوں سے خالی ہو گئی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ حمید اختر آج بھی ان سڑکوں ‘ گلیوں‘ بازاروں اور ریستورانوں کی طرف بے اختیار لپک پڑیں گے۔۔۔ اور 9؍اگست 1947ء کے اس لمحے کو کھوجنے کی کوشش کریں گے جب وہ ممبئی سے لدھیانہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔
(احمد سلیم کی لکھی کتاب’’ حمید اختر: سوانح عمری‘‘ سے مقتبس)

0 comments so far,add yours