جون ایلیا نے ایک بار کہیں اپنے اکلوتے بیٹے زریون کو دیکھا جو اب ایک نوعمر لڑکا تھا۔ جون اس کو بالکل ہی نہیں پہچان سکے۔ اور بیٹے نے ان کو پہچان لینے کے باوجود ان کی جانب کسی خصوصی التفات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جون حددرجہ دل شکستہ وملول ہوئے،

اور اسی رات انہوں نے آنسوئوں میں ڈوب کر اپنی معرکتہ الآرانظم ’’درختِ زرد‘‘ لکھی ۔ جون نے یہ نظم لکھ کر اپنے پاس رکھ لی تھی اور کسی کو نہیں سنائی تھی۔ پھر انہوں نے فون کرکے مجھے بلایا اور مجھ سے کہا کہ وہ مجھے ایک نظم سنانا چاہتے ہیں۔ کوٹھی کے پچھواڑے اس اجاڑ اور ٹوٹے پھوٹے کمرے میں، جہاں بہت سارے کاٹھ کباڑ کے ساتھ جون کا پلنگ بھی پڑا ہوا تھا، جون نے مجھے پہلے تو اس نظم کا پس منظر سنایا اور پھر یہ نظم سنانی شروع کی۔ ان کی حالت یہ تھی کہ دھاروں دھارروتے جاتے تھے اور نظم پڑھتے جاتے تھے۔ اس طویل نظم میں جتنے مصرعے تھے، ان سے کہیں زیادہ آنسو جون نے اس نظم کو سنانے میں بہائے ہوں گے۔

جون کی صحت اس زمانے میں بہت خراب ہوگئی تھی۔ وہ باتیں کرتے کرتے ہانپنے لگتے تھے اور ذراسی دور چلنے سے ان کا سانس پھولنے لگتا تھا۔ کثرت شراب نوشی ان کی پہلے سے خراب صحت کو بری طرح تباہ کیے ڈال رہی تھی۔ وہ دن بھر اپنے کمرے میں ہی اکیلے رہتے ، شام کو کوئی بھولا بھٹکا دوست آجاتا اور ان کے ساتھ مے نوشی میں شامل ہوجاتا۔ رات کو وہ اس ڈھنڈار اور اجاڑ کمرے میں تنہا ہوتے اور آدھی آدھی رات تک جاگ کر غزلیں لکھتے رہتے۔ وہ شدید اعصابی کمزوری کا شکار ہوتے جارہے تھے۔

ایک دن اخبار میں میں نے خبر پڑھی کہ گزشتہ شب جون کا اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ جون کی ہزارہا خاردار پیچ وخم سے گزرتی ہوئی داستان حیات بالآخر اپنے انجام کو پہنچی۔ جون زندگی بھر اپنے آپ سے لڑتے رہے اور اپنے آپ کو مٹاتے رہے۔ شاید وہ یہ فیصلہ کبھی نہ کرسکے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اور اسی گومگو کی حالت میں وہ دنیا سے سدھار گئے۔

میں انہیں چشم تصور سے اپنی نہایت منفرد اور کمال نظم د رخت زرد میں اپنے بیٹے زریون سے مکالمہ کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ۔

تمہارا باپ یعنی میں __ عبث میں ، اک عبث تر میں
مگر میں ، یعنی جانے کون ؟اچھا میں ، سراسر میں

(انورا حسن صدیقی کی کتاب’’ دلِ پُرخوں کی اک گلابی سے‘‘ )


0 comments so far,add yours