صاحب طرز ادیب ، نامور صحافی اور طنزیہ کالم نگاری کے بے تاج بادشاہ ابراہیم جلیس کی اندوہناک موت پر خاور نعیم ہاشمی نے 1977 میں ایک مضمون تحریر کیا جس کا نام مسکراہٹ کی موت تھا
اس واقعے کے 38 برس بعد ابراہیم جلیس کے معتمد خاص ، نامور صحافی ، تجزیہ کار اور اپنے استاد ناصر بیگ چغتائی کے ہمراہ جلیس صاحب کے تذکرے کے دوران ذکر چھڑا کہ مسکراہٹ نے کیسے موت کو گلے لگایا
ناصر بیگ چغتائی ایک چلتی پھرتی تاریخ ہیں، آمریت کے دورابتلاء میں وہ روزنامہ مساوات سے وابستہ رہے، انہوں نے روزنامہ امن میں سنسر شپ کا وہ دور دیکھا ، جس میں صحافت کسی جرم سے کم نہ تھی، کم عمری میں ہی قابلیت کی بنیادپر ترقی کی منزلیں طے کر نے والے ناصر بیگ چغٖتائی نے اپنے وقت کے جید صحافیوں کے ہمراہ کام کیا۔ ۔۔چغتائی صاحب کی یہ یادیں ایک انمول اثاثہ ہیں
کون ابراہیم جلیس ۔۔دریافت کیجئے ناصربیگ چغتائی سے ۔۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان کے لفظ تو دراصل عام آدمی کے درد کا وہ اظہار تھے، جس درد کو وہ اپنے سینے میں لیے پھرتے تھے، ان کے کالموں میں غضب کا طنز تھا، ایک ایسی کاٹ تھی جو جگر کو چھلنی کردے اور ابراہیم جلیس کا جگر بھی ان زخموں سے چھلنی تھا، جو عوامی حقوق کو غصب کرنے کے ردعمل میں پیدا ہوئے تھے
ابراہیم جلیس نے روزنامہ مساوات کی باگ ڈور اس وقت سنبھالی ، جب ضیا الحق آئین کو پامال کرکے اقتدار پر قبضہ کرچکا تھا، صحافی جنرل ضیا کا خاص نشانہ تھے، روزنامہ مساوات کو سچ لکھنے کے جرم میں بند کیا جاچکا تھا اور اہل قلم دربدرتھے
فوجی عدالتیں سزائیں سنارہی تھیں ،عوامی رہنما ذوالفقارعلی بھٹو پابند سلاسل تھا، ہر خواب بکھر چکا تھا، ہر امید ٹوٹتی جارہی تھی اور ابراہیم جلیس کے دل میں درد بڑھ رہا تھا، دماغ کی شریانوں میں لہو کی روانی تیز ہوچکی تھی
یہ 1977میں اکتوبر کی کوئی تاریخ تھی ، ناصر بیگ چغتائی کے مطابق ابراہیم جلیس حسب معمول ہشاش بشاش شام میں روزنامہ مساوات کے دفتر تشریف لائے اس دن وہ دفترمیں خاموش بیٹھے تھے، آج مسکراہٹ کی موت کے سفر کے آغاز کا دن تھا، آج ایک تاریخ لکھی جانا تھی کہ مسکراہٹ دم توڑنے کے لیے بھی عجیب وغریب حالات کا انتخاب کرتی ہے
ابراہیم جلیس اس وقت کے ڈائریکٹر آئی ایس پی آر صدیق سالک سے ملاقات کرکے واپس آئے تھے، قہقہے بکھیرنے والے کے چہرے پر اداسی تھی ، ابراہیم جلیس نے اچانک ناصر بیگ چغتائی کو آوازدی ، نوجوان ناصر لپک کر اپنے استاد کے کمرے میں پہنچے
یا ر ناصر۔۔ وہ لوگ تو روزنامہ مساوات کو کھول ہی نہیں رہے، انہوں نے صاف انکار کردیاہے، ابراہیم جلیس کا لہجہ شکستگی سے معمور تھا
ناصر— مساوات بند رہے گا۔۔ میرے ورکرز کا کیا ہوگا، یہ ابراہیم جلیس کا آخری جملہ تھا اور پھر اچانک وہ وجود ڈھے گیا
ناصر بیگ چغتائی ان کے اچانک گرنے سے گھبرا گئے، دفترمیں زور سے آواز لگائی تو دیگر صحافی کارکنان بھی بھاگتے ہوئے آئے ۔۔۔ مسئلہ یہ تھا کہ جلیس صاحب کو اسپتال کیسے پہنچایا جائے
اس وقت نہ تو موبائل فون تھا اور نہ ہی دفتر میں ایسی کوئی سہولت کے کسی کو ایمرجنسی کی صورت میں بلایا جاسکے۔۔۔ روزنامہ مساوات ویسے بھی جنرل ضیا کی نظروں میں معتوب تھا تو اکثر روبہ مصلحت افراد اس ادارے اور اس سے وابستہ کارکنان سے تعلق رکھنے میں گریز کرتے تھے
ایک عجیب بے کسی تھی، اردو کا ایک بہترین افسانہ نگار جاں کنی کی کیفیت میں زمین پر گرا ہوا تھا، ترقی پسند ادب کی تحریک کے ایک جانثار کی حالت تشویش ناک تھی اور اسپتال تک پہنچنے کا کوئی فوری وسیلہ نہ تھا، ایسے وقت میں طے یہ کیا گیا کہ اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں کہ ابراہیم جلیس کو سوزوکی میں اسپتال لے جایا جائے
کسمپرسی کی بھی انتہا تھی، درجنوں کتابوں کا مصنف سامان لاد کرلے جانے والی ایک سوزوکی میں ڈال کر اسپتال لے جایاجارہا تھا کہ آئی آئی چندریگر روڈ سے تھوڑا پہلے شاہین کمپلکس کے قریب سوزوکی خراب ہوگئی
پاکستانیوں کی قسمت گاڑیوں کے معاملے میں تھوڑی خراب ہی رہی ہے، اسپتال جاتے ہوئے کالا پل پر بابائے قوم کی ایمبولنس خراب ہوگئی تھی اور آئی آئی چندریگر روڈ پر ابراہیم جلیس کی سوزوکی نما ایمبولینس نے جواب دے دیا
اس وقت چارصحافی اس کسمپرسی کے گواہ تھے، جن میں احفاظ الرحمان اور عنایت حسین کے علاوہ ایک ناصربیگ چغتائی ہیں، ناصر بیگ چغتائی بتاتے ہیں کہ وہ ایک عجیب بے بسی کا وقت تھا، کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔کریں تو کیا کریں ۔۔چاروناچار سوزوکی کو دھکا لگایاگیا ۔۔ مگر جناب سوزوکی بھی شاید محب وطن تھی، اس نے بھی قسم کھائی ہوئی تھی کہ وہ بابائے قوم کی خراب ایمبولینس کی پوری طرح پیروی کرے گی
بشمول ناصربیگ چغتائی چار صحافی ابراہیم جلیس کی زندگی کی گاڑی کو دھکا لگانے کی کوشش کررہے تھے، آس پاس گزرتی گاڑیوں سے مدد مانگ رہے تھے
ناصربیگ چغتائی کے بقول ایک ٹیکسی گزری تو انہوں نے ڈرائیورکو بتایا کہ یہ جلیس صاحب ہیں۔۔ وہی جو اخبار میں کالم لکھتے ہیں، ٹیکسی ڈرائیور شاید ابراہیم جلیس کی تحریروں کا قاری تھا چناچہ سوزوکی سے ابراہیم جلیس کا وجود ٹیکسی میں منتقل ہوا اور اسپتال پہنچایا گیا
اسپتال پہنچے تو پتہ لگا کہ ابراہیم جلیس صاحب کے دماغ کی شریان پھٹ چکی ہے، شاید وہ آئین اور عوامی حقوق کی پامالی کا صدمہ نہیں سہہ سکے تھے ۔۔ اسپتال میں کچھ دن وہ حیات رہے اور پھر 1924میں اگست کی 24تاریخ کو بھارتی شہر بنگلو رمیں آنکھ کھولنے والے ابراہیم جلیس55برس کی عمر میں 26 اکتوبر 1977 کو جہان فانی سے کوچ کرگئے۔۔ مسکراہٹ کی موت ہوگئی
(عثمان غازی)

0 comments so far,add yours