چند ایک قدم چل کر اس مقام پر پہنچ گیا ہوں جہاں لوگ نماز جنازہ کے لیے جما ہو چکے تھے ....آگے چارپایی دھری تھی جس میں وہ شخص مردہ حالت میں پڑا تھا جس کی نماز جنازہ پڑھایی جانے والی تھی لیکن میں نے آگے بڑھ کر چہرہ دیکھنے کی کوشیش نہیں کی کے وہی چہرہ ہو گا جو میں پچھلے پینتیس چالیس برس سے دیکھتا آیا ہوں کیوں کے یہ شخص چہرہ بدلنے والوں میں سے نہیں تھا تو موت میں بھی ویسا ہی ہو گا جیسا زندگی میں تھا ...البتہ سب لوگ بہت دیر تک نماز جنازہ پڑھنے کے لیے صفیں بناہے کھڑے رہے....جانے کس کا انتظار تھا ...پھر اس کی بیٹی دکھایی دی اور میں نے اس کی جانب نہیں دیکھا ...کیونکے باپ کی موت پر جو حال ایک بیٹی کا ہوتا ہے وہ نہ بیٹے کا ہوتا ہے اور نہ کسسی اور عزیز کا ...یہ میں جانتا ہوں کے جب کبھی مجھے خیال آتا ہے کے ایک روز میں نے بھی مر جانا ہے تو مجھے یہ بھی خیال آتا ہے کے میری بیٹی کا کیا حال ہو گا اور تب میں مرنہ نہیں چاہتا ....وہ جتنا روے گی مجھ سے برداشت نہیں ہوگا ...صرف اس لیے میں دعا کرتا ہوں کے یا الله تو نے جب مجھے مارنا ہوگا تو صرف ایک دن کی رعایت دینا....اس روز نہ مارنا جس روز میرے نصیب میں لکھا ہے اس سے اگلے روز مارنا تا کے میری بیٹی کم از کم ایک اور دن نہ رویے

(مستنصر حسین تارڑ)


0 comments so far,add yours