مجھے
اب اپنی بوسیدہ ہو چکی سیاہ جلد کی ’’ٹیلی فون اینڈ ایڈریس بک‘‘ سے خوف
آنے لگا ہے۔ اس کے ہر صفح۸ے پر قبریں اُبھرنے لگی ہیں۔۔۔ یہ آج سے دس برس
پیشتر کم کم تھیں پر اب ان کی تعداد اتنی بڑھنے لگی ہے کہ وہ زندوں کی نسبت
تعداد میں زیادہ ہونے لگی ہیں۔ پہلے پہل تو یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی عزیز،
شناسا، کوئی ادیب رخصت ہوتا تھا تو میں دل پر جبر کر کے اس کے نام اور فون
نمبرپر سرخ مارکر سے ایک لکیر پھیر دیتا تھا
لیکن جب میں نے دیکھا کہ ٹیلی فون بک کے ہر صفحے پر سرخ لیکروں کی تعداد
دن بہ دن بڑھتی چلی جا رہی ہے اور جب کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو نگاہ صرف سرخ
لکیروں، تنسیخ شدہ فون نمبروں پر ہی جاتی ہے اور احساس ہوتا ہے کہ یہ سب
لوگ مر چکے ہیں تو میں نے یہ منسوخ کرنے کا طریقہ ترک کر دیا۔۔۔ کیونکہ ہر
سرخ مارکر سے منسوخ کیا گیا نام اور فون نمبر یکدم اپنی پوری حیات کے ساتھ
میرے سامنے آجاتا تھا کہ اچھا۔۔۔ کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا۔۔۔ اور اب
ہمارے نام کو سرخ مارکر سے مٹا چکے ہو۔۔۔ کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا۔
یہ اشفاق احمد کے نمبر پر بھی ایک سرخ لکیر کھینچی ہے تو وہ کیا ہوئے۔۔۔ میمونہ کا بھائی اسلم خان۔۔۔ عظمیٰ اسلم خان ناول نگار کا والد اور میرا سب سے پسندیدہ میمونہ کی فیملی کا شخص۔ وہ بھی گمشدہ ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی کا فون نمبر بھی اپنے مٹنے پر فریادی تھا۔۔۔ قرآن پاک کا لاجواب اردو ترجمہ کرنے والے عربی کے سکالر محمد کاظم۔۔۔ ابھی تو تھے اور ابھی کہاں چلے گئے کہ اُن کے فون نمبر پر بھی میں نے سرخ مارکر پھیر دیا ہے۔ مطیع الرحمن، اُن مولوی صاحب کا بیٹا جنہوں نے بچپن میں مجھے خوب زدو کوب کیا تھا۔ کمال کا دست شناس اور دوست۔ میرا چھوٹا بھائی زبیر تارڑ جگر کے کینسر کا شکار ہو کر رخصت ہو گیا۔ صابر قاضی وزیر آباد میں دفن ہو چکا۔
منیر نیازی، فیض احمد فیض، احمد فراز، شبنم شکیل، منشا یاد، ممتاز مفتی، علی عباس جلالپوری، شفیق الرحمن، کرنل محمد خان، احمد داؤد، اعجاز راہی، منصور قیصر، محمد خالد اختر اور پھر ٹیلی ویژن کے ساتھی معین اختر، طاہرہ نقوی، ایوب خان، غیور اختر، ظل سبحان، سلیم ناصر، میاں شہریار، شفیع محمد، نصرت ٹھاکر، محمد نثار حسین، کنور آفتاب احمد۔۔۔ سب کے سب لوگ منسوخ ہو چکے۔
اُن کے نمبروں پر سرخ لکیر کھینچی جا چکی۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ زندگی کا یہی چلن ہے۔۔۔ لوگ چلے جائیں گے تو اُن کی جگہ نئے لوگ آئیں گے لیکن۔۔۔ اس جواز سے کچھ تسلی نہیں ہوتی۔ میرے شاید اکلوتے ادیب دوست ’’اداس نسلیں‘‘ کے خالق عبداللہ حسین ماشاء اللہ مجھ سے بھی کوئی سات آٹھ برس آگے ہیں اور ان دنوں کچھ علیل ہیں اور وہ اپنی بیماری کا چرچا نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ جیسے ہمارے کچھ زائد المیعاد نقاد وغیرہ ہمہ وقت ادبی رسالوں میں فریاد کرتے رہتے ہیں کہ بس جناب ہم تو گئے کہ گئے۔۔۔ پر جاتے نہیں۔۔۔ تو عبداللہ حسین کہنے لگے ’’مستنصر۔۔۔ میں صرف تم سے دل کی بات کر سکتا ہوں۔۔۔ پچھلے دنوں میں نے نیٹ پر ’’موت‘‘ کے حوالے سے کچھ عظیم ادیبوں کے حوالے پڑھے اور اُن میں سے بیشتر نے موت کو ایک آزادی قرار دیا۔۔۔ ٹالسٹائی نے تو اپنے جنازے پر مذہبی رسوم کی ادائیگی کی بھی ممانعت کر دی تھی کہ بس مجھے اپنے آبائی جنگل کے اندر دفن کر دینا۔ میری قبر پر پادریوں کو دعائیں کرنے کی اجازت نہ ہو گی اور میری قبر کچی رکھنا تا کہ میں بعد از مرگ بھی موسموں کو محسوس کرتا رہوں‘‘۔
’’خان صاحب۔۔۔ جب ماسکو یونیورسٹی نے مجھے سرکاری طور پر لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا تھا اور مجھے ایک میڈل سے سرفراز کیا گیا تھا کہ میری تحریریں پچھلے تیس چالیس برس سے یونیورسٹی کے اردو نصاب میں شامل ہیں تو میں ماسکو سے بہت دور ٹالسٹائی کی ریاست کے جنگلوں میں بھی گیا تھا ۔۔۔ اور اس کی کچی قبر پر پھول چڑھائے تھے کہ وہ میرا ادبی مرشد تھا۔ چنانچہ میں آگاہ ہوں‘‘۔
’’ویسے تارڑ۔۔۔ جو کچھ چیخوف نے موت کے بارے کہا، مجھے حیرت ہوئی کہ جب ہم موت کے بارے میں بحث کرتے تھے تو تم بھی یہی کہا کرتے تھے۔ چیخوف نے کہا تھا کہ بے شک آپ ایک بڑے ادیب اور دانشور تسلیم کر لیے جائیں لیکن موت کے بعد آپ کے افکار، یہی سو پچاس برس تک معروف رہیں گے اور پھر آپ معدوم ہو جائیں گے تو ایک ادیب اور دانشور ہونے کا کیا فائدہ کہ۔۔۔ بالآخر آپ مرجائیں گے، دراصل کسی ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران میزبان بی بی نے یہ کہا کہ تارڑ صاصاحب۔۔۔ آپ کی تحریریں صدیوں تک زندہ رہیں گی تو میں نے اُن کی حماقت سے لطف اندوز ہو کر عرض کیا تھا کہ بی بی جی مجھے کچھ خوش فہمی نہیں ہے۔ ادھر ہماری آنکھیں بند، اُدھر ہماری سب تحریریں معدوم۔۔۔ آج سے سو برس بعد کسے معلوم کہ کوئی تارڑ نام کا ادیب بھی تھا اور میں ایک گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ نے میری قدر کرنا ہے، میری عزت افزائی کرنی ہے تو ابھی کر لیجیے کہ اگر میرے مرنے کے بعد ہر شہر کے چوک میں میرے مجسمے نصب کر دیئے جاتے ہیں تو مجھے کیا فائدہ۔۔۔ موت کے بعد مرنے کا منظر کس نے دیکھا ہے۔ تو اگر آپ نے میری اور میرے ہم عصر ادیبوں کی قدر کرنی ہے تو ابھی کر لیں ورنہ موت کے بعد ہمیں چنداں مسرت نہ ہو گی۔
جیسے میرے پاس ایک بوسیدہ ہو چکی ’’ٹیلی فون اینڈ ایڈریس بک‘‘ ہے۔ ایسی ٹیلی فون ڈائریکٹری میرے جاننے والوں کے پاس بھی تو ہو گی۔ تو اس میں درج میرے ٹیلی فون نمبر کو بھی بالآخر ایک سرخر مارکر سے منقطع ہو جانا ہے۔۔۔ پر کب ہونا ہے تو یہ میں کیا جانوں۔۔۔ وہ جانے جو ہمیں بلاتا رہتاہے۔
مجھے اپنی بوسیدہ ہو چکی سیاہ جلد کی ’’ٹیلی فون اینڈ ایڈریس بک‘‘ سے خوف آنے لگا ہے۔۔۔ عبداللہ حسین ابھی اس کالم میں زندہ تھا اور ابھی وہ بھی مر گیا ہے۔۔۔ اب مجھ سے اس کا نام تو نہیں کاٹا جاتا ۔اس پر موت کی سیاہی پھیر کر کیسے منسوخ کر دوں؟
(موت کی ٹیلی فون بک __ مستنصر حسین تارڑ)
یہ اشفاق احمد کے نمبر پر بھی ایک سرخ لکیر کھینچی ہے تو وہ کیا ہوئے۔۔۔ میمونہ کا بھائی اسلم خان۔۔۔ عظمیٰ اسلم خان ناول نگار کا والد اور میرا سب سے پسندیدہ میمونہ کی فیملی کا شخص۔ وہ بھی گمشدہ ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی کا فون نمبر بھی اپنے مٹنے پر فریادی تھا۔۔۔ قرآن پاک کا لاجواب اردو ترجمہ کرنے والے عربی کے سکالر محمد کاظم۔۔۔ ابھی تو تھے اور ابھی کہاں چلے گئے کہ اُن کے فون نمبر پر بھی میں نے سرخ مارکر پھیر دیا ہے۔ مطیع الرحمن، اُن مولوی صاحب کا بیٹا جنہوں نے بچپن میں مجھے خوب زدو کوب کیا تھا۔ کمال کا دست شناس اور دوست۔ میرا چھوٹا بھائی زبیر تارڑ جگر کے کینسر کا شکار ہو کر رخصت ہو گیا۔ صابر قاضی وزیر آباد میں دفن ہو چکا۔
منیر نیازی، فیض احمد فیض، احمد فراز، شبنم شکیل، منشا یاد، ممتاز مفتی، علی عباس جلالپوری، شفیق الرحمن، کرنل محمد خان، احمد داؤد، اعجاز راہی، منصور قیصر، محمد خالد اختر اور پھر ٹیلی ویژن کے ساتھی معین اختر، طاہرہ نقوی، ایوب خان، غیور اختر، ظل سبحان، سلیم ناصر، میاں شہریار، شفیع محمد، نصرت ٹھاکر، محمد نثار حسین، کنور آفتاب احمد۔۔۔ سب کے سب لوگ منسوخ ہو چکے۔
اُن کے نمبروں پر سرخ لکیر کھینچی جا چکی۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ زندگی کا یہی چلن ہے۔۔۔ لوگ چلے جائیں گے تو اُن کی جگہ نئے لوگ آئیں گے لیکن۔۔۔ اس جواز سے کچھ تسلی نہیں ہوتی۔ میرے شاید اکلوتے ادیب دوست ’’اداس نسلیں‘‘ کے خالق عبداللہ حسین ماشاء اللہ مجھ سے بھی کوئی سات آٹھ برس آگے ہیں اور ان دنوں کچھ علیل ہیں اور وہ اپنی بیماری کا چرچا نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ جیسے ہمارے کچھ زائد المیعاد نقاد وغیرہ ہمہ وقت ادبی رسالوں میں فریاد کرتے رہتے ہیں کہ بس جناب ہم تو گئے کہ گئے۔۔۔ پر جاتے نہیں۔۔۔ تو عبداللہ حسین کہنے لگے ’’مستنصر۔۔۔ میں صرف تم سے دل کی بات کر سکتا ہوں۔۔۔ پچھلے دنوں میں نے نیٹ پر ’’موت‘‘ کے حوالے سے کچھ عظیم ادیبوں کے حوالے پڑھے اور اُن میں سے بیشتر نے موت کو ایک آزادی قرار دیا۔۔۔ ٹالسٹائی نے تو اپنے جنازے پر مذہبی رسوم کی ادائیگی کی بھی ممانعت کر دی تھی کہ بس مجھے اپنے آبائی جنگل کے اندر دفن کر دینا۔ میری قبر پر پادریوں کو دعائیں کرنے کی اجازت نہ ہو گی اور میری قبر کچی رکھنا تا کہ میں بعد از مرگ بھی موسموں کو محسوس کرتا رہوں‘‘۔
’’خان صاحب۔۔۔ جب ماسکو یونیورسٹی نے مجھے سرکاری طور پر لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا تھا اور مجھے ایک میڈل سے سرفراز کیا گیا تھا کہ میری تحریریں پچھلے تیس چالیس برس سے یونیورسٹی کے اردو نصاب میں شامل ہیں تو میں ماسکو سے بہت دور ٹالسٹائی کی ریاست کے جنگلوں میں بھی گیا تھا ۔۔۔ اور اس کی کچی قبر پر پھول چڑھائے تھے کہ وہ میرا ادبی مرشد تھا۔ چنانچہ میں آگاہ ہوں‘‘۔
’’ویسے تارڑ۔۔۔ جو کچھ چیخوف نے موت کے بارے کہا، مجھے حیرت ہوئی کہ جب ہم موت کے بارے میں بحث کرتے تھے تو تم بھی یہی کہا کرتے تھے۔ چیخوف نے کہا تھا کہ بے شک آپ ایک بڑے ادیب اور دانشور تسلیم کر لیے جائیں لیکن موت کے بعد آپ کے افکار، یہی سو پچاس برس تک معروف رہیں گے اور پھر آپ معدوم ہو جائیں گے تو ایک ادیب اور دانشور ہونے کا کیا فائدہ کہ۔۔۔ بالآخر آپ مرجائیں گے، دراصل کسی ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران میزبان بی بی نے یہ کہا کہ تارڑ صاصاحب۔۔۔ آپ کی تحریریں صدیوں تک زندہ رہیں گی تو میں نے اُن کی حماقت سے لطف اندوز ہو کر عرض کیا تھا کہ بی بی جی مجھے کچھ خوش فہمی نہیں ہے۔ ادھر ہماری آنکھیں بند، اُدھر ہماری سب تحریریں معدوم۔۔۔ آج سے سو برس بعد کسے معلوم کہ کوئی تارڑ نام کا ادیب بھی تھا اور میں ایک گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ نے میری قدر کرنا ہے، میری عزت افزائی کرنی ہے تو ابھی کر لیجیے کہ اگر میرے مرنے کے بعد ہر شہر کے چوک میں میرے مجسمے نصب کر دیئے جاتے ہیں تو مجھے کیا فائدہ۔۔۔ موت کے بعد مرنے کا منظر کس نے دیکھا ہے۔ تو اگر آپ نے میری اور میرے ہم عصر ادیبوں کی قدر کرنی ہے تو ابھی کر لیں ورنہ موت کے بعد ہمیں چنداں مسرت نہ ہو گی۔
جیسے میرے پاس ایک بوسیدہ ہو چکی ’’ٹیلی فون اینڈ ایڈریس بک‘‘ ہے۔ ایسی ٹیلی فون ڈائریکٹری میرے جاننے والوں کے پاس بھی تو ہو گی۔ تو اس میں درج میرے ٹیلی فون نمبر کو بھی بالآخر ایک سرخر مارکر سے منقطع ہو جانا ہے۔۔۔ پر کب ہونا ہے تو یہ میں کیا جانوں۔۔۔ وہ جانے جو ہمیں بلاتا رہتاہے۔
مجھے اپنی بوسیدہ ہو چکی سیاہ جلد کی ’’ٹیلی فون اینڈ ایڈریس بک‘‘ سے خوف آنے لگا ہے۔۔۔ عبداللہ حسین ابھی اس کالم میں زندہ تھا اور ابھی وہ بھی مر گیا ہے۔۔۔ اب مجھ سے اس کا نام تو نہیں کاٹا جاتا ۔اس پر موت کی سیاہی پھیر کر کیسے منسوخ کر دوں؟
(موت کی ٹیلی فون بک __ مستنصر حسین تارڑ)

0 comments so far,add yours