چند روز اور مِری جان ! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دَم لینے پہ مجبُور ہیں ہم
اور کُچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں
اپنے اجداد کی مِیراث ہے، معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکرِ محبُوس ہے، گُفتار پہ تعزِیزیں ہیں
اپنی ہمّت ہے، کہ ہم پھر بھی جِیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مُفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دِن تھوڑے ہیں
اِک ذرا صبر، کہ فریاد کے دِن تھوڑے ہیں
عرصۂ دہر کی جُھلسی ہُوئی وِیرانی میں !
ہم کو رہنا ہے، پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بےنام گرانْبار ستم
آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے
یہ تِرے حُسن سے لِپٹی ہُوئی آلام کی گرد
اپنی دو روزہ جوانی کی شِکستوں کا شُمار
چاندنی راتوں کا بیکار دہکتا ہُوا درد
دِل کی بےسُود تڑپ، جسم کی مایوُس پُکار
چند روز اور مِری جان ! فقط چند ہی روز
(فیض احمد فیض)

0 comments so far,add yours