سعادت حسن منٹو کو آپ کچھ بھی کہہ لیں مگر آپ اس کی حقیقت پسندی کا
انکار نہیں کریں گے۔ علامہ اقبال کے بارے ایک مجلس جو یوم_ اقبال کے لیے
نفد ہوئی میں کہتے ہیں:
اقبال کے کلام اور اس کے فلسفے کی باریکیاں
بیان کرنا میرے بس کی بات نہیں۔ اس مجلس میں ایسے اصحاب موجود ہیں جو اس
باوقار اور پر عظمت شاعر کے اس پیغام:
دردشت_ جنون_ من جبریل صیدے
یزداں بکمند آور اے ہمت_ مردانہ
کی تشریع بطریق_ احسن کر سکتے ہیں۔
مجھے اور کچھ نہیں کہنا ہے۔ لیکن دو دکھ ہیں جن کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک دکھ اس وقت ہوا جب اقبال جیسے غیور شاعر کو بے حقیقت بادشاھوں کے قصیدے لکھنے پڑے۔ ایک دکھ مجھے اب کوہو رہا ہے جب میں رموز_ بیخودی میں آسمانوں،زمینوں،ہواؤں، دریاؤں، پہاڑوں اور وادیوں، سورج چاند اور ستاروں، پھلوں اور پھولوں غرضیکہ ساری کائنات کو انسان کی میراث قرار دینے والے شاعر کے قلندرانہ کلام پر چند خود غرض مجاوروں کا قبضہ دیکھتا ہوں۔
اقبال نے خدا کے حضور دعا مانگی تھی- مرا نور_ بصیرت عام کردے- یہ دعا جو ایک دردمند دل سے نکلی ضرور قبول ہوگی۔ لیکن صابنوں، تیلوں اور ہوٹلوں اور لانڈریوں کے ساتھ اس شاعر عظیم کا نام منسوب ہوتے دیکھ کر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا نور_ بصیرت بہت دیر تک جہالت کی تنگ اور اندھیری گلیوں میں بھٹکتا رہے گا۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد_ ناداں پر کلام_ نرم و نازک بے اثر
تلخ،ترش اور شیریں۔۔سعادت حسن منٹو
دردشت_ جنون_ من جبریل صیدے
یزداں بکمند آور اے ہمت_ مردانہ
کی تشریع بطریق_ احسن کر سکتے ہیں۔
مجھے اور کچھ نہیں کہنا ہے۔ لیکن دو دکھ ہیں جن کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک دکھ اس وقت ہوا جب اقبال جیسے غیور شاعر کو بے حقیقت بادشاھوں کے قصیدے لکھنے پڑے۔ ایک دکھ مجھے اب کوہو رہا ہے جب میں رموز_ بیخودی میں آسمانوں،زمینوں،ہواؤں، دریاؤں، پہاڑوں اور وادیوں، سورج چاند اور ستاروں، پھلوں اور پھولوں غرضیکہ ساری کائنات کو انسان کی میراث قرار دینے والے شاعر کے قلندرانہ کلام پر چند خود غرض مجاوروں کا قبضہ دیکھتا ہوں۔
اقبال نے خدا کے حضور دعا مانگی تھی- مرا نور_ بصیرت عام کردے- یہ دعا جو ایک دردمند دل سے نکلی ضرور قبول ہوگی۔ لیکن صابنوں، تیلوں اور ہوٹلوں اور لانڈریوں کے ساتھ اس شاعر عظیم کا نام منسوب ہوتے دیکھ کر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا نور_ بصیرت بہت دیر تک جہالت کی تنگ اور اندھیری گلیوں میں بھٹکتا رہے گا۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد_ ناداں پر کلام_ نرم و نازک بے اثر
تلخ،ترش اور شیریں۔۔سعادت حسن منٹو

0 comments so far,add yours