جب میں نے "آگ کا دریا" لکھنا شروع کیا، آخری عہد کی چمپا باجی کی تخلیق کرتے ہوئے اجّو باجی کی اس شخصیت کو سامنے رکھا۔ اور پیرس میں ایک ہندوستانی لڑکی ملی جس کے پیچیدہ کردار نے "سیتا ہرن" کی ہیروئن کی تخلیق میں اعانت کی۔
("کار جہاں دراز ہے"، دوم، صفحہ:93)
تلمیحات اور علامتوں سے عمومی بے نیازی کی وجہ سے مختلف رسالوں میں مزید عجیب و غریب تاویلیں کی گئیں۔ مصنفہ نظریۂ تناسخ کی قائل ہیں۔ مصنفہ بدھسٹ ہیں۔ ہندو ہیں۔ اسرائیل پرست ہیں وغیرہ وغیرہ۔
دوسری روایت ہندوستان میں یہ تیار ہوئی کہ مصنفہ کو اس ناول کی اشاعت کے بعد پاکستان میں بے حد پرسیکیوٹ کیا گیا۔ ان پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا اور بے چاری کو وہاں سے بھاگ کر ہندوستان میں پناہ لینی پڑی اور ہندوستان میں یہ اب تک مشہور ہے کہ پاکستان میں یہ ناول بین کر دیا گیا تھا۔
دوسری متھ یہ تیار ہوئی کہ اس کتاب کی رائلٹی نے دونوں ملکوں میں مصنفہ کو مالا مال کر دیا۔ جدید اردو ادب کی تاریخ میں یہ پہلا کثیر الاشاعت ناول ہے جس کی رائلٹی کا ایک پیسہ مصنف کو آج تک نہیں ملا۔
یہ زمانہ چور ناشروں کی دھاندلی اور بے ایمانی اور چوری اور سینہ زوری اور بدتمیزی کا ہے۔
("کار جہاں دراز ہے"، دوم، صفحہ: 74، 273)
لوگوں نے یہاں تک کہا کہ میں نے Orlando پڑھ کر "آگ کا دریا" لکھا ہے یعنی اس سے زیادہ حماقت کی بات ہو ہی نہیں سکتی۔
("شاعر"، ممبئی، جولائی 1978)
اس ناول ("آگ کا دریا") کے متعلق افسانہ طرازی اور افواہوں کا سلسلہ اس قدر مستحکم ہو چکا ہے کہ اس کی تردید اب میرے بس کی بات نہیں رہی۔ حال ہی میں قدرت اللہ شہاب مرحوم کا "شہاب نامہ" شائع ہوا۔۔۔اس کتاب میں ایک جگہ وہ فرماتے ہیں۔۔۔"مارشل لا لگتے ہی ایک روز صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے ہاں آئی۔ بال بکھرے ہوئے، آنکھیں پریشاں۔ آتے ہی بولی اب کیا ہو گا۔۔۔تو گویا اب بھونکنے پر پابندی عائد ہے۔ عینی نے بڑے کرب سے پوچھا۔۔۔۔آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ آنسو چھپانے کے لیے اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کسی قدر لاپرواہی سے کہا ، ارے بھائی روز روز بھونکنا کون چاہتا ہے لیکن بھونکنے کی آزادی بھی تو عجیب نعمت ہے۔۔۔میرا اندازہ ہے کہ۔۔۔سنسر شپ کے تخیل ہی سے اس کے ذہن کو بڑا شدید جھٹکا لگا۔ کچھ عجب نہیں اسی جھٹکے کے رد عمل نے اس کے قلم کی باگ "آگ کا دریا" کی طرف موڑ دی ہو۔" شہاب صاحب بے حد نیک اور شریف انسان تھے۔ غلط بیانی کا الزام نہیں لگایا جاسکتا لیکن ان کے حافظے نے یقیناً ان کو دھوکا دیا ، کیوں کہ یہ ساری ڈرامائی منظر نگاری افسانہ ہے۔ پیلا بات یہ کہ میں بال بکھرا کر آنکھ میں آنسو بھر کر سرد آہیں نہیں کھینچتی۔ 'بھونکنا' وغیرہ میرا طرز گفتگو نہیں۔ دوسری بات کہ "آگ کا دریا" میں 1956 میں شروع کیا تھا اور 57 میں ختم ہوا۔ مارشل لا اکتوبر 1958 میں نافذ ہوا۔۔۔دسمبر 59 میں مکتبہ جدید نے اسے شائع کیا۔۔۔لہٰذا سنسر شپ کے ذہنی جھٹکے نے میرا قلم "آگ کا دریا" کی طرف نہیں موڑا۔
دسمبر 1959 میں اس ناول کی اشاعت کے چند روز بعد ن۔م۔راشد نے اس پر ریڈیو تبصرہ کیا ۔ ("آہنگ"، کراچی)
دوسرا طویل مضمون ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کا تھا جو ساقی (اپریل 1960) میں چھپا۔۔۔پورا مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے کیوں کہ انھی مرحوم نے اسی ماہ جنگ میں سراج رضوی کا "آگ کا دریا" کے خلاف مضمون چھپنے کے بعد سے اپنے مضمون میں صاحبزادی کی خوب خوب تنقیص کی اور "آگ کا دریا" کے جواب میں ایک ناول بھی تصنیف کیا جس کا نام "سنگم" تھا۔
ناول سنسر کیے جانے کی افواہ غالباً اس وجہ سے پھیلی کہ کتابت کی تصیحا کرتے وقت میں نے کئی جملے اور پیراگراف حذف کر دیے تھے جو پروف ریڈنگ کا عام قاعدہ ہے۔
عجلت میں وہ صفحات اسی طرح پریس میں بھیج دیے ۔ ایک باب میں محض "ہندوستان 1947 لکھا تھا۔ اس کی نہایت احمقانہ تاویل یہ کی گئی کہ باقی عبارت سنسر کی نذر ہو چکی ہے۔
(عرض مصنف، "آگ کا دریا"، پہلا ہندوستانی قانونی ایڈیشن، 1989، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی)
یہ بھی ہوا کہ میرے ناول "آگ کا دریا" کے ایک باب کو کتاب سے الگ کر کے ایک علیحدہ ناول کے طور پر شائع کر دیا گیا اور اس کا عنوان رکھا گیا ہے "فصل گل آئی یا اجل آئی"۔
("بیسویں صدی"، دہلی، اکتوبر 1991)
(قرہ العین حیدر کے چند انٹرویوز کا مجموعہ - اشعر نجمی)

0 comments so far,add yours