ادائے فرض کر کے باپ بیٹے سے ہوا رخصت
بجا لانا تھی ملک شام میں‌ تبلیغ کی خدمت

مگر فرزند سے ہر سال آ کر مل بھی جاتے تھے 
ادائے حج کی خاطر اس طرف ہر سال آتے تھے 

پھر اس محنت کے بعد آرام سے سونے کا دن آیا
خلیل اللہ کے واصل بحق  ہونے کا دن آیا 20

بالآخر جا بسے حضرت دیارِ  جاودانی میں
بقا ہے بس خدا کی ذات کو اِ س دارِ  فانی میں

رسالت آج فرزندانِ  ابراہیم نے پائی 
خدا نے یہ امانت اب انہیں تفویض فرمائی

ذبیح اللہ ہوئے مرسل عرب کے رہنے والوں پر
ہوئے مامور اہلِ  شام پر اسحٰق پیغمبر

خدا کے فضل سے ہستی ہوئی دلشاد دونوں کی
بڑھی ہر دو ممالک میں بہت اولاد دونوں کی


بنی اسرائیل

ہوئے اسحٰق کے فرزند اسرائیل پیغمبر
ملے فرزند انہیں بارہ بفضلِ   حضرت داور

ان ہی میں‌ حضرت یوسف نے مرسل کا لقب پایا
خدا نے ان کو اہلِ  مصر پر مبعوث فرمایا

یہ ایسے تذکرے ہیں جو زبانوں پر فسانہ ہیں 
برادر حضرت یوسف کے مشہور زمانہ ہیں  21

یہودی قوم کا آغاز انہیں بارہ سے ہوتا ہے 
یہودہ اِن کا جد ، اسحٰق پیغمبر کا پوتا ہے 

مگر شیطاں‌ نے ان پر بھی دامِ  شرک پھیلایا
تو انبوہِ  کثیر اس قوم کا حق سے پلٹ آیا

یہ قوم اپنے کو خاصانِ  خدا کی قوم کہتی تھی
مگر کرتوت ایسے تھے بہت معتوب رہتی تھی

ہوئے اس قوم میں اکثر جلیل الشان پیغمبر 
چلانا چاہتے تھے جو اسے حق و صداقت پر

یہودی جانے بوجھے راہِ  حق کو بھول جاتے تھے 
وہ اپنے رہنماؤں پر ہمیشہ ظلم ڈھاتے تھے 

کیا تھا مصر میں فرعون نے دعویٰ خدائی کا
یہودی قوم دم بھرتی تھی اس سے آشنائی کا

عتاب آخر کیا شاہنشہوں کے شاہ نے ان پر
مسلط کر دیا فرعون کو اللہ نے ان پر

کہ یہ بھی اِ ک طریقہ تھا انہیں رستے پہ لانے کا
انہیں ٹھوکر لگا کر خوابِ  غفلت سے جگانے کا

بہت پستی دکھائی آخر اِ س افتاد نے ان کو
لگائیں ٹھوکریں فرعون کی بیداد نے ان کو

مگر فرعون کے ظلم و ستم جب بڑھ گئے حد سے 
لگے عبرت پکڑنے لوگ اِ ن کی حالتِ  بد سے 

خدائے پاک نے موسیٰ‌کو ان میں‌ کر دیا پیدا
جو بچپن ہی سے آزادی و حریت پہ تھے شیدا

ظہورِ  نورِ  حق موسیٰ کو سینا پر نظر آیا
خدا نے جانبِ ‌فرعون انہیں مبعوث فرمایا

یدِ  بیضا کے ساتھ اِس خطہ ظلمت میں در آئے 
یہودی قوم کو آزاد کر کے مصر سے لائے  22

جگایا قوم کی تقدیر کو آوازِ  موسیٰ نے 
کیا فرعون کو غرقابِ  نیل اعجازِ  موسیٰ  نے 23

عصائے موسوی نے پتھروں کو آب کر ڈالا 24
بیابانوں کو ان کے واسطے شاداب کر ڈالا

یہی وہ قوم ہے جس کے لئے نعمت کے مینہ برسے 
کہ اترے من و سلویٰ  اِ ن کی خاطر آسماں پر سے 25

مگر جب آزمائش آ پڑی یہ قوم گھبرائی 
رہی باطل کی طالب اور راہِ  حق سے کترائی 

کہا موسیٰ نے " اٹھ اے قوم باطل کی مقابل ہو
تری عزت بڑھے جگ میں ترا ایمان کامل ہو

تو بولی قوم اے موسیٰ ہمیں‌ آرام کرنے دے 
خدا کی نعمتیں ملتی ہیں‌ اِ ن سے پیٹ بھرنے دے 

خدا کو ساتھ لے جا اور باطل سے لڑائی کر
ہمارے واسطے خود جا کے قسمت آزمائی کر

ہمیں‌ کیوں ساتھ لے جاتا ہے دنیا سے اجڑنے کو
خدا اور اُس کا پیغمبر بہت کافی ہے لڑنے  26

ڈرایا بارہا موسیٰ نے ان کو قہر باری سے 27
مگر اس قوم کو مطلب رہا مطلب برآری سے 

کبھی رفعت پر آئی بھی تو سوجھی اس کو پستی کی
کہ چھوڑی حق پرستی اور گوسالہ پرستی کی

رکھی دنیا میں راہ و رسم حرص خام سی اس نے 
دکھائی سرکشی تورات کے احکام سے اس نے 

دلائی حضرت داؤد نے اس قوم کو شاہی
مگر اس نے نہ چھوڑی کم نگاہی اور گمراہی

زبور اس قوم کو بخشی گئی لیکن نہ یہ مانی
یہ اپنی حمد کرتی تھی بجائے حمد ربانی

بڑی شوکت ملی اس قوم کو عہد سلیماں 28 میں
عظیم الشان ہیکل ہو گئی تعمیر کنعاں میں

مگر یہ قوم اکثر راہ پر آ کر پلٹتی تھی
نہ دینداری میں بڑھتی تھی، نہ بے دینی سے ہٹتی تھی

اسے ایوب و زکریا و یحیی نے بھی سمجھایا
چلن اس قوم کا لیکن نہ راہ راست پر آیا

ہو منزل گمرہی جن کی وہ کیونکر راہ پر آئیں
ملیں اس قوم سے پیغمبروں کو سخت ایذائیں

یہ جھٹلاتی رہی ہر اک نصیحت کرنے والے کو
یہ اندھی تھی، اندھیرا جانتی تھی ہر اجالے کو

مسیح ابن مریم نے بہت اس کو ہدایت کی
مگر یہ آخری دم تک رہی منکر رسالت کی

یہ جھٹلاتی رہی انجیل کی سچی منادی کو
یہ سولی پر چڑھانے لے گئی اس پاک ہادی کو

خلیل اللہ سے جو وعدہ کیا تھا حق تعالیٰ نے 
وہ پورا کر دیا ہر طور سے اس ذات والا نے 

وطن بخشا گیا اس کو نمونہ باغ جنت کا
مگر اس قوم میں جذبہ نہ تھا اس کی حفاظت کا

ملی اسحٰق کی اولاد کو شان حکومت بھی
متاع دنیوی بھی اور روحانی رسالت بھی

مگر اس قوم نے ٹھکرا دیا ہر ایک نعمت کو
یہ بھڑکاتی رہی ہر دور میں اللہ کی غیرت کو

نتیجہ یہ ہوا کفران نعمت کی سزا پائی
 عمل جیسے کیے ویسی در حق سے جزا پائی 29

خدا سے سرکشی کی سر جھکایا پائے دشمن پر
رہا اغیار کا پنجہ مسلط اس کی گردن پر

سبھی اہل ستم کرتے رہے اس پر ستم رانی 30
فنیقی ، بابلی، مصری، اسیری اور رومانی

 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
کہ جس نے اپنے ہاتھوں اپنی خو خصلت نہیں بدلی


عرب میں بنی اسماعیل کے پھولنے پھلنے کا بیان

ذبیح اللہ کی اولاد کا بھی ماجرا سن لو
وہاں وعدہ خدا کا کس طرح پورا ہوا سن لو

 گھرانے میں نبی جرہم کے پیغمبر نے شادی کی  31
خدا کے گھر سے قسمت جاگ اٹھی اس خشک وادی کی

 پسر بارہ دیئے اللہ نے اس پاک ہستی کو  32
بسایا یوں عرب کی ہر بلندی اور پستی کو

بسائیں بستیاں گیارہ نے کوہ و دشت و صحرا میں
رہا قیدار بیت اللہ کی خدمت کو بطحا میں

قریب کعبۃ اللہ شہر مکہ کی بنا ڈالی
پسر اس کے ہوئے کعبے کے خادم شہر کے والی


انقلابات عالم اور عرب

بنی آدم کی دنیا میں ہزاروں انقلاب آئے 
جہاں میں سینکڑوں طوفان اٹھے لاکھوں عذاب آئے 

بہت قومیں اٹھیں اور چھا گئیں میدان ہستی پر
پھریرے خوب اڑائے ہر بلندی اور پستی پر

غنیم مرگ کے قدموں تلے روندی گئیں آخر
اکڑ کر چلنے والے دب گئے زیر زمیں آخر

خزاں منڈلا گئی شدادیوں کے سبز گلشن پر
سیاہی چھا گئی آبادیوں کے روز روشن پر

ہوئے پیوند خاک آخر اسیری اور کلدانی
سر افرازوں کی شوکت موت نے کچھ بھی نہیں مانی

نہیں رہتا ہمیشہ ساز ہستی ایک ہی دھن پر
کھنڈر ہنسنے لگے بابل کے نمرودی تمدن پر

ہوا دریا میں بیڑہ غرق فرعونی خدائی کا
فسانہ رہ گیا ہندوستانی دیوتائی کا

بگاڑیں خاک نے شکلیں فلاطونی خیالوں کی
دھری ہی رہ گئیں سب حکمتیں یونان والوں کی

سکندر اور اس کے وہ عظیم الشان منصوبے 
کہیں ابھرے نہیں بحر فنا میں اس طرح ڈوبے 

فقط اہل عرب اس منقبل دنیا میں ایسے تھے 
کہ روز اولیں سے آج تک ویسے کے ویسے تھے 

یہ ملک ایسا تھا حاصل ان کو آزادی کی نعمت تھی
قبیلے آپ خود مختار تھے اپنی حکومت تھی

عرب پر کوئی دشمن حملہ آور ہو نہ سکتا تھا
کوئی فاتح بری نیت سے اس جانب نہ تکتا تھا

کوئی لشکر ہوا بھولے سے اس کی فتح پر مائل
تو صحرائے عرب ہوتا تھا اس کی راہ میں حائل

ہوئے جو لوگ اس پر حملہ آور مر گئے پیاسے 
یہ خطہ رہ گیا اوجھل نگاہ اہل دنیا سے 

  بڑھی اولاد اسمٰعیل میں عدنان 33 کی شوکت 
عرب کو آل اسمٰعیل سے حاصل ہوئی قوت

  یہودی قوم پر دنیا میں جب کوئی بلا آئی 34
تو اس نے آل اسماعیل کے گھر میں اماں پائی

خدا کے نام پر اب تک یہودی اور عدنانی
ادا کرتے تھے مکے میں رسوم حج و قربانی

مگر ہونے لگے جب قلب مائل بت پرستی پر
  بنی جرہم نے قبضہ کر لیا مکے کی بستی پر 35

مگر پھر آل اسماعیل قابض ہو گئی اس پر
عرب میں تھی یہ طاقتور بفضل حضرت داور



مکہ پر یمن والوں کا حملہ اول اور قریش کی مدافعت
کیا حملہ یمن کے لشکروں نے اہل مکہ پر
غرض یہ تھی کہ اپنے گھر  میں لے جائیں خدا کا گھر

یمن میں ان دنوں حسان نامی ایک حاکم تھا
اسے مکے کی رونق دیکھ کر دل میں خیال آیا

کسی صورت سے توڑوں آل اسمعیل کی شوکت
اسی کعبے کے دم سے ان کی دنیا بھر میں ہے عزت

اگر کعبہ گرادوں اس کے پتھر ساتھ لے جاؤں
یمن میں ان سے اک کعبہ نیا تعمیر کرواؤں

یہ ہو جائے تو پھر سب لوگ میری سمت آئیں گے 
کریں گے عاجزی نذریں نیازیں ساتھ لائیں گے 

یہ سوچا اور چڑھ دوڑا یمن کی فوج کو لے کر
کیا آ کر اچانک اس نے حملہ شہر مکہ پر

یہاں پر خادم کعبہ کنانہ کا گھرانا تھا
اسی میں فہر بن مالک تھا جو مرد یگانہ تھا

یمن کی اس جسارت سے بہادر طیش میں آیا
مسلح کر کے سارا خانداں میدان میں لایا

مقابل ڈٹ گیا یہ شیر لاتعداد فوجوں کے 
چٹانوں کی طرح رو کے تھپیڑے تند موجوں کے 

شکست فاش دی اس نے یمن والوں کے لشکر کو
تعاقب کر کے قبضے میں لیا لشکر کے افسر کو

 یہ ایسی فتح تھی 36 جس سے قریش اس کا لقب ٹھہرا
یہ اک نامی قبیلہ بن گیا  ، فخر عرب سارا

قریش اہل عرب میں نام ہے اس ویل مچھلی کا
سمندر میں کوئی ثانی نہیں جس کی بڑائی کا

قریش اولاد اسماعیل میں تھے سب سے طاقتور
یہی کعبے کے خادم تھے یہی تاجر یہی افسر

 قصی 37 ابن کلاب ان میں بڑا ہی شان والا تھا
بڑا زیرک مدبر تھا ، بڑے سامان والا تھا

ہوا عبد مناف 38 اس کا پسر ، اس کا پسر ہاشم 39
پسر تھے اور بھی سردار تھا سب کا مگر ہاشم 

پسر ہاشم کا عبدالمطلب 40 سردار مکہ تھا 
یہی تھا خادم کعبہ یہی مختار مکہ تھا

مگر اس خدمت کعبہ کے معنیٰ اور ہی کچھ تھے 
یہ فرزندان اسمعیل یعنی اور ہی کچھ تھے 


عرب میں زمانہ جاہلیت

الگ تھے ساری دنیا سے مگر یہ لوگ خوش دل تھے 
انہیں آزادیوں کی زندگی کے عیش حاصل تھے 

مگر آزادیوں نے ان کو کھویا دین و دنیا سے 
ہوئے گمراہ یہ برگشتہ ہو کر حق تعالیٰ سے 

کیا اخلاف نے اسلاف کے اوصاف کو زائل
رہِ  حق چھوڑ کر سب پرستی پر ہوئے مائل

شجاعت تھی مگر اس کا ہدف اپنے ہی بھائی تھے 
یہ سب اک دوسرے کو ذبح کرنے میں قصائی تھے 

فصاحت کا تھا استعمال ہجو اور خودستائی میں
نظر میں کوئی جچتا ہی نہ تھا ساری خدائی میں

بیاں کرتے تھے اپنے شرمناک اور فحش کاموں کو
سر بازار کہہ دیتے تھے اپنے کارناموں کو

رعونت نے دماغوں میں ہوائے خود سری بھر دی
خشونت ایک عادت دوسری عادت تھی بے دردی

عرب اولاد اسمعیل سے معمور تھا سارا
گناہوں کی جہالت کے نشے میں چور تھا سارا

جو صحرائی تھے قتل و رہزنی میں خوب ماہر تھے 
نشانِ  بربریت ان کے چہروں ہی سے ظاہر تھے 

ترقی اور تمدن کی ہوا ان تک نہ آتی تھی
کوئی مرکز نہ تھا خانہ بدوشی ان کو بھاتی تھی

بہادر تھے مگر سب کے سب آپس میں لڑتے تھے 
قبیلہ در قبیلہ معرکے ہر سال پڑتے تھے 

جو شہری تھے وہ فن و پیشہ و حرفت سے عاری تھے 
مگر مکر و دغا بازی میں پورے کاروباری تھے 

نہ کوئی کام کرتے تھے نہ کوئی کام آتا تھا
انہیں بے کار و کاہل بیٹھ رہنا دل سے بھاتا تھا

یہ جائز جانتے تھے مال کھا جانا یتیموں کا
لٹانا دعوتوں میں مال شیوہ تھا کریموں کا

پدر فرزند کی بیواؤں کا حق چھین لیتے تھے 
پسر اپنی حقیقی ماؤں کا حق چھین لیتے تھے 

کوئی معیار ہی باقی نہ تھا شرم و شرافت کا
کہ رتبہ بھیڑ بکری سے بھی کم تھا ایک عورت 41 کا

زنا و فحش کاری سے بڑی ان کو ارادت تھی
شرابیں پی کے ننگے ناچنے کی عام عادت تھی

شرافت کو ڈبو دیتے تھے جب عورت پہ مرتے تھے 
کہ جس عورت پہ مرتے تھے اسے بدنام 42کرتے تھے 

زناکاری کی ترغیبیں سرِ  بازار دیتے تھے 
یہ اپنی بیویوں تک کو جوئے میں ہار دیتے تھے 

یہ اپنی بیٹیوں کو سانپ سے بدتر سمجھتے تھے 
یہ ان کے قتل کو عزت کا ایک جوہر  43سمجھتے تھے 


اگر جن بیٹھتی دختر کوئی تقدیر کی ہیٹی
چھچھوندر سے بری معلوم ہوتی تھی اسے بیٹی 44

گڑھا اک کھود کر دختر کو زندہ گاڑ دیتی تھی
کوئی بچھو تھا دامن میں کہ دامن جھاڑ دیتی تھی

کوئی کم بخت بد اختر اگر زندہ بھی رہتی تھی
ہمیشہ باپ کے اور بھائیوں کے ظلم سہتی تھی

غلاموں لونڈیوں پر وہ مظالم توڑتے تھے یہ
کہ ان کو موت سے پہلے نہ ہرگز چھوڑتے تھے یہ 

عرب میں ہر طرف تھا دور دورہ بت پرستی کا
 کوئی اندازہ کر سکتا ہے ان لوگوں کی پستی 45 کا

خدا کہتے تھے مٹی، آگ ، پانی کو ہواؤں کو
پہاڑوں اور دریاؤں کو بجلی کو گھٹاؤں کو

زمیں پر خاک پتھر اور شجر معبود تھے ان کے 
فلک پر انجم و شمس و قمر معبود تھے ان کے 

مرادیں مانگتے تھے ہر وجود بے حقیقت سے 
نہ تھا محروم کوئی جز خدا ان کی عبادت سے 

وہ کعبہ جو خدائے واحد و قہار کا گھر تھا
وہ کعبہ جو خدائے مالک و مختار کا گھر تھا  

وہی کعبہ جسے پیغمبروں کی سجدہ گاہ کہیے 
وہی کعبہ جسے تقدیس کا نورِ  نگہ کہیے 

وہ کعبہ جو خدا کے بت شکن بندوں کا معبد تھا
جسے پاکیزہ رکھنا فطرتِ  انساں کا مقصد تھا

اسی کعبے کو یاروں نے صنم خانہ بنا ڈالا
دلوں سے ظالموں نے نقش وحدت کا مٹا ڈالا

نہ سوجھا کوئی فرق ان کو خدا میں اور پتھر میں
کہ رکھے تین سو ساٹھ بت اللہ کے گھر میں

عرب میں جس قدر انسان تھے ان سے سوا بت تھے 
یہ خلقت تھی خدا کی اور خلقت کے خدا بت تھے 

جدا اک اک خدا تھا ہر قبیلے ہر گھرانے کا
کوئی بت فتح پانے کا کوئی بت بھاگ جانے کا

بازار عکاظ

یہاں پر کھینچ کر ہلکا سا نقشہ ان کے میلوں کا
دکھا دوں حال بے دینی کا جھگڑوں کا جھمیلوں کا

حدود مکہ سے دس کوس پر چھوٹا سا میداں ہے 
جہاں خیمے لگے ہیں جمع اک انبوہ انساں ہے 

عرب کے لوگ اس انبوہ کو بازار کہتے ہیں
برس کے بعد آ کر اس جگہ کچھ روز رہتے ہیں

بنو کلب و بنو نہد و بنو تغلب ، بنو کندہ
بنو اوس و بنو خزرج ، بنو دوس و بنو عذرہ

بنو لحم و بنو مرجح، بنو طے و بنو اسلم
جہینہ اور خزاعہ اور بجیلہ اور بنو خشعم

یہ قحطانی قبائل دور سے میلے میں آئے ہیں
سب اپنے اپنے بچوں بیویوں کو ساتھ لائے ہیں

ہوازن اور عدنان اور اطفان اور اعصر بھی
غنی بھی ، بابلہ بھی ، عبس بھی ذبیان و عامر بھی

قریش و سعد و نصر و کعب و مرہ بھی فزارہ بھی
بنی تیم و بنی عدی سلول اور آل قارہ بھی

یہ عدنانی قبائل اور شاخیں بھی سبھی ان کی
عرب کی سرزمینِ  خشک اب تک مِ لک ہے جن کی

جوان و پیر و مردو زن یہاں آئے ہوئے ہیں سب
غرور و عجب سے چہروں سے چہروں کا چمکائے ہوئے ہیں سب

تمازت سے بچانے کو کھڑے ہیں جا بجا خیمے 
زمیں کے جسم پر یہ سوز کے چھالے ہیں یا خیمے 

حجازی بدوؤں نے کالے کمبل تان رکھے ہیں
کھڑے ہیں اونٹ بھی اور ساتھ ہی سامان رکھے ہیں

یمن، نجد و عراق و شام کے سوداگر آئے ہیں
پکھا لیں کملیاں ستو کھجوریں ساتھ لائے ہیں

کوئیں ہیں چند نخلستان میں جن کے گرد میلا ہے 
گرے پڑتے ہیں پانی کے لیے لوگوں کا ریلا ہے 

جوانان عرب کیا اینڈتے پھرتے ہیں راہوں میں
دلوں کے ولولے ڈوبے ہوئے ہیں سب گناہوں میں

ہزاروں نیم عریاں عورتیں ہر سمت پھرتی ہیں
نہ گھیریں آ کے مرد ان کو تو خود جا جا کے گھرتی ہیں

قبائل کے جو ہیں سردار پتلے ہیں رعونت کے 
عیاں ہیں ان کے ہر انداز سے انداز نخوت کے 

کمر سے نیچے ہیں تہبند باقی جسم ننگے ہیں
وجاہت پر مگر تکرار ہے جھگڑے ہیں دنگے ہیں

ہیں ایسے مرد بھی ان میں کہ منہ پر ہے نقاب ان کے 
حیا ان کی نرالی ہے انوکھے ہیں حجاب ان کے 

کمر سے کھول کر تہبند گھٹنوں پر لپیٹے ہیں
نہیں کچھ ستر کی پروا کہ یہ آدم کے بیٹے ہیں

شرابیں پی رہے ہیں اور قے بھی کرتے جاتے ہیں
شکم میں اور دامن میں نجاست بھرتے جاتے ہیں

دوشیزہ لڑکیاں مردوں کے آگے دف بجاتی ہیں
نشے میں جھومتی ہیں ناچتی ہیں اور گاتی ہیں

ذرا سی بات پر تلوار کھنچ جاتی ہے آپس میں
غضب کا شور و غوغا ہے کہیں گالی کہیں قسمیں


جاہلیت کی عبادت

سر شام اس سیہ کاری کا دامن اور بڑھتا ہے 
شراب عیش پر دیوانگی کا رنگ چڑھتا ہے 

صدائیں سیٹیوں کی اور گھڑیالوں کی آتی ہیں
عبادت کے لیے ان بیوقوفوں کو بلاتی ہیں

مثنٰے اپنے بت کا ہر قبیلہ ساتھ لایا ہے 
یہ مٹی کے خدا ہیں ان کو گہنوں سے سجایا ہے 

بتوں پر اونٹ بکرے آدمی قربان ہوتے ہیں
غریب ان پتھروں کے واسطے بیجان ہوتے ہیں

قریش اپنے ہبل کا ایک مثنیٰ لے کے آئے ہیں
اسی کے گرد ان لوگوں نے خیمے بھی لگائے ہیں

بٹھا رکھا ہے پتھر کے خدا کو ایک پتھر پر
کھڑے ہیں گرد اس کے اہل مکہ ساکت و ششدر

بھجن گاتی ہیں جاہل عورتیں اور دف بجاتی ہیں
بہا کر اونٹ کا خون اپنی قربانی چڑھاتی ہیں

وہ دیکھو دے رہی ہیں خون کے چھینٹے عزیزوں پر
وہ چھڑکا جا رہا ہے خون ہی کھانے کی چیزوں پر

وہ دیکھو سب اسی پتھر کے آگے سر جھکاتے ہیں
جبیں پر کالے کالے خون کے ٹیکے لگاتے ہیں

بپا ہے وحشیانہ سیٹیوں کا شور ہر جانب
عقیدت دیکھیے ہے چیخنے پر زور ہر جانب

پجاری چیختے ہیں، ناچتے ہیں، گھنٹ بجتے ہیں
پرستش ہے یہی ان کی جسے مذہب سمجھتے ہیں

اچھلتے کودتے سب لوگ گرد اس بت کے پھرتے ہیں
ہر اک چکر کے بعد اکبارگی سجدے میں گرتے ہیں

قبائل محو ہیں اس لعنتی طرزِ  عبادت میں
یہ میلہ کہلم ڈوبا ہوا ہے بحر لعنت میں

یہ نقشہ دیکھ کر سورج نے آنکھیں بند کر لی ہیں
زمیں نے ہر طرف تاریکیاں دامن میں بھر لی ہیں


شاعری کے برے پہلو

اکھاڑہ شاعری کا دیدنی ہے اس جھمیلے میں
کہ اکثر لوگ اسی کے واسطے آئے ہیں میلے میں

جوان و پیر و مردو زن ہیں یک جا ہر قبیلے کے 
بڑے ٹھسے سے ہیں بیٹھے ہوئے افسر قبیلے کے 

یہاں بوڑھے جوانوں سے زیادہ تن کے بیٹھے ہیں
جواں بھی کم نہیں مد مقابل بن کے بیٹھے ہیں

حسینہ عورتیں بیٹھی ہوئی نخرے دکھاتی ہیں
یہ اپنے شوہروں اور آشناؤں کو لبھاتی ہیں

تبسم ہے کہ بجلی ہے نگاہیں ہیں کہ چھریاں ہیں
حیا کیسی کہ آدھے سے زیادہ جسم عریاں ہیں

یہ عشوے اور غمزے مرد ہی ان کو سکھاتے ہیں
حیا و شرم کے جوہر یہ ظالم خود مٹاتے ہیں

ہزاروں نازنیں آنکھیں حیا داری سے خالی ہیں
نقاب افگندہ ہیں ان میں جو طبعاً شرم والی ہیں

غرض یہ سب کے سب گھیرے ہوئے بیٹھے ہیں میداں کو
مزے سے سن رہے ہیں شاعروں کے سوزو حرماں کو

قبیلے اپنے اپنے شاعروں پر ناز کرتے ہیں
قصائد اپنی اپنی شان میں سن کر بپھرتے ہیں

وہ اٹھ کر ایک شاعر بر سر میدان آیا ہے 
خود اپنی شان میں پورا قصیدہ کہہ کے لایا ہے 

قبیلہ میرا ایسا ہے ، میں خود ایسا ہوں ویسا ہوں
میں چاندی ہوں میں سونا ہوں میں دھیلا ہوں میں پیسہ ہوں

وہ پتھر بھی خدا میرا، یہ پتھر بھی خدا میرا
وہ مجھ کو پالنے والا ہے یہ حاجت روا میرا

فلاں ابن فلاں ہوں اس لیے پکا دلاور ہوں
تخیل ہے مرا خونیں سمندر میں شناور ہوں


بہت سی عورتوں سے عشقبازی کر چکا ہوں میں
اب اس پر مر رہا ہوں، پہلے اس پر مر چکا ہوں میں

فلاں کی اور فلاں کی عصمتیں میں نے بگاڑی ہیں
یہ سب بستی ہوئی آبادیاں میں نے اجاڑی ہیں

یہ عورت مجھ پر مرتی ہے ، وہ عورت مجھ سے ڈرتی ہے 
یہ مجھ سے ملتفت ہے اور وہ پرہیز کرتی ہے 

میں اس کو چھوڑ دوں گا اور اسے قابو میں لاؤں گا
بغیر وصل دہنے ہاتھ سے کھانا نہ کھاؤں گا

غرض یہ شاعری دکھلا کے شاعر بیٹھ جاتا ہے 
تو پھر اک دوسرا آتا ہے اور محفل جماتا ہے 

بہا دیتا ہے سوکھے دشت میں دریا فصاحت کے 
دکھا دیتا ہے نقشے کھینچ کر اپنی حماقت کے 

یہ شاعر اس طرح جن عورتوں کا نام لیتے ہیں
جنہیں فحش و زناکاری کے یوں الزام دیتے ہیں

مزا یہ ہے کہ ان میں سے یہیں موجود ہیں اکثر
پھر ان میں بعض شوہر دار ہیں اور بعض بے شوہر

وہ سب بیٹھی ہوئی ہنستی ہیں اس افشاء حالت پر
کوئی ذلت کا دھبہ ہی نہیں گویا شرافت پر

ذرا کچھ آنکھ شرمائی تو اس نخرے سے شرمائی
بھری محفل میں گویا حسن و خوبی کی سند پائی

غرض شاعر پہ شاعر باری باری آئے جاتے ہے 
زبان گرم سے بزم سخن گرمائے جاتا ہے 

کوئی اترا رہا ہے آبِ  خنجر کی روانی پر
کوئی اکڑا ہوا ہے اپنے فخر خاندانی پر

کسی کو فخر ہے اپنی شجاعت پر سخاوت پر
کسی کو ناز ہے اپنی فصاحت پر بلاغت پر

کوئی کہتا ہے ہم نے رہزنی میں نام اچھالا ہے 
کوئی کہتا ہے ہم نے عشق کو سانچے میں ڈھالا ہے 

کوئی کہتا ہے ہم سفاک ہیں ، ظالم ہیں ، قاتل ہیں
کوئی کہتا ہے ہم بے کار ہی رہنے میں کامل ہیں

بتاتا ہے کوئی تعداد لونڈی اور غلاموں کی
وہ لڑکا اتنے داموں کا یہ لڑکی اتنے داموں کی

یہ طرز خو ستائی اک زمانے سے نرالی ہے 
یہ ہے اس ڈھول کی آواز جو اندر سے خالی ہے 


میلے میں جنگ کا آغاز


یہ محفل گرم تھی لیکن یہاں اک اور گل پھولا
اٹھا شور اک طرف سے شاعر اپنی داستاں بھولا

پڑی افتاد کوئی ہو ئی بزم سخن برہم!
کوئی طوفان اٹھا جس نے کر دی انجمن برہم

جمے تھے کان ان کے شاعروں کی داستانوں پر
مغلظ گالیاں کیوں آ گئیں ان کی زبانوں پر

یہ کیوں گالی گلوچ اور مار دھاڑ آپس میں ہوتی ہے 
یہ عورت کون ہے کیوں پیٹتی ہے اور روتی ہے 

یہ کیوں اٹھی ہے خلقت تیغِ  خوں آشام لے لے کر
پکارے جا رہے ہیں کیوں قبیلے نام لے لے کر

نظر آتی ہیں کیوں ہر سمت تلواریں ہی تلواریں
یہ کس نے مار ڈالا سرخ کیوں کر ہو گئیں دھاریں

سبب اس برہمی کا کچھ نہیں کھلتا خدا جانے 
یہ باہم جنگ کیوں کرنے لگے ہیں اٹھ کے دیوانے 

سبھی الجھے ہوئے ہیں کون سنتا کون کہتا ہے 
مگر لاشوں پہ لاشیں گر رہی ہیں خون بہتا ہے 

کوئی اتنا نہیں جو اس لڑائی کا سبب پوچھے 
فروزاں کیوں ہوئی یہ آتش قہر و غضب پوچھے 

کسی پر چل گیا خنجر کسی پر چل گیا بھالا
گرا جو زخم کھا کر اس کو قدموں نے کچل ڈالا

فغاں ہے شور ہے چیخیں ہیں شوریدہ نوائی ہے 
بتوں کی منتیں ہیں اور بھوتوں کی دہائی ہے 

لہو سے اس زمیں کا نامہ اعمال دھلُتا ہے 
بہت سے کشت و خوں کے بعد اتنا حال کھلتا ہے 

کہ اک لڑکی نقاب اوڑھے ہوئے بیٹھی تھی بیچاری
ودیعت تھی جسے فطرت کی جانب سے حیا داری

شرارت کے لیے تاکا اسے عیاش لڑکوں نے 
اسے دھوکے سے ننگی کر دیا اوباش لڑکوں نے 

بہت سے لوگ بیٹھے تھے کسی نے بھی نہیں روکا
لگے ٹھٹھا اڑانے جب وہ لڑکی کھا گئی دھوکا

مفر کی اس پجاری کو نہ جب صورت دکھائی دی
تو لڑکی نے وہیں اپنے قبیلے کی دہائی دی

دہائی سن کے لڑکی کے لواحق طیش میں آئے 
چمک تلوار کی دیکھی تو وہ لڑکے بھی گھبرائے 

بچاؤ کی کوئی صورت نہ سوجھی ان رذیلوں کو
تو گھبرا کر پکار اٹھے شریر اپنے قبیلوں کو

صدا سنتے ہی ان کے لوگ بھی دوڑے ہوئے آئے 
گھٹاؤں کی طرح دونوں طرف کے جوش ٹکرائے 

اٹھا اب خنجروں کی بجلیوں میں جوش بیداری
لگے سر کٹ کے گرنے خون کی بارش ہوئی جاری 46

پڑی بنیاد جونہی دو گھرانوں میں لڑائی کی
تو لازم تھا کوئی کوشش کرے ان میں صفائی کی

مگر ان کی شریعت اور تھی جس پر یہ تھے عامل
کہ سب کے سب قبیلے ہو گئے اس جنگ میں شامل

کوئی اس کی حمایت میں کوئی اس کی حمایت میں
رہیں گے اب یہ سب مشغول جنگِ جاہلیت میں

یہ سارے خود کو اسمعیل کی اولاد کہتے ہیں
مگر ہم تو انہیں مادر پدر آزاد کہتے ہیں



اس عہد میں دنیا بھر کی عام حالت

ہندوستان


عرب سے بھی زیادہ حال تھا بدحال دنیا کا
کہ سر ابلیس کے رستے میں تھا پامال دنیا کا

مگن تھا گلشن ہندوستاں جنت نشان بن کر
یہاں بھی موت چھائی ایک دن فصل خزاں بن کر

دکھائے تھے بہت کچھ آریوں نے گیان کے جلوے 
بہت چمکے تھے رام اور کرشن سے ایمان کے جلوے 

یہ ہادی تھے مگر ان کو خدا کہنے لگے ہندو
 نرو مادہ کو دیوی دیوتا  47کہنے لگے ہندو

حکومت آ گئی ایسے ستمگاروں کے ہاتھوں میں
 ہوئے تقسیم انساں اونچی نیچی چار ذاتوں میں 48

غلط سمجھے یہ بدھی مان گوتم کی بشارت کو
بلائے بت پرستی نے کیا برباد بھارت کو

 اجاڑا وام مارگ پنتھ 49 نے ایمان کا گلشن
سیہ کاری نے پھونکا دھرم کا کن گیان کا گلشن

نظر میں گھٹ گئی کچھ اس طرح انسان کی قیمت
کہ عصمت بن گئی ہر عیش کے سامان کی قیمت

چین

 ہوئی برباد کنفیوشس 50 کی وہ تہذیب آئینی
جہالت سے شکستہ ہو گئی ہر لعبتِ  چینی

گرے غش کھا کے چینی بدھ کی تصویر کے آگے 
حوادث نے جگایا بھی نہیں جاگے ، نہیں جاگے 

ایران

 متاع فارس کو آتشکدوں 51 نے خاک کر ڈالا
یہ پاک آتش ملی ایسی کہ قصہ پاک کر ڈالا

سکندر کی چلی آندھی گلستان جم و کے پر
تباہی چھا گئی ایران پر توران پر رَے پر

رہی اس قتل گہ میں خونِ  انسانی کی ارزانی
کیانی ظالموں سے بڑھ کے نکلی آل ساسانی

مٹے اس ملک میں انسانیت کے عام جوہر بھی
کہ گھر میں ڈال لیتے تھے مجوسی اپنی دختر بھی

یورپ

فرنگستان میں ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا
یہاں بھیڑیں تھیں جن کو بھیڑیوں نے آ کے گھیرا تھا

وہ رومانی حکومت اک جہاں میں دھوم تھی جس کی
ہمیں تہذیب عریاں آج بھی معلوم ہے جس کی

وہ شیطانی تمدن وہ گنہ کا آخری مامن
وہ شہر پومپی آئی وہ ظلم و جور کا مسکن

وہی رفعت گناہوں نے جسے پستی پہ دے مارا
کرو اس آخری شب کا مری آنکھوں سے نظارا

شہر پومپی آئی کی آخری رات

سیاہی بن کے چھایا شہر پر شیطان کا فتنہ
گناہوں سے لپٹ کر سو گیا انسان کا فتنہ

پناہیں حسن نے پائیں سیہ کاری کے دامن میں
وفاداری ہوئی روپوش ناداری کے دامن میں

میسر ہیں زری کے شامیانے خوش نصیبی کو
اڑھا دی سایہ دیوار نے چادر غریبی کو

مشقت کو سکھا کر خوبیاں خدمت گذاری کی
ہوئیں بے خوف بے ایمانیاں سرمایہ داری کی

لیا آغوش میں پھولوں کی سیجوں نے امیری کو
مہیا خاک ہی نے کر دیئے آسن فقیری کو

تڑپنا چھوڑ کر چپ ہو گئے جی ہارنے والے 
مزے کی نیند سوئے تازیانے مارنے والے 

وہ روحانی وہ جسمانی عقوبت کم ہوئی آخر
غلامی بیڑیوں کے بوجھ سے بے دم ہوئی آخر

ہوئے فریادیوں پر بند ایوانوں کے دروازے 
کہ خود محتاج درباں ہیں جہانبانوں کے دروازے 

ادائے ناز سے جا سوئی غفلت بادشاہوں کی
سرور و کیف بن کر چھا گئیں نیندیں گناہوں کی

شرابیں پی پلا کر ہو گئے خاموش ہنگامے 
بالآخر نیند آئی سو گئے پر جوش ہنگامے 

تھما جب زندگی کا جوش پر خاشِ  اجل جاگی
عمل کو دیکھ کر مدہوش پاداشِ  عمل جاگی

اٹھایا موت نے پتھر جہنم کے دہانے سے 
جہاں آتش کا دریا کھولتا تھا اک زمانے سے 

بلندی سے تباہی کے سمندر نے کیا دھاوا
چٹانوں کے جگر سے پھوٹ نکلا آتشیں لاوا

دکھا دی آگ ایوانوں کو مظلومی کی آہوں نے 
اٹھائے شعلہ ہائے آتشیں بے کس نگاہوں نے 

اٹھیں مختار بن کر بے کسی کے خون کی موجیں
حصار مرگ نے محصور کر لیں جنگ جو فوجیں

نہ حسن و عشق نے پائی اماں قہر الٰہی سے 
دبی پاداش امیری سے فقیری سے نہ شاہی سے 

ستاروں کی نگاہوں نے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا
مگر خورشید نے کچھ بھی نہ مٹی کے سوا دیکھا


یورپ ، عیسائی ہو جانے کے بعد

وہ رومانی کہ جن کی دھاک سے افلاک ڈرتے تھے 
جو شہروں کو جلا کر ایک دم میں خاک کرتے تھے 

خود ان کے شہر کا جلنا نمونہ تھا یہ عبرت کا
 یہ قدرت کی طرف سے تازیانہ تھا نصیحت 52 کا

مگر یہ لوگ باز آئے نہ ظلم و جور سے ہرگز
کوئی راحت نہ پائی دہر نے اس دور سے ہرگز

یہ پیرو ہو گئے آخر مسیح ابن مریم کے 
 تو لازم تھا کہ ان کے دل میں نور ایمان کا چمکے 53
مگر یہ سب پجاری بن گئے تصویر عیسیٰ کے 
 رکھا مریم کا بت بھی ساتھ ہی اندر کلیسا  54ہے 

اندھیرا شرک کا ان مشرکوں کی عقل پر چھایا
کہ عیسیٰ کو خدائے پاک کا فرزند ٹھہرایا

بدل دی سر بسر انجیل کی تعلیم قصوں میں
خدا کو کر دیا تقسیم پورے تین حصوں میں

خدا ، روح القدس ، عیسی یہ تین ان کے خدا ٹھہرے 55
 جفا و ظلم ان کی زندگی کا مدعا ٹھہرے 

یہی مذہب مسلط ہو گیا یورپ کے خطے پر
 اسی کے سامنے مصر و حبش نے بھی جھکایا سر 56

یہ فتنے جب مسیح ناصری کے نام پر جاگے 
یہودی ان سے تنگ آئے تو پھر کنعان سے بھاگے 

ہوئے قابض زمین شام پر شاہان یونانی
مقابل ہو گئے آتش پرستوں کے یہ نصرانی

لڑائی چھڑ گئی ایرانیوں کی اہل یوناں سے 
جہانداری کی اس بازی کے بدلے بارہا پانسے 

کبھی نصرانیوں کی فتح، گہ آتش پرستوں کی
 یہ جنگ اک موت تھی گویا غریبوں زیردستوں 57 کی


یہودیوں کی عام حالت

یہودی قوم کی حالت کا قصہ سن چکے ہو تم
سر ان لوگوں کی نافرمانیوں پر دھن چکے ہو تم

یہ سب راندے گئے ٹھکرا کے عیسیٰ کی منادی کو
یہ سولی پر چڑھانے لے گئے اس پاک ہادی کو

صحائف میں جہاں موقع ملا تحریف کر ڈالی
یہودی قوم کی ہر صفحہ پر تعریف کر ڈالی

رہے برباد دنیا میں مِلا نیت کا پھل ان کو
وطن سے بے وطن کرتے رہے ان کے عمل ان کو

پراگندہ ہوئے آخر فرنگ و  مصر و بربر میں
عرب میں آ بسے کچھ ارض یثرب میں

مگر فتنے اٹھانا بس گیا تھا ان کی فطرت میں
دغا مکر و فریب احسان فراموشی تھی خصلت میں

بیاں کر دی ہے میں نے مختصر حالت زمانے کی
یہاں سے ابتدا ہوتی ہے اب میرے فسانے کی


ساقی نامہ

فضاؤں میں مسلط لشکرِ  جنات ہے ساقی
قیامت خیز طوفان ہے اندھیری رات ہے ساقی

اٹھی ہے لعنتی تہذیبِ  نو سیلاب کی صورت
ہے جس کے حلقہ ہر موج میں گرداب کی صورت

تلاطم خیز طوفان ہے گناہوں کے تھپیڑے ہیں
الٰہی خیر ہو ایمان کے کمزور بیڑے ہیں

ہوائے شیطنت کمزور بیڑوں کو ڈبوتی ہے 
مگر اولاد آدم تختہ غفلت پہ سوتی ہے 

میں انسانوں کو اس طوفانِ  ذلت سے بچاؤں گا
میں ان سوئے ہوے شیروں کی غیرت کو جگاؤں گا

وہ ضیغم جو تیرہ سو برس پہلے دہاڑے تھے 
وہی پنجے جو حق نے سینہ باطل میں گاڑے تھے 

مجھے ان کو اٹھانا ہے مجھے ان کو جگانا ہے 
پرانی گونج سے غوغائے باطل کو مٹانا ہے 

پلا ساقی پلا وہ شعلہ صہبائے ایمانی
کہ اڑ جائیں دھواں بن کر وساوسہائے شیطانی

دہانِ  خامہ میں ٹپکا وہ بادہ اپنے ساغر سے 
کہ جس کا قطرہ قطرہ تازیانوں کی طرح برسے 

شراب معرفت کا از سر نو جام بھر ساقی
رگوں میں پھر پرانا آتشیں اسلام بھر ساقی

پِلا مجھ کو پلا ساغر اسی صہبائے وحدت کا
کہ جس کی موج سے منہ پھیر دوں ہر فوجِ  کثرت کا

مئے توحیدِ  کُہنہ کا اٹھا سر بستہ خُم ساقی
سنا مُردہ دلوں کو پھر وہی آوازِ  قم ساقی

مری فطرت کو ساقی بے نیازِ  دو جہاں کر دے 
پیالہ سامنے دھر دے قلم میں زندگی بھر دے 

زمانے میں نہیں مقصود میرا جُز خدا کچھ بھی
مرے منہ سے نہ نکلے صداقت کے سوا کچھ بھی


0 comments so far,add yours