اردو کے ممتاز صحافی، شاعر اور ادیب جناب وقار انبالوی کی تاریخ پیدائش 22 جون 1896ء ہے۔

پاکستان کے بزرگ اخبار نویس جناب وقار انبالوی کا اصل نام ناظم علی تھا‘ فوجی حلقوں میں حوالدار ناظم علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ آپ22 جون 1896ء کوچنار تھل ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے ۔

پہلی عالمگیر جنگ میں دس ریکروٹ بھرتی کرانے پر بونس کے طور انہیں براہِ راست نائیک بھرتی کرلیا گیا۔ ناگ پور میں مقیم پنجاب رجمنٹ میں ان کی پہلی تعیناتی ہوئی۔ وہیں حوالدار ہوئے‘ بعد میں ان کے کمانڈر نے ان کا تبادلہ فرنٹیئر پولیس میں کرکے کوئٹہ بھیج دیا۔بعد ازاں وہ نوکری چھوڑ کر لاہور میں روزنامہ زمیندار کے سٹاف میں شامل ہوگئے۔
دوسری جنگِ عظیم میں ایک بار پھر وقار انبالوی کو میدانِ جنگ میں اترنا پڑا۔ کئی اخبار نویسوں کو بطورِ آبزرور(Observer) مختلف ممالک میں بھیجا گیا۔ وقارانبالوی کو مصر بھیجا گیا تھا جہاں وہ مصری ریڈیو سے تقریر یں نشر کرتے رہے۔
دوسری بار ریٹائرمنٹ پر نوائے وقت سے وابستہ ہوئے۔ ’’سرے راہے‘‘ کے عنوان سے مقبول سلسلہ شروع کیا۔ قطعات بھی لکھے۔

انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے۔ ان اخبارات میں پرتاب، ملاپ، ویر بھارت، زمیندار، احسان، سفینہ، آفاق اور نوائے وقت کے نام سرفہرست ہیں۔ زندگی کی آخری سانس تک چاق چوبند رہے۔
وقار انبالوی کی شاعری اور افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔
26 جون 1988ء کو جناب وقار انبالوی وفات پاگئے اور سہجووال، شرقپور ضلع شیخوپورہ میں آسودۂ خاک ہوئے۔
اردو کا یہ مشہور شعر جو بالعموم علامہ اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے، انہی کا کہا ہوا ہے:
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضرب ید اللہٰی، اک سجدئہ شبیری


0 comments so far,add yours