وہ مقصد جس کی خاطر آپ اس دنیا میں آئے تھے
وہ قرآں جس کو انسانوں کو خاطر آپ لائے تھے
وہ پیغام محبت وہ نجات اولاد آدم کی
زمین صدق پر رکھنا نئی بنیاد عالم کی
اب اس کا وقت آ پہنچا تھا اب وہ کام ہونا تھا
زمیں تیار کرنا ، نخل حق کا بیج بونا تھا
اندھیرا چھا چکا تھا کفر کا دنیائے ہستی پر
زبردستی تسلط پاچکی تھی زیر دستی پر
الستی مے کشوں سے ہو چکا تھا مے کدہ خالی
کہ دنیا ہو گئی تھی بادۂ غفلت کی متوالی
کوئی گوشہ نہ ملتا تھا مظلوم اماں پائیں
کوئی سنتا نہ تھا ان کی یہ بیچارے کہاں جائیں
کوئی شفقت نہ کرتا تھا یتیموں پر غلاموں پر
یہ مر جاتے تھے بھوکے اور بک جاتے تھے داموں پر
ضعیفوں اور بیواؤں کو روٹی بھی نہ ملتی تھی
غضب سے مزد مزدوروں کو کھوٹی بھی نہ ملتی تھی
ستم سے تنگ آ کر خودکشی کر لی شریفوں نے
دعا کو دست رعشہ دار اٹھائے تھے ضعیفوں نے
اقراء
اٹھا غار حرا سے ابر رحمت شان حق لے کر
جب اقرا باسم ربک الذی خلق98 لے کر
سنایا آ کے اہل بیت کو مژدہ رسالت کا
امیں ایمان پہلے ہی سے تھا حق صداقت کا
کہا اس خالق ہستی کے جلوے پر رہو شیدا
اسی کا نام لینا چاہیے جس نے کیا پیدا
وہ جس نے گوشت کے اک لوتھڑے کو زندگی بخشی
بنائی شکل انساں اور ایسی برتری بخشی
ذریعے سے قلم کے جس نے دی تعلیم انساں کو
اس وہ کچھ سکھایا جو نہ آ سکتا تھا ناداں کو
`````````````````````````````````````
خدیجہؓ اور علیؓ ابن ابی طالب ہوئے مومن
ابھی شیر خدا دس سال کے بچے ہی تھے کمسن
جناب زیدؓ جو اک بندہ آزاد کردہ تھے
علیؓ کے بعد وہ بھی دامن اسلام میں آئے
صدیق ؓ کا ایمان
ابوبکرؓ آئے ان کو بھی یہی پیغام پہنچایا
خدا کے دین کی تلقین کی اسلام پہنچایا
کہا مجھ کو مرے رب نے نبوت دے کے بھیجا ہے
ہدایت دے کے بھیجا ہے شریعت دے کے بھیجا ہے
میں آیا ہوں کہ بندوں کو خدا کے در پہ لے جاؤں
نجات دنیوی و اخروی کی راہ دکھلاؤں
کہا ابوبکرؓ 99نے سرکارؐ آمنا و صدقنا
مرے مالک میرے مختار آمنا و صدقنا
مرے ماں باپ آل اولاد قربان اس شریعت پر
محمدؐ کے خدا پر اور محمدؐ کی رسالت پر
یہ کہہ کر جھک گئے بوبکر ؓ چومے ہاتھ حضرتؐ کے
ہوئے مشغول تبلیغ آپ بھی اب ساتھ حضرتؐ کے
یہ وہ ایمان تھا جس کا خدا نے ذکر فرمایا
یہ وہ انسان تھا جس نے لقب صدیق ؓ کا پایا
السابقین الاولین
ابوبکرؓ آج اس توحید حق کا جام لے آئے
کہ جس سے حضرت عثمانؓ 100بھی اسلام لے آئے
زبیرؓ 101 و سعدؓ و طلحہ ؓ عبدالرحمن ؓ بو عبیدہ بھی
علیؓ کے بھائی جعفرؓ اور بیوی ان کی اسما ؓ بھی
غرض ایمان لائے سب سے پہلے اپنے گھر والے
پھر آئے دوست اس حلقہ میں دل والے نظر والے
برس چالیس پورے اس نبیؐ کو سب نے دیکھا تھا
مروت سے بھری پاکیزگی کو سب نے دیکھا تھا
یہ چند افراد سب سے پیشتر حق کے قریں آئے
در توحید پر السابقین الاولین آئے
مقدر تھی سعادت ان رضا کے بہرہ مندوں کو
خدا نے آپ خود ہی چن لیا تھا اپنے بندوں کو
یہ چھوٹی 102 سی جماعت ذکر حق کرتی تھی چھپ چھپ کے
شہادت گاہے الفت میں قدم رکھتی تھی چھپ چھپ کے
انہیں معلوم تھا جس روز کھولا راز کا دامن
عرب ہو یا عجم سارا جہاں ہو جائے گا دشمن
مگر وہ روز جلد از جلد منہ دکھلانے والا تھا
کہ تبلیغ علانیہ کا فرماں آنے والا تھا
ملا ہو جس کو یہ فرماں کہ ہاں فاصدع بما تؤ مر103
خدا کے حکم کو پھر کھول کر کہتا نہ وہ کیونکر
پہاڑی کا وعظ : اعلائے کلمۃ اللہ
چڑھا کوہ صفا پر ایک دن اسلام کا ہادی
نظر کے سامنے تھی پستی انساں کی آبادی
صدا دی اے قریشی عورتو مردو ادھر آؤ!
یہ اپنے کام دھندے آج تہ کر دو ادھر آؤ !
مثال رعد ہادی کی صدا گونجی ہواؤں میں
زمیں سے آسماں تک غلغلہ اٹھا فضاؤں میں
یہ کڑکا سن کے خلقت گھر سے نکلی اس طرف آئی
بڑھی انبوہ در انبوہ، دوڑی صف بصف آئی
اکٹھے ہو گئے آ کر جوان و پیر و مرد و زن
بنی آدم کا جنگل بن گیا یہ کوہ کا دامن
خطاب ان سے پیغمبرؐ نے کیا اللہ کے بندو
خلیلؑ اللہ کے پوتو! ذبیح اللہ کے فرزندو!
کھڑا ہوں میں تمہارے سامنے ایسی بلندی پر
وہ جانب مجھ پر روشن ہے جہاں اچھا برا منظر
اگر میں تم سے یہ کہہ دوں کہ اس کہسار کے پیچھے
پہاڑوں کی بلند اور آہنی دیوار کے پیچھے
چھپی ہے رہزنوں کی فوج تم پر وار کرنے کو
گھروں کے لوٹنے کو شہر کے مسمار کرنے کو
یہ کہہ دوں اگر میں تم سے تو کیا تم مان جاؤ گے
یقیں آ جائے گا مجھ پہ کوئی شک نہ لاؤ گے ؟
کہا لوگوں نے ہاں سچا ہے تو یہ جانتے ہیں سب
تو بچپن سے صادق ہے امیں ہے مانتے ہیں سب
بھلا اس قول پر کیسے یقیں ہم کو نہ آئے گا
بلا چون و چرا مانیں گے کوئی شک نہ لائے گا
یہ سن کر پھر بلند آواز سے سچا نبیؐ بولا
اسی انداز سے قرآن ناطق نے دہن کھولا
کہ اے لوگو میرا کہنا نہایت غور سے سن لو
میں کہتا ہوں کہ باز آ جاؤ ظلم و جور سے سن لو
بہائم کی صفت چھوڑو ذرا انسان بن جاؤ
برے اعمال سے توبہ کرو شرماؤ شرماؤ
فواہش اور زناکاری مٹا دو نیک ہو جاؤ
خدا کو ایک مانو اور تم بھی ایک ہو جاؤ
یغوث و لات و عزیٰ کچھ نہیں بے جان پتھر ہیں
جنہیں تم پوجتے ہو وہ تو خود تم سے کمتر ہیں
ہی خالق وہی سچا خدا معبود ہے سب کا
وہی مطلوب ہے سب کا وہی مسجود ہے سب کا
بتوں کی بندگی کے دام سے آزاد ہو جاؤ
خدا کے دامن توحید میں آباد ہو جاؤ
پھنسا رکھا ہے شیطان نے تمہیں باطل کے پھندے میں
نہ رکھا فرق تم نے کچھ خدا میں اور بندے میں
تمہارے واسطے میں دولت اسلام لایا ہوں
جو ابراہیمؑ لائے تھے وہی پیغام لایا ہوں
خدائے قادر و قہار پر ایمان لے آؤ
جہان کے مالک و مختار پر ایمان لے آؤ
جہالت چھوڑ دو قرآن پر ایمان لے آؤ
بتوں کو توڑ دو رحمٰن پر ایمان لے آؤ
اگر ایمان لے آئے تو بچ جاؤ کے اے لوگو
فلاح دنیوی و اخروی پاؤ گے اے لوگو
نہ مانو گے تو بربادی کا بادل چھانے والا ہے
برا وقت آنے والا ہے ، برا وقت آنے والا ہے
مشرکین کا غیظ و غضب
خدا کا نام تو گویا قہر تھا بت خانہ دل پر
گرا دی حق نے بجلی تودہ بارود باطل پر
غضب کی آندھیاں منڈلا گئیں لوگوں کی صورت پر
نگاہیں سرخ ہو کر چھا گئیں نور نبوت پر
غضب میں بھر گئے سارے قریش ان وعظ کو سن کر
کہ ان کے پتھروں کو کہہ دیا تھا آپ نے پتھر
جسے دیکھو اسی کے منہ سے کف تھی کفر بکتا تھا
خدا واحد ہے ، گویا سمجھ میں آ نہ سکتا تھا
بتوں اور دیوتاؤں کی مذمت جرم تھی گویا
ہوا وہ شور و شر برپا قیامت آ گئی گویا
انہیں تو حق سے نفرت تھی یہ باتیں کس طرح سنتے
کھٹکنے لگ گئے کانٹے جنہیں وہ پھول کیا چنتے
ابو لہب بن عبدالمطلب کا کفر
مثال شعلہ اٹھا بولہب، چیخا، دہن کھولا
خبردار او بھتیجے اس سے آگے اور اگر بولا
ہمارے دیوتا ناراض ہو جائیں تو پھر کیا ہو
تو اتنا ہی بتا دے مینہ نہ برسائیں تو پھر کیا ہو
اہانت اک خدا کے نام سے اتنے خداؤں کی
مذمت سارے معبودوں کی دیوی دیوتاؤں کی
نبوت کیا ترے ہی واسطے تھی اس زمانے میں
نبوت کے لئے کیا تو ہی تھا میرے گھرانے میں 104
یہی باتیں سنانے کو ہمیں تو نے بلایا ہے
سمجھ میں کچھ نہیں آیا یہ کیا تو نے سنایا ہے
تری باتوں پہ ہر گز کان دھر سکتا نہیں کوئی
کہ اس توہین کو برداشت کر سکتا نہیں کوئی
غرض ایسی باتیں کر کے سب نے راہ لی گھر کی
پسند آئی نہ ان کو بات کوئی پیغمبر کی
مگر اس رحمت عالم کا دل تھا توحید کا گھر تھا
نہ آسکتی تھی مایوسی کہ یہ امید کا گھر تھا
بنو ہاشم میں تبلیغ حضرت علی ؓ کا ایمان
کیا دولت کدے پر ایک دن سامان دعوت کا
بنی ہاشم کو یعنی اپنے 105 کنبے کو بلا بھیجا
چچا تھا بو لہب، عباسؓ ، حمزہ ؓ اور ابو طالب
یہ عبدالمطلب کے جانشین سر کردہ و غالب
اکٹھے ہو گئے سب بھائی بہنیں بیویاں106 بچے
کہ ان میں کچھ تو تھے ذی ہوش اور کچھ عمر کے کچے
کھلا کر سب کو کھانا رحمت عالمؐ نے فرمایا
عزیز و میں تمہارے واسطے اک چیز ہوں لایا
وہ چیز اسلام پر ایمان ہے جو دین بیضا ہے
متاع بے بہا ہے اور کفیل دین کو دنیا ہے
بتاؤ آپ میں سے کون میرا ساتھ دیتا ہے
بتاؤ کون اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیتا ہے 107
یہ سن کر منہ لگے اک اک دوسرے کا سب کے سب تکنے
ابو لہب لعیں پھر جاتا تھا اور کچھ بکنے
کہ طفل سیزدہ سالہ ابن ابی طالب
رہی جس کی صداقت مصلحت پر عمر بھر غالب
وہ اٹھا اور بولا میں اگر چہ عمر میں کم ہوں
مری آنکھوں میں ہے آشوب گویا چشم پر نم ہوں
بھری محفل میں لیکن آج یہ اعلان کرتا ہوں
کہ میں سچے نبیؐ پر جان و دل قربان کرتا ہوں
میں اپنی زندگی بھر ساتھ دوں گا یا رسولؐ اللہ
یقیں کیجئے کہ قدموں میں رہوں گا یا رسولؐ اللہ
جھکے شیر خدا جب بات اپنی برملا کہہ کر
رسولؐ اللہ نے سر پر ہاتھ رکھا مرحبا کہہ کر
بڑے بوڑھے جو چپ تھے کھلکھلا کر ہنس پڑے سارے
انہیں معلوم کیا تھا جانتے کیا تھے وہ بیچارے
کہ یہ لڑکا وہ جس پر ہنس رہے تھے اس حقارت سے
پہاڑوں کے جگر تھرا اٹھیں گے اس کی ہیبت سے
بنی ہاشم ہنسی میں بات اڑا کر ہو گئے راہی
علی ؓ کو ہو گئی حاصل مگر دارین کی شاہی
اسلام لانے والوں 108 پر مصائب کے پہاڑ
علانیہ ادھر سے دین کا اعلان ہوتا تھا
ادھر سے شہر میں تضحیک کا سامان ہوتا تھا
مسلسل پھولنے پھیلنے لگا اسلام کا پودا
مخالف تھے قریش اب بڑھ چلا کچھ اور بھی سودا
نبیؐ کو اور مسلمانوں کو تکلیفیں لگیں ملنے
وہ تکلیفیں کہ جن سے عرش اعظم بھی لگا ہلنے
غضب کے ظلم ہوتے تھے مسلماں ہونے والوں پر
خزاں آتی تھی دل میں تخم وحدت بونے والوں پر
لٹاتے تھے کسی کو تپتی تپتی ریت کے اوپر
کسی کے سینہ بے کینہ پر رکھے گئے پتھر
مسلماں بیبیوں پر چابکوں کا مینہ برستا تھا
کنیزوں کو شکنجے میں کوئی بے ذر کستا تھا
بلالؓ و یاسرؓ و عمارؓ و خبابؓ اور سمیہؓ
صہیبؓ و بوفکیہہ ؓ اور لبینہؓ اور نہدیہؓ
زنیرہ ؓ اور عامرؓ تھے غلام لونڈیاں ان کی
مسلماں ہو گئے تھے آ گئی آفت میں جاں ان کی
محمدؐ کی محبت میں ہزاروں ظلم سہتے تھے
خدا پر تھی نظر ان کی زباں سے کچھ نہ کہتے تھے
یہ ظلم ان کو خدا سے دور کر سکتے نہ تھے ہر گز
نشے صہبائے وحدت کے اتر سکتے نہ تھے ہر گز
ستم ہائے فراواں کی بڑھی جب حد سے بے دردی
تو ان کی حضرتِ بو بکرؓ 109 نے قیمت ادا کر دی
اخوت مذہب اسلام کا پتھر ہے بنیادی
غلاموں کو دلائی ہے اسی جذبے نے آزادی
مسلماں ہونے والوں سے غلامی کی مٹی ذلت
کہ آڑے آ گئی عثمانؓ اور بو بکرؓ کی ہمت
اکابر قریش کی ابو طالب کو دھمکی
شرارت میں کمی کوئی نہ کی اشرار مکہ نے
مسلمانوں کو بے بس کر دیا کفار مکہ نے
مگر ا س پر بھی جب بڑھتے رہے پیرو محمدؐ کے
تو باہم مشورے ہونے لگے ایذائے بیحد کے
ابو جہل و امیہ، بو لہب، عقبہ ابو سفیاں
ولید و عاص و عتبہ الغرض جتنے بھی تھے ذیشاں 110
یہ فرزندان تاریکی جو نور حق سے چندھیائے
ہوئے اک دن اکٹھے اور ابو طالب کے گھر آئے
کہا ہم کو بھتیجا آپ کا بے دین کہتا ہے
ہمارے دین کو انسان کی توہین کہتا ہے
برا کہتا ہے وہ چھوٹے بڑے سارے خداؤں کو
ہبل کو لات کو عزیٰ کو دیوی دیوتاؤں کو
ہمارے باپ داداؤں کو بھی گمراہ کہتا ہے
سوا اپنے خدا کے سب کو غیر اللہ کہتا ہے
بس اب برداشت کر سکتے نہیں ہم اس کی جرات کو
کسی دن دیکھ لیں گے اس کو اور اس کی نبوت کو
تم اس کا ساتھ چھوڑا کرو یا کرو تنبیہ سمجھاؤ
وگرنہ جنگ کا ساماں کرو میدان میں آؤ
چچا کی فہمائش
یہ کہہ کر چل دیے سب لوگ ابو طالب بھی گھبرائے
انہیں ڈر تھا مبادا قوم ہی سے جنگ چھڑ جائے
بلایا آپ کو نرمی سے بولے جان عم دیکھو
تمہیں لازم ہے ڈالو اس چچا پر بار کم دیکھو
تم اپنے دین کی تلقین کو رہنے دو جانے دو
بڑھاپے میں ہماری شان پر دھبہ نہ آنے دو
میں بوڑھا ہوں اکیلا کل عرب سے لڑ نہیں سکتا
میں آر بھی جاؤں تو سارا قبیلہ اڑ نہیں سکتا
بھتیجے کا جواب
چچا کے دامن شفقت کو بھی ہٹتا ہوا پایا
تو ہو کر آب دیدہ ہادی بر حق نے فرمایا
قسم اللہ کی سارا جہاں بھی ہوا اگر دشمن
یہ سب شیطان کے ساتھی بڑھیں ہو کر بشر دشمن
جفا و ظلم کی آندھی چلے طوفان آ جائیں
مٹانے کو مرے شداد اور ہامان آ جائیں
کسی دھمکی کسی ڈر سے مرا دل گھٹ نہیں سکتا
مجھے یہ فرض ادا کرنا ہے اس سے ہٹ نہیں سکتا
مرے ہاتھوں میں لا کر چاند سورج بھی اگر رکھ دیں
مرے پیروں تلے روئے زمیں کا مال و زر رکھ دیں
خدا کے کام سے میں باز ہر گز رہ نہیں سکتا
یہ بت جھوٹے ہیں میں جھوٹوں کو سچا کہہ نہیں سکتا
میں سچا ہوں تو بس میرے لئے میرا خدا بس ہے
کسی امداد کی حاجت نہیں اس کی رضا بس ہے
مرا ایمان ہے ہر شے پہ قادر حق تعالیٰ ہے
وہی آغاز کو انجام تک پہنچانے والا ہے
ابو طالب کا تاثر
ابو طالب نے حیرت سے بھتیجے کہ طرف دیکھا
جلال مصطفیٰؐ میں مرد کامل سر بکف دیکھا
کہا اے جان عم اب میں کسی سے ڈر نہیں سکتا
جہاں میں کوئی تیرا بال بیکا کر نہیں سکتا
تبلیغ حق کا دشوار گذار رستہ، کفار کی ایذا رسانی اور توہین
پیمبرؐ دعوت اسلام دینے کو نکلتا تھا
نوید راحت و آرام دینے کو نکلتا تھا
نکلتے تھے قریش اس راہ میں کانٹے بچھانے کو
وجود پاک پر سو سو طرح کے ظلم ڈھانے کو
امیہ بو لہب بو جہل عقبہ سخت دشمن تھے
شقاوت پیشہ تھے بیداد گر تھے اور پر فن تھے
خدا کی بات سن کر مضحکے میں ٹال دیتے تھے
نبیؐ کے جسم اطہر پر نجاست ڈال دیتے تھے
کوئی گالی سنتا تھا کوئی پتھر اٹھاتا تھا
کوئی قرآن پر ہنستا تھا 111کوئی منہ چڑاتا تھا
حرم کی سر زمیں پر آپ پڑھتے تھے نماز اکثر
ہمیشہ اس گھڑی کی تاک میں رہتے تھے بد گوہر
قریشی مرد اٹھ کر ارہ میں آوازے کستے تھے
یہ ناپاکی کے چھرے چار جانب سے برستے تھے
کوئی حضرتؐ کی گردن گھونٹتا 112 تھا کس کے چادر میں
کوئی دیوانہ پتھر مارتا تھا آپ کے سر میں 113
قریشی عورتیں کانٹے بیابانوں سے لاتی تھیں
گزرگاہ گل گلزار وحدت میں بچھاتی تھیں 114
نجاست گھر کے دروازے پر لا کر پھینک جاتی تھیں
جھگڑتی بدزبانی کرتی تھیں فتنے اٹھاتی تھیں
کلام حق کو سن کر کوئی کہتا تھا یہ شاعر ہے
کوئی کہتا تھا کا ہن ہے کوئی کہتا تھا ساحر ہے
مگر وہ منبع حلم و صفا خاموش رہتا تھا
دعائے خیر کرتا تھا جفا و ظلم سہتا تھا
قریش کی طرف سے مادی ترغیبات۔۔ عتبہ کی گفتگو
قریش اک دن اکٹھے ہو کر بیٹھے اور یہ سوچا
کہ ظلم اتنے کئے لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا
محمدؐ اس قدر صابر ہے کیوں؟ یہ ماجرا کیا ہے
نمود و نام کا طالب نہیں تو چاہتا کیا ہے ؟
بہم اک مشورے کے بعد محفل سے اٹھا عتبہ
رسول پاکؐ سے تنہائی میں جا کر ملا عتبہ
کہا جس دن سے تم کہنے لگے ہو خود کو پیغمبرؐ
بڑی بھاری مصیبت ڈال دی ہے قوم کے سر پر
رواج و رسمِ قومی کی برائی کرتے پھرتے ہو
غلاموں مفلسوں 115سے آشنائی کرتے پھرتے ہو
برا کہتے ہو کیش مذہبِ اجداد و آبا کو
کہا کرتے ہو تم دوزخ کا ایندھن 116 لات و عزّیٰ کو
پرانے دین سے تم پھیرتے جاتے ہو لوگوں کو
خدا اک ہے انوکھی بات سمجھاتے ہو لوگوں کو
قریش اس ذلت و توہین سے تنگ آ چکے ہیں سب
بظاہر ہر طریقے سے تمھیں سمجھا چکے ہیں سب
بتاؤ تو صحیح سہی آخر تمھارا مدّعا کیا ہے ؟
بہت اچھے تھے پہلے تم،تمھیں آخر ہوا کیا ہے ؟
رسومِ عام میں پہلے بھی شرکت تم کرتے تھے
ہمارے دیوتاؤں کی عبادت تم کرتے تھے
تمھیں ہم نیک طینت جانتے تھے کچھ نہ کہتے تھے
تمھارا مرتبہ پہچانتے تھے کچھ نہ کہتے تھے
یہ کیا جادو ہے کیا افسوں ہے جس میں کھو گئے ہو تم
روایات قدیمہ کے مخالف ہو گئے ہو تم
تمھاری اس روش نے قوم میں ہے تفرقہ ڈالا
نہ ہو گا اس طریقہ سے تمھارا مرتبہ بالا
اگر دولت کی خواہش ہو تو دولت تم کو دلوائیں
تمھارے واسطے ہم جمع کر کے مال و زر لائیں
عرب کی سلطنت چاہو تو یہ بھی کچھ مشکل نہیں
کہ سارے ملک کو کر دیں گے ہم اس بات پر مائل
کسی عورت پہ عاشق ہو تو ناممکن نہیں یہ بھی
ہمیں کہہ دو تمھارا کام کر دیں گے ہمیں یہ بھی
نہیں ہے گر نمود و نام و شاہی سے غرض تم کو
تو پھر ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ہے کوئی مرض تم کو
اگر یہ ہے تو کہہ دو صاف جس سے ہم سمجھ جائیں
کریں اس کا تدارک اور دوائیں ڈھونڈ کر لائیں
مسلّط کوئی جن ہے یا کوئی آسیب آتا ہے
ستاتا ہے تمھیں اس قسم کی باتیں سکھاتا ہے
ہمیں تم صاف کہہ دو ہم کسی عامل کو بلوائیں
کوئی تعویذ ڈھونڈیں کوئی ٹونا ٹوٹکا لائیں
مگر اس کام سے باز آؤ یہ ضدی روش چھوڑو
مقدّس دیوتاؤں کو برا کہنے سے منہ موڑو
تمھارے ان طریقوں سے بڑا طُوفان آئے گا
تمھارے پیروں میں کوئی بھی جینے نہ پائے گا
عتبہ کی حیرت
کہا میں تم کو ارشاداتِ ربّانی سناتا ہوں
ہدایت کے لئے آیاتِ قرآنی سناتا ہوں
یہ فرما کر پڑھیں حٰم کی آیاتِ 117 قرآنی
سنیں عتبہ نے، سن کر ہو گیا غرقابِ حیرانی
اٹھا چپ چاپ اپنے ساتھیوں کے رو برو آیا
کہا میں نے تو اس کو ساحر و کاہن نہیں پایا
وہ شاعر بھی نہیں کچھ اور ہے طرز کلام اس کا
میں کہتا ہوں کہ لوہا مان لیں گے خاص و عام اس کا
نہ مال و جاہ کی خواہش نہ ہے دھمکی کا ڈر اس کو
مناسب ہے کہ اب رہنے دو اس کے حال پر اس کو
اگر اس شخص کو اہلِ عرب نے مار ہی ڈالا
چلو چھٹّی ہوئی آئی ہوئی کو موت نے ٹالا
اگر یہ غالب آیا ملک پر آخر برا کیا ہے
تم اس کی قوم ہو سب کے لیے اچھّا ہی اچھّا ہے
وہ بولے اور لیجے یہ بھی اب ہم کو ڈبوتا ہے
دلِ عتبہ پہ جادو چل گیا معلوم ہوتا ہے
غرض کوئی نہ کی پروا پرستارانِ باطل نے
رسولؐ اللہ کو اب اور ایذائیں لگیں ملنے
ابی طالب کے ڈر سے قتل اگرچہ کر نہ سکتے تھے
مگر تضحیک اور تذلیل کرنے سے نہ تھکتے تھے
ابوجہل اور عتبہ کرتے تھے گستاخیاں ایسی
کہ سن کر بھی جنھیں برداشت کر سکتا نہیں کوئی
حضرت حمزہ ؓ کا ایمان لانا
شجاعِ نامور فرزند عبدالمطلب حمزہؓ
وہ عم ِّ مصطفیٰ عالی نسب والا حسب حمزہؓ
وہ حمزہؓ 118 جس کو شاہِ شہسوارانِ عرب کہئے
جسے جان عرب لکھیے جسے شانِ عرب کہیے
اگرچہ اب بھی اپنے کفر کی حالت پہ قائم تھے
مگر فخر رسل کی دائمی اُلفت پہ قائم تھے
مشیّت تھی کہ ان کے دم سے تقویت ملے حق کو
مٹے باطل سے شان ظاہری،شوکت ملے حق کو
چلے آتے تھے اِ ک دن دشت سے وہ پشتِ تو سن پر
شجاعت اور جلالِ ہاشمی تھا اپنے جوبن پر
سوئے خانہ چلے جاتے تھے رستے میں یہ سن پایا
بھتیجےؐ کو میرے بوجہل نے صدمہ ہے پہنچایا
یہ سن کر جوشِ خون سے روح میں غیظ و غضب دوڑا
پلٹ کر سوئے کعبہ عبدالمطلب دوڑا
وہاں بُوجہل اپنے ساتھیوں میں گھِر کے بیٹھا تھا
مثیلِ اَبرہَہ تھا ہاتھیوں میں گھِر کے بیٹھا تھا
کیا حمزہؐ نے نعرہ او ابوجہل، او خرِ بزدل !
محمدؐ مصطفیٰ کے دین میں اب میں بھی ہوں شامل
سنا ہے مَیں نے تو میرے بھتیجےؐ کو ستاتا ہے
ہمیشہ گالیاں دیتا ہے اور فتنے اٹھاتا ہے
اگر کچھ آن رکھتا ہے تو آ میرے مقابل ہو
کہ تیری بدزبانی کا چکھا دوں کُچھ مزا تُجھ کو
بلا لے ساتھیوں کو اور حمایت کرنے والوں کو
ذرا مَیں بھی تو دیکھوں اُن کمینوں کو رذالوں کو
یہ کہہ کر گھُس پڑے حمزہؐ گروہِ بد سگاں لامیں
گریباں سے پکڑ کر کھینچ لائے اس کو میداں میں
کماں تھی ہاتھ میں وہ سر پہ ناہنجار کے ماری
گِرا سر سے ہو گیا ناپاک خوں جاری 119
سبھی دبکے کھڑے تھے چھا گیا تھا ایک سنّاٹا
مگر حمزہؐ نے کھا کر رحم اس کا سر نہیں کاٹا
کہا گر آج سے میرے بھتیجےؐ کی طرف دیکھا
تیرے ناپاک چمڑے میں شُتر کی لید بھر دوں گا
یہ کہہ کر چل دئیے مشرک بھلا کیا ٹوک سکتے تھے
کہیں روباہ بھی اس شیرِ نر 120کو روک سکتے تھے
ابوجہل اس لیے دبکا پڑا تھا فرش کے اوپر
مبادا واپس آ کر قتل کر دے عم ِّ پیغمبرؐ
یہاں سے جا کے حمزہ ؓ جلد تر ایماں لے آئے
بھتیجے کی محبت میں چچا نے مرتبے پائے
حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کا بیان، دشمنان دین میں نبیؐ کے قتل کی تجویزیں
عمر ؓ ابن خطاب اس وقت تک ایماں نہ لائے تھے
حجاب کفر میں تھے دامن حق میں نہ آئے تھے
غیور و صائب الرائے بہادر تیغ افگن تھے
مگر سچے نبیؐ کے اور مسلمانوں کے دشمن تھے
غریبوں حق پرستوں کو اذیت دیتے رہتے تھے
مسلماں ان کے ہاتھوں سے ہزاروں رنج سہتے تھے
جناب حضرت حمزہؓ بھی جب ایمان لے آئے
تزلزل پڑ گیا باطل میں اہل مکہ گھبرائے
مسلمانوں کی روز افزوں ترقی سے لگے ڈرنے
نبیؐ کو قتل کر دینے کی تجویزیں لگے کرنے
کوئی بولا غضب ہے ، اپنی طاقت گھٹتی جاتی ہے
کہ دنیا دین آبائی سے پیچھے ہٹتی جاتی ہے
یہی حالت رہی تو ایک دن ایسا بھی آئے گا
ہُبُل کے واسطے کوئی چڑھاوا بھی نہ لائے گا
کوئی بولا یہ مذہب پھیلنے سے رک نہیں سکتا
محمدؐ زندہ ہیں جب تک یہ جھگڑا چُک نہیں سکتا
کہا بوجہل نے دیکھو یہ نرمی کا نتیجہ ہے
پکارا بو لہب میں کیا کروں میرا بھتیجا 121 ہے
عمرؓ نبی کے قتل کا بیڑا اٹھاتے ہیں
عمر ؓ بولے یہ قصہ ہی چکا دیتا ہوں میں جا کر
کہ دیتا ہوں تمھیں سر ہادی اسلامؐ کا لا کر
بدی کے غلغلے اس محفل حق پوش میں اٹھے
عمرؓ نے کھینچ لی تلوار پورے جوش سے اٹھے
چلے اس زندگی بخش جہاں کے قتل کرنے کو
تمنائے مکان ولا مکاں کے قتل کرنے کو
نعیم ؓ 122اک مرد عاقل سے ہوئی مٹ بھیڑ رستے میں
وہ بولے آج کیا ہے تم نظر آتے ہو غصے میں
کہا میں قتل کرنے جا رہا ہوں اس پیمبرؐ کو
کہ جس نے ڈال رکھا ہے مصیبت میں عرب بھر کو
وہ بولے تم کو گھر کا حال بھی معلوم ہے بھائی
کہ ہے اسلام کی حامی تمھاری اپنی ماں جائی
تمھارے گھر میں بستا ہے خدا کا نام مدت سے
کہ بہنوئی تمھارا لا چکا اسلام مدت سے
یہ سن کر اور بھی غیظ و غضب طوفان پر آئے
عمر ؓ تلوار کھینچے اپنے بہنوئی کے گھر آئے
غضب ٹوٹا عمر دہلیز پر جس وقت چڑھتے تھے
وہ دونوں حضرت خبابؓ 123 سے قرآن پڑھتے تھے
عمر ؓ داخل ہوئے جب گھر کے اندر سخت غصے میں
سنی آہٹ تو فوراَ چھپ گئے خباب ؓ پردے میں
کہا کیا پڑھ رہے تھے تم وہ بولے تم سے کیا مطلب!
کہا دونوں مسلماں ہو چکے ہو جانتا ہوں سب !
بہن بہنوئی کو آخر عمر نے اس قدر مارا
کہ زخموں سے نکل کر خون کی بہنے لگی دھارا
بہن بولی عمر124 ! ہم کو اگر تو مار بھی ڈالے
شکنجوں میں کسے یا بوٹیاں کتوں سے نچوا لے
مگر ہم اپنے دینِ حق سے ہر گز پھر نہیں سکتے !
بلندی معرفت کی مل گئی ہے گِر نہیں سکتے !
دہن سے نامِ حق آنکھوں سے آنسو،منہ سے خوں جاری
عمر ؓ کے دل پر اس نقشے سے عبرت ہو گئی طاری
کہا اچھا دکھاؤ مجھ کو وہ آیاتِ قرآنی
سمجھ رکھا ہے جن کو تم نے ارشاداتِ ربانی
بہن بولی بغیرِ غسل اس کو چھو نہیں سکتے
یہ سن کر اور حیرت چھا گئی منہ رہ گئے تکتے
اُٹھے اور غسل کر کے لے لیا قرآن ہاتھوں میں
اسی کے ساتھ آئی دولتِ ایمان ہاتھوں میں
حضرت عمرؓ کا ایمان
کلامِ ِ پاک کو پڑھتے 125 ہی آنسو ہو گئے جاری
خدائے واحد و قدّوس کی ہیبت ہوئی طاری
وہ دل سخت وہ سخت دل جو آہن و فولاد کا دل تھا
مُسلمانوں کے حق میں جو کسی جلّاد کا دل تھا
شعاعِ نور نے اس دل کو یکسر موم کر ڈالا
ہوئی تسکین بہ نکلا قدیمی کفر کا چھالا
اُڑی کافور کی صورت سیاہی رنگِ باطل کی
یکا یک آج روشن ہو گئیں گہرائیاں دل کی
اسی عالم میں اُٹّھے جانبِ کوہِ صفا دوڑے
نکل کر نرغۂ شیطاں سے جیسے پارسا دوڑے
عمرؓ آستانہ نبوت پر
رسول اللہؐ تھے اُس سم مقیمِ ِ خانہ ارقم ؓ 126
حضوری میں جنابِ حمزہؓ و بوبکرؓ تھے ہمدم
نحیف و ناتواں کُچھ اور اہل اللہ بیٹھے تھے
خدا پر تکیہ تھا سرکارِ عالی جاہ بیٹھے تھے
عمرؓ آئے مسلّح، آ کے دروازے پہ دی دستک
اسی انداز میں تھے ہاتھ میں تلوار تھی اب تک
صحابہ ؓ نے جونہی سُوراخ میں سے جھانک کر دیکھا
چمک تلوار کی آئی نظر روئے عمر دیکھا
صحابہ کو ہُوئی تشویش ان کے رنگِ ظاہر سے
عمرؓ کا دبدبہ کچھ کم نہ تھا اِک فوجِ قاہر سے
رسُول اللّہؐ سے آ کر عرض کی اِ ک طرفہ ساماں ہے
عمر ؓ در پر کھڑے ہیں ہاتھ میں شمشیرِ برّاں ہے
کہا حمزہؓ نے جاؤ جس طرح آتا ہے آنے دو
اسے اندر بلاؤ جس طرح آتا ہے آنے دو
ادب ملحوظ رکھے گا تو خاطر سے بٹھائیں گے
نمونہ اس کو ہم خُلقِ محمّدؐ کا دکھائیں گے
اگر نیت نہیں اچھی تو اس کو قتل کر دوں گا
اسی کی تیغ سے سر کاٹ کر چھاتی پر دھر دُوں گا 127
رسول اللّہؐ سن کر مسکرائے اور فرمایا
بُلا لو دیکھ لیں کس دھُن میں ہے ابنِ خطاب آیا
عمر ؓ داخل ہوئے گھر میں تو اُٹّھے حضرتِ والا
ہُوا ضَو ریز سرِ ّشاخِ ِ طُوبیٰ پر قدِ بالا
کہا چادر کا دامن کھینچ کر اے عُمرؓ کیا ہے ؟
چلا تھا آج کس نیت سے کس نیّت سے آیا ہے ؟
عُمرؓ کے جسم پر اِ ک کپکپی ہو گئی طاری
وہیں سر جھُک گیا آنکھوں سے آنسو ہو گئے جاری
ادب سے عرض کی حاضر ہوا ہوں سر جھکانے کو
خُدا پر اور رسولِ پاکؐ پر ایمان لانے کو
یہ کہنا تھا کہ ہر جانب صدائے مرحبا گونجی
فضا میں نعرہ اللّہ اکبر کی صدا گونجی
حضرت عمرؓ کی شانِ ایمان
عمرؓ رخصت ہوئے ایمان لا کر شہر کی جانب
چلے بے خوف ہو کر بانیانِ قہر کی جانب 128
وہاں لوگ بیٹھے تھے عمرؓ کے منتظر سارے
کسی کے قتل ہونے کی خبر کے منتظر سارے
عمرؓ آ کر پکارے اے قریش ،اے قہر کے بیٹو!129
سنو اے عقل کے اندھو،سنو تقدیر کے بیٹو
یہ بت جھوٹے ہیں بے شک پوجنا بے سود ہے سب کا
خدا واحد ہے خالق ہے وہی معبود ہے سب کا
کوئی جھٹلائے مجھ کو یا کرے میرا یقیں کوئی
محمّدؐ ہیں رسول اللہؐ اس میں شک نہیں کوئی
نہ ہو گا کچھ بھی حاصل مکر سے حجت سے حیلے سے
فلاحِ ِ دین و دُنیا ہے محمّدؐ کے وسیلے سے
حقیقت کا تمھارے سامنے اظہار کرتا ہوں
مَیں توحید و رسالت کا بہ دل اقرار کرتا ہوں
کتاب اللہ پر قرآن پر ایمان لایا ہوں
خدائے واحد و رحمٰن پر ایمان لایا ہوں
یہ سن کر زلزلہ سا آ گیا ایوانِ باطل میں
بہت صدمہ ہوا دل کی امیدیں رہ گئیں دل میں
اٹھے سب طیش کھا کر پِل پڑے اس مرد غازی پر
کیا اُن بھیڑیوں نے اس شیرِ حجازی پر
مگر وہ میدان وفا غالِب رہا سب پر
خدا غالب ہوا نامِ خدا غالِب رہا سب پر
ہجرت حبشہ، ایذا دہی کی انتہا،طرح طرح کی عقوبتیں
عمر ؓ کی حق پسندی سے بڑھی اسلام کی شوکت
عَلَی الاعلان اب ہونے لگی تبلیغ کی خدمت
قریش اب ہو چکے تھے درحقیقت خُوں کے پیاسے
یہ باطل محو کرنا چاہتا تھا حق کو دنیا سے
ستم ایجاد تھے لاکھوں ستم ایجاد کرتے تھے
کوئی جلّاد کیا کرتا جو یہ جلاد کرتے تھے
زمین و آسماں جب دھوپ کی گرمی سے تپتے تھے
غضب کی دل لگی تھی ریت پر مسلم تڑپتے تھے
جھُلس کر سرخ ہو جاتی تھی جب چھاتی چٹانوں کی
ہم آغوشی ہُوا کرتی تھی ان سے بے زبانوں کی
نِشان سجدۂ توحید تھا جن کی جبینوں پر
دھرے رہتے تھے پہروں سخت پتھر ان کے سینوں پر
جو ابراہیمؑ کے پوتوں کو پھول اور باغ دیتے تھے
سلاخیں سُرخ کر کے لوگ ان کو داغ دیتے تھے
مثالِ نوح جو انسان کے بیڑے تراتے تھے
انھیں یہ لوگ پہروں آب میں غوطے کھلاتے تھے
غلاموں تک نہ تھا محدود یہ لطف و کرم ان کا
کہ تھا ہر بندۂ توحید پر ظلم و ستم ان کا
ابوُبکرؓ و عُمرؓ عثماںؓ 130 علیؓ تک کو ستاتے تھے
ابُوذرؓ پر زبیرؓ و سعدؓ پر سَو ظلم ڈھاتے تھے
وہ مصعبؓ عبدالرحمنؓ اور جعفرؓ بن ابی طالب
وہ سب کے سب بہادر جو کہ تھے یک جان و دو قالب
قیامت خیز ایذائیں غضب کے رنج سہتے تھے
تشدّد منع تھا اِس واسطے خاموش رہتے تھے
وطن کی سرزمین پھرنے لگی جب آسماں بن کر
ہَوَا دم گھوٹنے کے واسطے پھیلی دھُواں بن کر
حقوقِ زندگی بھی چھِن گئے جب اہلِ وحدت سے
حَبَش کی سمت ہجرت کا ملا فرماں 131 نبوّت سے
مُسلمانوں کی اِ ک تعداد نکلی بے وطن ہو کر
حبش یعنی نجاشی کی حکومت 132 میں بنایا گھر
مگر اس امر کی جب اہلِ مکہ نے خبر پائی
تعاقُب کے لیے فوراً سفارت ایک بھجوائی
مدبّر عَمرو ابن العاص 133 جوتھے اُن دنوں کافر
سفارت لے کے دربارِ نجاشی میں ہُوئے حاضر
نجاشی کے حضور آ کر جھُکے ظُلم کے بانی
تحائف اور نذریں پیش کر کے عرض گزرانی
کہ اے شاہِ حبش یہ سلطنت قائم رہے دائم
ہمارے شہر سے بھاگ آئے ہیں کچھ قوم کے مجرم
حبش میں آ بسے ہیں ہر طرح آزاد پھرتے ہیں
مبلِغ اک نئے مذہب کے ہیں دلشاد پھرتے ہیں
یہودی اور نصرانی مذاہب سے بھی جلتے
نیا اِ ک دین قائم کر لیا ہے جس پہ چلتے ہیں
پکڑ کراس اس سفارت کے حوالے کیجیے اُن کو
اسی خاطر ہم آئے ہیں ہمیں دے دیجیے اُن کو
نجاشی کے مصاحب جو کہ سب کے سب تھے نصرانی
خلافِ اہلِ دیں ہر شخص نے تائید کی ٹھانی
نجاشی انصاف کی راہ پر
یہ سازش کی ہم آہنگی نجاشی نے بری سمجھی
گُلوئے عدل پر ایسی عدالت اِ ک چھری سمجھی
مسلمانوں کو بھی اس نے بلایا اور فرمایا
کہ تم کو قید کرنے کے لیے یہ وفد ہے آیا
تمھارا جرم کیا ہے قوم کیوں ناراض ہے تم سے ؟
کسی کو قتل کر ڈالا کہ بگڑی کوئی شَے تم سے ؟
تمھارا دین کیا ہے کیا وہ دُنیا سے نرالا ہے ؟
جسے تم یہ سمجھتے ہو کہ سب دینوں سے بالا ہے
دربارِ نجاشی میں حضرتِ جعفرؓ کی تقریر
جنابِ حضرت جعفرؓ اٹھے تقریر کرنے کو
عَلی الاِعلان دِینَ اللّہ کی تفسیر کرنے کو
کہا اے بادشہ ہم لوگ کافر اور جاہل تھے
ہم اِ س دارِ مشقت میں نکمّے اور کاہل تھے
بہت بدکار تھے بت پوجتے مردار کھاتے تھے
غریبوں کو شریفوں کو ضعیفوں کو ستاتے تھے
یتیموں پر غلاموں لونڈیوں پر ظلم ڈھاتے تھے
پڑوسی زیردستوں کو زبردستی دکھاتے تھے
یہ حالت تھی برادر کا برادر جان لیوا تھا
گناہوں کا سمندر، ناؤ کا شیطان کھیوا تھا
دقیقہ کون سا باقی رہا تھا ڈوب جانے میں
سہارا کوئی بھی حاصل نہ تھا ہم کو زمانے میں
تکلّف برطرف،جاتے تھے ہم سیدھے جہنّم میں
اسی اثناء میں ایک سچّا نبیؐ پیدا ہوا ہم میں
نبیؐ !شہرہ ہے ساری قوم میں جس کی امانت کا
کوئی منکر نہیں جس کی صداقت کا دیانت کا
وہ آیا اور اُس نے دعوتِ اسلام دی ہم کو
نکالا موت کے پنجے سے بخشی زندگی ہم کو
ہمیں تلقین کی ان پتھروں کا پُوجنا چھوڑو
زنا سے جھوٹ سے چوری سے سر زوری سے منہ موڑو
ہمیں تلقین کی اک دوسرے کے حق کو پہچانو
سبھی انسان ہو انسانیت دکھلاؤ نادانو
ہمیں اس نے نماز و روزہ کے ارکان سکھلائے
پسند آیا ہمیں یہ دین ہم ایمان لے آئے
بس اتنی بات تھی جس پر ہوئے اہل وطن دشمن
ہمیں جی کھول کر دیتے رہے رنج و محن دشمن
ہمارا جُرم یہ ہے بت پرستی چھوڑ دی ہم نے
ملی ہم کو اذیت اپنی بستی چھوڑ دی ہم نے
ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ پھر گمراہ ہو جائیں
یہاں حاضر ہیں ہم اب آپ ہی انصاف فرمائیں
نجاشی راہِ ہدایت پر
سچائی کا اثر ظاہر ہوا قلبِ نجاشی پر
وہ بولا کونسا بُرہان لایا ہے وہ پیغمبرؐ
سنائیں حضرتِ جعفرؓ نے چند آیاتِ قرآنی
نجاشی کے مکدّر دل نے پائی جن سے تابانی
ہوا دل پر اثر آنکھوں سے آنسو ہو گئے جاری
کہا لاریب اللہ کی کتابیں ایک ہیں ساری
قسم اللہ کی اعجاز ہے انجیل و قرآں میں
اسی کے نطق کی آواز ہے انجیل و قرآں میں
نجاشی کا تہیّہ
کیا اب یوں مخاطب اہل مکہ کے سفیروں کو
کہ جاؤ کہہ دو اپنے بھیجنے والے شریروں کو
کہ جو مظلوم میرے دامنِ دولت میں آئے گا
وہ خود جائے تو جائے کوئی لے جانے نہ پائے گا
مُسلمانوں سے بولا تم حَبش کو اپنا گھر سمجھو
مُجھے اپنا معین وہم خیال وہم نظر سمجھو
یہ دنیا اک مسافر خانہ ہے ہم سب مسافر ہیں
خدا منزل ہے سب کی حنیف ہے اُن پر جو کافر ہیں
رسول اللّہؐ کے خلاف اہلِ مکّہ کا معاہدہ
شرارت اہلِ مکہ کی کسی صورت نہ کام آئی
سفارت بھی حبش سے یوں ہی بے نیل و مرام آئی
شریروں کو بڑی شرمندگی تھی اپنی ہیٹی کی
اکٹّھے ہوکے پھر اہلِ ستم نے اِ ک کمیٹی کی
بنی ہاشم کے گھر سے بُو لہب بھی ساتھ شامل تھا
کہ ہر ایذا دہی کے وقت اس کا ہاتھ شامل تھا
صلاح و مشورے کے بعد اب یہ بات طے پائی
کہ اک تحریر لکھوا کر درِ کعبہ پہ لٹکائی
لکھا یہ تھا،تعلق قطع ہے اب آلِ ہاشم 134 سے
نہ رکھیں آج کے دن سے وہ کوئی واسطہ ہم سے
رفاقت،بیاہ ، شادی،ناطہ ،رشتہ ،دوستی، الفت
مروّت ،لین دین اور ملنا جلنا سب کا سب رخصت
تواضع،گفتگو،بیع و شریٰ سب ترک کرتے ہیں
کوئی آ کر نہ پوچھے گا وہ جیتے ہیں کہ مرتے ہیں
ہمارے شہر میں ڈھونڈیں نہ چیزیں کھانے پینے کی
نہیں پرواہ ہمیں اب ان کے مرنے اور جینے کی
ہمارے ان کے باہم کام دھندے بند ہیں سارے
قریش اس باہمی تحریر کے پابند ہیں سارے
ابُو طالب لئیے بیٹھے رہیں اپنے بھتیجے کو
مریں گے بھوکے پیاسے خُود سمجھ لیں گے نتیجے کو
محمّدؐ جو ہمیں ہر بات میں گمراہ کہتا ہے
خدا کو ایک اور خود کو رسول اللّہ کہتا ہے
ابُو طالب اگر اس کو ہمارے ہاتھ میں دے دیں
جواس کے ساتھ والے ہیں سب اس کے ساتھ میں دے دیں
ہم ان کو قتل کر ڈالیں تو پھر یہ عہد ٹوٹے گا
لہُو ان کا دوبارہ نخلِ الفت بن گے پھوٹے گا
غرض یہ عہد135لِکھوا کر درِ ِ کعبہ پہ لٹکایا
ابُو طالب کے پاس اِ ک ہاشمی فوراً خبر لایا
ابُو طالب کی ثابت قدمی
ابوطالب نے فرمایا عجب اُلٹا زمانہ ہے
یہ اچھّی دوستی ہے واہ کیا عمدہ بہانہ ہے
وہ صبحِ نور جس کے چہرہ انور کی برکت سے
کیا کرتے ہیں باراں کی تمنّا ابرِ رحمت سے
وہ دامن جو یتیموں کو پناہیں دینے والا ہے
جو اندھوں کو بصیرت کی نگاہیں دینے والا ہے
وہ جس نے اجڑی پُجڑی آدمیت کو سنوارا ہے
جو بے یاروں کا یارا بے سہاروں کا سہارا ہے
وہی جو ابر رحمت 136 بن کے جانوں کو بخشے
چمن کو رنگ بخشے اور بُلبل کو زباں بخشے
وہی جو نوعِ انساں کو غُلامی سے رہائی دے
وہی جو پنجۂ مرگ دوامی سے رہائی دے
یہ انسان دامِ ِ مرگ اس کے غلاموں پر بچھاتے ہیں
حرم کے طائروں کو شانِ صیّادی دکھاتے ہیں
اسی کے باغ پریہ برق شُعلہ ریز ہوتی ہے
اسی کے بے زبانوں پر چھُری اب تیز ہوتی ہے
وہ جس کا نام لینے سے پلٹ جاتی ہیں تقدیریں
اسی کو قتل کر دینے کی اب ہوتی ہیں تدبیریں
کریں بیداد ہم پر اور ہمیں سے داد بھی چاہیں
ہمارا قتل ہو اور ہم سے پھر امداد بھی چاہیں
ہمیں منظور ہے قطعِ ِ تعلّق اہلِ مکہ سے
نہیں ہم چاہتے رسمِ ِ تملّق اہلِ مکہ سے
یہ کہہ کر آلِ عبدالمطّلب کو گھر میں بلوایا
کیا کنبہ اکٹھاّ اور سارا حال بتلایا
بنی ہاشم اگرچہ آج تک ایماں نہ لائے تھے
مگر اہلِ حمیت ہاشمی ماؤں کے جائے تھے
اکٹھے ہو گئے شعب ابی طالب 137 میں آ آ کر
یہیں پر تھے رسولِ پاک و اہلِ بیت پیغمبرؐ
فقط اک بُو لہب سب سے الگ تھا سب کا دشمن تھا
نہایت سنگدل،بے رحم،بے ایمان و پر فن تھا
شُعبِ ابی طالب میں محصوری کا زمانہ
بڑی سختی کرتے تھے قریش اس گھر کی نگرانی
نہ آنے دیتے تھے غلّہ اِ دھر تا حدِ امکانی
کوئی غلّے کا سوداگر اگر باہر سے آ جاتا
تو رستے ہی میں جا کر بُو لہب کمبخت بہکاتا
پہاڑوں کا درہ اک قلعہ محصور تھا گویا
خُدا والوں کو فاقوں مارنا منظور138تھا گویا
رسول اللہؐ لیکن مطمئن تھے اور صابر تھے
خُدا جس حال میں رکھے اسی حالت پہ شاکر تھے
وہ حمزہ ؓ کا شکارِ آہواں کے واسطے جانا
کبھی کُچھ بھی نہ ملنا اور خالی ہاتھ آ جانا
وہ بچّوں کا تڑپنا ماہی139 بے آب کی صورت
علیؓ کے ضبط میں غصے کے پیچ و تاب کی صورت
عمرؓ کا ہاتھ اکثر قبضہ شمشیر پر رکھنا
نبیؐ کے حکم پر سر تکیہ تقدیر پر رکھنا
نبیؐ کے حکم کی تعمیل کرنا اور چپ رہنا
غضب کو ضبط کرنا قہر اپنی جان پر سہنا
وہ بھوکی بچّیوں کا روٹھ کرفی الفَور من جانا
خُدا کا نام سن کر صبر کی تصویر بن جانا
تڑپنا بھوک سے کُچھ روز آخر جان کھو دینا
وہ ماؤں کا فلک کو دیکھ کر چپ چاپ140 رو دینا
گزارے تین سال اس رنگ سے ایمان والوں نے
دکھا دی شانِ استقلال اپنی آن والوں نے
رضا و صبر سے دن کٹ گئے ان نیک بختوں کے
کہ کھانے کے لیے ملتے رہے پتّے درختوں کے
دکھائی شکل اس آغاز کے انجام نے اِ ک دن
چچا کودی خبر اس مصدرِ الہام نے اِ ک دن
کہ دیمک کھا چکی ہے ظالموں کے عہد ناموں کو
شکستہ کر دیا اللّہ نے باطل کے خامے کو
ہے عبرت کا سبق اس انتباہِ آسمانی میں
فقط نامِ خدا باقی ہے اس تحریر فانی میں
شکستِ معاہدہ باطل
ابی طالب اٹھے گھر سے نکل کر شہر میں آئے
تھے جِن کے دستخط اس عہد نامے پروہ بُلوائے
کہا،میرے بھتیجے سے ملی ہے یہ خبر مجھ کو
دکھاؤ چل کے وہ تحریر اپنی اِ ک نظر مجھ کو
میں اُس کو چھوڑ دوں گا قول ہے اس کا اگر باطل
وہ حق پر ہے تو پھر اس عہد نامے کا اثر باطل
تبختر کی ادا سے ہنس پڑا بُوجہلِ بد گوہر
اتارا عہد نامہ دیکھ کر سب رہ گئے ششدر141
کہو ظاہر پرستو!کیا یہ امرِ ِ اتفاقی تھا
جو فانی تھا وہ فانی تھا،جو باقی تھا وہ باقی تھا
عام الحزن 142۔۔ابُو طالب اور حضرت خدیجة الکبریٰ ؓ کی وفات
مِلا اس قید سے آخر مُسلمانوں کو چھُٹکارا
اسی انداز سے بہنے لگی تبلیغ کی دھارا
روایت ہے کہ دسواں سال تھا عہد نبوت کا
کہ ٹوٹا آخری رشتہ بھی انسانی حمایت کا
ابُو طالب سدھارے جانبِ ملکِ عدم آخر
اٹھا سر سے چچا کا سایہ لطف و کرم آخر
وہ اُمّ المؤمنین ؓ جو مادرِ گیتی کی عزّت ہے
وہ اُمّ المؤمنین ؓ قدموں کے نیچے جس کے جنّت ہے
خدیجہؓ طاہرہ یعنی نبیؐ کی با وفا بی بی
شریکِ راحت و اندوہ پابندِ رضا بی بی
دیارِ جاودانی کی طرف راہی ہوئیں وہ بھی
گئیں دنیا سے آخر سائے فردوسِ ِ بریں 143 وہ بھی
یہ بی بی تھیں وہ ہمدردِ یتیمی تھے مُحمّدؐ کے
یہ دونو ں غمگسارانِ قدیمی تھے مُحمّدؐ کے
مشیّت کو مگر مد نظر تھی شانِ یکتائی
محمّدؐ کی یہ تنہائی ہی سامانِ یکتائی
قریش اس وقت تک نامِ ِ ابوطالب سے ڈرتے تھے
عرب کے لوگ ان کے مرتبے کا پاس کرتے تھے
ابوطالب کے اٹھ جانے سے ڈر جاتا رہا دل سے
یہ ہستی اک سِ پرتھی ہٹ گئی مدِ ّ مقابل سے
غُلامانِ محمّدؐ تھے حبش کے ملک میں اکثر
یہاں مکّے میں چند افراد تھے یارانِ پیغمبرؐ
دکھائی اور سرگرمی پئے تبلیغ سرورؐ نے
تو باطِل آخری کوشش کے منصوبے لگا کرنے
ہادی اسلام کا سفر طائف
وہ ہادیؐ جو نہ ہو سکتا تھا غیر اللہ سے خائف
چلا اک روز مکے سے نکل کر جانبِ طائف
دیا پیغامِ حق طائف کے رئیسوں 144کو
دکھائی جنس روحانی کمینوں کو خسیسوں کو
نبیؐ کے ساتھ یہ بدبخت پیش آئے رعونت سے
جو سرکردہ تھا ان میں ،بول اٹھا فرط حقارت سے
اگر اللہ تجھے ایسوں کو نبیؐ پاک کرتا ہے
تو گویا پردہ کعبہ کو خود ہی چاک 145 کرتا ہے
کہا اک دوسرے نے واہ وہ بھی ہے خُدا کوئی
پیمبرؐ ہی نہیں ملتا جسے تیرے سوا کوئی146
ظرافت کی ادائے طنز سے اِ ک تیسرا بولا
نہایت بانکپن سے سانپ نے گویا دہن کھولا
اگر مَیں مان لوں تم کر رہے ہو راست گفتاری
توہے تم سے تخاطب میں بھی گستاخی بڑی بھاری
اگر تم جھوٹ کہتے ہو تو ڈرنا چاہئے تم سے
مُجھے پھر بات بھی کوئی نہ کرنا چاہیے تم سے
یہ طعنِ سوقیانہ سُن کے بھی ہادی نہ گھبرایا
اُٹھا اور اُٹھ کے اطمینان و آزاری سے فرمایا
کہ حق پر دل نہیں جمتا تو اچھا خیر جانے دو!
یہ پیغامِ ِ ہدایت شہر والوں کو سنانے دو!
یہ کہہ کر شہر کی جانب چلا اسلام کا ہادی
سُنایا قیدیانِ لات کو پیغامِ آزادی
مگر بھڑکا دیا لوگوں کو اِن تینوں شریروں نے
دکھائی شیطنت شیطان کے سچّے مشیروں نے
پتّھروں کی بارش
بڑھے انبوہ در انبوہ پتھر لے دیوانے
لگے مینہ پتھروں کا رحمتؐ عالم پہ برسانے
وہ ابرِ لطف جس کے سائے کو گلشن ترستے تھے
یہاں طائف میں اس کے جسم پر پتھر برستے تھے
وہ بازو جو غریبوں کا سہارا دیتے رہتے تھے
پیا پے آنے والے پتّھروں کی چوٹ سہتے تھے
وہ سینہ جس کے اندر نورِ حق مستور رہتا تھا
وہی اب شقّ ہوا جاتا تھا اس سے خون بہتا تھا
فرشتے جن پہ آ آ کر جبینِ شوق رکھتے تھے
وہ پائے نازنیں زخموں کی لذت آج چکھتے تھے
جگہ دیتے تھے جن کو حاملانِ عرش آنکھوں پر
وہ نَعلین مبارک خاک و خوں سے بھر گئیں یکسر
بشر کی عیب پوشی کے لیے جس کو اتارا تھا
بشر کی چیرہ دستی سے وہ دامن پارا پارا تھا
زمیں کا سینہ شق تھا اور فلک کا رنگِ رخ فق تھا
کہ ساری عمر کا حاصل شکارِ جورِ ناحق تھا
حضورؐ اس جور سے چور ہو کر بیٹھ جاتے تھے
شقی آتے تھے بازو تھام کر اوپر اٹھاتے تھے 147
اسی ’’مہماں نوازی‘‘ کا نمونہ پھر دکھاتے تھے
خدائے قاہر و قہّار کا صبر آزماتے تھے
یہ جسمانی عقوبت اس پہ طرہ رنجِ ِ رُوحانی
خدا کا مضحکہ کرتے تھے یہ بیداد کے بانی
کوئی کہتا تھا میں ایسے خدا سے ڈر نہیں سکتا!
کہ جو اپنے پیمبرؐ کی حفاظت کر نہیں سکتا!!
غرض یہ بانیانِ شر یہ فرزندانِ تاریکی
نبیؐ پر مشق کرتے جا رہے تھے سنگباری کی
مگر اس رنگ میں جب تک زباں دیتی رہی یارا
دعائے خیر ہی کرتا رہا اللّہ کا پیارا
بالآخر جان کر بے جان ،ان لوگوں نے منہ موڑا
لہُو میں اس وُجودِ پاک کو لتھڑا ہوا چھوڑا
آپؐ سے بد دعا کی خواہش اور رحمت للعالمینؐ کا جواب
غلامِ با وفا زید ابنِ حارث ڈھونڈتا آیا
متاعِ نور کو طائف سے کندھوں پر اُٹھا لایا
حدِ نخلہ 148میں آ پہنچا بحالِ خستہ و غمگیں
وہاں چشمے پہ لا کر زخم دھوئے پٹیاں باندھیں
کہا سرکار ان لوگوں کے حق میں بد دعا کیجیے !
شکایت اِ س جفا و جور کی پیشِ خدا کیجے !
زمیں کو حکم دیجیے ان لعینوں کو ہڑپ کر لے
اسی کا بوجھ ہیں یہ لوگ ان کو پیٹ میں بھر لے
فلک کو حکم دیجیے پھٹ پڑے اِ ن کینہ کاروں پر
بجائے آب،برسے آگ طائف کی پہاڑوں پر
جنابِ رحمة للعالمینؐ نے ہنس کے فرمایا
کہ مَیں اس دہر میں قہر و غضب بن کر نہیں آیا
اگر کچھ لوگ آج اسلام پر ایماں نہیں لاتے !
خدائے پاک کے دامانِ وحدت میں نہیں آتے
مگر نسلیں ضرور ان کی اُسے پہچان جائیں گی
درِ ِ توحید پر اِک روز آ کر سر جھکائیں گی!
میں ان کے حق میں کیوں قہرِ الٰہی کی دعا مانگوں
بشر ہیں بے خبر ہیں کیوں تباہی کی دعا مانگوں
پتّھر مارنے والوں کے لئے آنحضرتؐ کی دعائے خیر
یہ فرما کر نبیؐ نے ہاتھ اُٹھا کر اک دُعا مانگی
خُدا کا فضل مانگا خوئے تسلیم و رضا مانگی
دعا مانگی الٰہی قوم کو چشمِ بصیرت دے
الٰہی رحم کر ان پر انھیں نورِ ِ ہدایت دے
جہالت ہی نے رکھا ہے صداقت کے خلاف ان کو
بچارے بے خبر انجان ہیں کر دے معاف ان کو
فراخی ہمّتوں کو،روشنی دے ان کے سینوں کو
کنارے پر لگا دے ڈُوبنے والے سفینوں کو
الٰہی فضل کر کہسار طائف کے مکینوں پر
الٰہی پھول برسا پتھروں والی زمینوں پر
وہی جوشِ تبلیغ اور یمنیوں اور یثربیوں کا ایمان لانا
رسول اللّہؐ پھر طائف سے مکے کی طرف آئے
برائے دعوت و تبلیغِ حق پھر سر بکف آئے
یہاں بہرِ تجارت سب قبائل آتے جاتے تھے
رسولِ پاک انھیں جا کر پیامِ حق سناتے تھے
بہت سے خوش نصیب اللّہ پر ایمان لے آئے
گھروں کی سمت پلٹے دولتِ عرفان لے آئے
طفیل ابنِ عُمردوسی149 یمن کا شاہزادہ تھا
حضورِ سرورِ دیںؐ اس کا آنا بے ارادہ تھا
قریشِ مکّہ نے بہکا دیا تھا اس کو آتے ہی
کہ انساں عقل کھو دیتا ہے اس کے پاس جاتے ہی
قضا کار ایک دن یہ ہو گیا دو چار حضرت سے
سُنا قرآن ،پھر معمور تھا نورِ ہدایت سے
مسلماں بن کے خُوش قسمت یمن کی سمت لَوٹ آیا
پئے تبلیغ حق اہلِ وطن کی سمت لَوٹ آیا
اسی صورت سویدِ ؓ 150 یثربی ایمان لائے تھے
ایاس ابنِ معاذ اوسی 151 اسی صورت سے آئے تھے
اسی صورت سے چند افراد 152آئے ارضِ یثرب سے
پسند آیا انھیں اسلام ہی سارے مذاہب سے
وطن میں جا کے سب نے دینِ بیضا کی منادی کی
کہ لوگو جاگ اٹھی قسمت ہماری خشک وادی کی
وہ پیغمبرؐ کہ جس کا منتظر سارا زمانہ تھا
وہ پیغمبرؐ نوشتوں153 کے مطابق جس کو آنا تھا
اسی کو دیکھ کر آئے ہیں ہم مکّے کی بستی میں
خُدا کا نام لیتا ہے جہانِ بت پرستی میں
سنو ہم نے کلام اس کا سنا ہے اپنے کانوں سے
جو صُورت ہم نے دیکھی کہہ نہیں سکتے زبانوں سے
خدا کے فضل سے ہم سب مُسلماں ہوکے آئے ہیں
دلوں سے بت پرستی کی نجاست دھوکے آئے ہیں
اہلِ ِ یثرب میں اسلام
یہ سن کر غلغلہ سا پڑ گیا اطرافِ یثرب میں
اُخُوّت از سرِ نو آ چلی اشرافِ یثرب میں
یہاں کے رہنے والے اوس و خزرج کے قبائل تھے
نہایت با مروّت ،اہل دل اہلِ وسائل تھے
یہ باہم بھائی بھائی تھے مگر آپس میں لڑتے تھے
بڑی مدّت سے خانہ جنگیوں میں گھر اُجڑتے تھے
یہُودی بھی یہاں تھے اور معزّز سمجھے جاتے تھے
یہ ساہوکار دھنّا سیٹھ بن کر سود کھاتے تھے
بتوں کو چھوڑ کر اور حُبِّ مال و جاہ کو تج کے
مُسلماں ہو چلے آخر گھرانے اوس و خزرج کے
لیا جانے لگا ختم الرّسلؐ کا نام یثرب میں
لگا ہر سمت پھلنے پھولنے اسلام یثرب میں
حَسَد کرنے لگی قومِ یہود اس دین و ملّت سے
بنے بیٹھے تھے وہ لوگوں کے آقا ایک مدّت سے

0 comments so far,add yours