مدینے میں ضیا افگن ہوئے جب حضرت والا
خدا نے کر دیا جب ظلمت باطل کا منہ کالا

قریش اس تازہ ناکامی سے کھسیانے ہوئے ایسے 
یہ قتل و خون کے مشتاق دیوانے ہوئے ایسے 

کہ فورا ہو گئے پختہ ارادے کشت و غارت کے 
مدینے تک بڑھائے حوصلے اپنی شرارت کے 

وہ مسلم جن پہ بیداد و جفا کرنے کے عادی تھے 
ہمیشہ جن پہ ظلم ناروا کرنے کے عادی تھے 

ہنسا کرتے تھے یہ ظالم تڑپتے دیکھ کر جن کو
ستانے کا تہیہ کر چکے تھے عمر بھر جن کو

لٹاتے تھے جنہیں تپتی ہوئی بالو کے بستر پر
رگ گردن رہا کرتی تھی جن کی نوک خنجر پر

جنہیں آزاد رہ کر سانس لینے کی مناہی تھی
خطا جن کی فقط پابندی امرِ  الٰہی تھی

قریش ان کی یہ آزادی گوارا کس طرح کرتے 
بھلا صلح و صفا کا یہ نظارا کس طرح کرتے 

وہ جن کی سرد آہیں بھی چھپی رہتی تھیں سینے میں
وہ اب آواز سے قرآن پڑھتے تھے مدینے میں

اگرچہ تین سو فرسنگ پر بستے تھے بیچارے 
مگر چلتے تھے رہ رہ کر دلِ  کفار پر آرے 

نبی کے اس طرح زندہ نکل جانے کا غصہ تھا
زمانے پر سے نازک وقت ٹل جانے کا غصہ تھا

یہ غصہ تھا کہ پیاسی رہ گئیں خونخوار تلواریں
زمیں پر کیوں نہ بہ نکلیں مقدس خون کی دھاریں


قریش مکہ کی دھمکی

ہوئی جب ہر طرح ناکام ہر تزویر ہر سازش
غرور و عجب کو صدمہ ہوا زخمی ہوئی نازش

نہایت طیش کھایا دانت پیسے اہل مکہ نے 
بالآخر جنگ کی ٹھانی نبی سے اہل مکہ نے 

مدینے والوں کو اک اشتعال انگیز خط لکھا
ڈرایا اور دھمکایا بہت ہی تیز خط لکھا

کہ اپنے سر پہ خود ہی جنگ کو بلوا لیا تم نے 
ہمارے مجرموں کو اپنے ہاں ٹھہرا لیا تم نے 

تمہیں لازم ہے خط کو دیکھتے ہی یہ کڑی ٹالو
محمدؐ اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر ڈالو

وگرنہ یاد رکھو ہم نے بھی سوگند اٹھا لی ہے 
قسم اپنے ہبل کی لات کی عزیٰ کی کھا لی ہے 

کہ ہم سب مل کے تم لوگوں پہ فورا حملہ کر دیں گے 
گلی کوچے تمہارے شہر کے لاشوں سے بھر دیں گے 

جوانوں کو تمہارے چیل کووں کو کھلائیں گے 
تمہاری عورتوں کو لونڈیاں اپنی بنائیں گے 


عبداللہ بن ابی ۔ منافق

یہ خط مکہ سے عبداللہ ابی کے نام پر آیا
 اور اس نے دیکھتے ہی ساتھیوں کو اپنے دکھلایا 179

مدینے کا یہ بدقسمت مسلمانوں سے جلتا تھا
رسول اللہ کے آنے سے کفِ  افسوس ملتا تھا

مسلمانوں کی آمد سے مٹا تھا اقتدار اس کا
کہ جب مشرک تھے لوگ ان پر تھا پورا اختیار اس کا

یہ اس بستی کے دارالامن بن جانے سے جلتا تھا
چھنی تھی ہاتھ سے شاہی ، کف افسوس ملتا تھا۔

رسول اللہ کی تعلیم سے سب ہو گئے یکساں
اخوت آ گئی اور بھائی بھائی بن گئے انساں

خیال اس کا یہ تھا میں بادشہ ہوں اس مدینے کا
مگر اب کوئی بھی پرساں نہیں تھا اس کمینے کا

مسلمانوں سے جب لڑنے کے منصوبے لگا کرنے 
یہ سن کر، آپ سمجھایا اسے آ کر پیمبر نے 

کہا اے بیوقوفو کیا اجڑنا چاہتے ہو تم
کہ اپنے بھائی بندوں ہی سے لڑنا چاہتے ہو تم

تمہارے بھائی بیٹے سب کے سب پکے مسلماں ہیں
اگر ان سے لڑو گے خود تمہارے ہی یہ نقصاں ہیں

یہ سن کر چل دیے سب ساتھ والے اس منافق کے 
خدا نے دست و بازو کاٹ ڈالے اس منافق کے 

منافق چپ ہوا، اور چپ ہی رہنے کی ضرورت تھی
بظاہر چپ تھا لیکن دل میں کینہ تھا کدورت تھی

یہودی ہر طرح جھٹلا چکے تھے اس پیمبر کو
صلیب مرگ تک پہنچا چکے تھے اس پیمبر کو

بھلا وہ شخص جو اس ظلم کو مذموم ٹھہرائے 
جو پیغمبر کو پیغمبر کہے معصوم ٹھہرائے 

یہودی اس کو پیغمبر اگر جانیں تو کیوں جانیں
اسے سمجھیں تو کیا سمجھیں، اسے مانیں تو کیا مانیں

غرض یہ لوگ بھی اندر ہی اندر سخت دشمن تھے 
دغا باز اور محسن کش تھے مکار اور پر فن تھے 

رسول اللہ کی عظمت کے گرچہ دل سے قائل تھے 
مگر یہ ان کی فطرت تھی عداوت ہی پہ مائل تھے 

بباطن سازشیں تھیں اور بظاہر کچھ نہ کرتے تھے 
 معاہد180 ہو چکے تھے اوس و خزرج سے بھی ڈرتے تھے 

مسلماں ہونے والے اوس و خزرج کے قبائل تھے 
اگرچہ زر میں کم تھے زور میں مد مقابل تھے 

یہ انصار رسول اللہ خوش تھے فقر و فاقے میں
زراعت پر لگے رہتے تھے یثرب کے علاقے میں

ہدایت پا کے اپنی خوبی قسمت پہ نازاں تھے 
خدا کے فضل یعنی آیہ رحمت پہ نازاں تھے 


قریش مکہ کی غارت گری

حسد کی ہر طرف جب عام بیماری لگی بڑھنے 
مسلمانوں کو پھر جینے کی دشواری لگی بڑھنے 

کیا اس طرح آغاز شرارت اہل مکہ نے 
 کہ رہزن بن کے ڈالی طرح غارت 181 اہل مکہ نے 

پھرا کرتے تھے بیرون مدینہ اونٹ میداں میں
انہیں کرز ابن جابر لے گیا روزِ  درخشاں میں

قریش مکہ نے ڈالی جو طرح*جنگ مغلوبہ
کیا باطل نے شمع حق بجھا دینے کا منصوبہ

حدِ  برداشت سے گزری تعدی اہلِ  باطل کی
زیادہ صبر کرنا بے حسی تھی دینِ  کامل کی

صحابہ حضرت اقدس سے اکثر التجا کرتے 
مگر لڑنے سے ان کو منع شاہ دوسرا کرتے 

یہودی مل گئے مکہ کے ان وحشی لعینوں سے 
توقع تھی خلاف عہد کی ہر دم کمینوں سے 

ہوئی تنگ اس قدر آخر مسلمانوں کی عافیت
کہ اندر شہر کے رہ نہ سکتے تھے بخیریت

نکلتے تھے تو گھر جاتے تھے قزاقوں کے دستوں میں
بچارے دن دہاڑے قتل ہو جاتے تھے رستوں میں

خدا کا نام لینا اک نرالا رنگ لایا تھا
نبی صابر تھے فرمان جہاد اب تک نہ آیا تھا


اذن جہاد

بالآخر وقت آیا رحمت حق جوش میں*آئی
کہ اذن جنگ بن کر غیرت حق جوش میں آئی

 معا جبریل لے کر آیہ قرآں 182ہوئے نازل
جہاد فی سبیل اللہ کے فرماں ہوئے نازل

یہ حکم آیا کہ ہاں اب ان غریبوں کو اجازت ہے 
بچارے بے وطن آفت نصیبوں کو اجازت ہے 

وہ جن پر ظلم کے بیداد کے بادل برستے ہیں
جو اپنے ہی وطن میں سانس لینے کو ترستے ہیں

جو ناحق کے ستم سہتے ہیں اور مغموم رہتے ہیں
وطن کو چھوڑ کر بھی بے کس و مظلوم رہتے ہیں

خطا جن کی فقط یہ ہے کہ وہ اسلام لے آئے 
جو دنیا کو لٹا کر اک خدا کا نام لے آئے 

جنہیں دشمن تہیہ کر چکے ہیں تنگ کرنے کا
ہے ان کو اذن حملہ آوروں سے جنگ کرنے کا

خدا ظالم کے منصوبوں کو رد کرنے پہ قادر ہے 
خدا مظلوم لوگوں کی مدد کرنے پہ قادر ہے 

نہ دے اللہ اگر حملوں کے سد باب کی جرات
یونہی بڑھتی رہے ہر ایک شیخ و شاب کی جرات

یہ معبد خانقاہیں صومعے یکسر اجڑ جائیں
منادر اور گرجے بیخ سے بن سے اکھڑ جائیں

مساجد جن کے اندر ذکر حق کثرت سے ہوتا ہے 
جہاں انسان آ کر معصیت کے داغ دھوتا ہے 

گرا دیں لوگ آ کر ان عماراتِ  مقدس کو
نہیں منظور یہ اللہ کی ذات مقدس کو


شرط جہاد

رسول اللہ نے اک دن بصد تاکید و پابندی
سنایا اہل ایماں کو یہ فرمانِ  خداوندی

کہا راہ خدا میں تم کو لڑنے کی اجازت ہے 
خدا کے دشمنوں کو دفع کرنے کی اجازت ہے 

مگر تم یاد رکھو صاف ہے یہ حکم قرآں کا
ستانا بے گناہوں کو نہیں شیوہ مسلماں کا

نہیں دیتا اجازت پیش دستی کی خدا ہرگز
مسلمان ہو تو لڑنے میں نہ کرنا ابتدا ہرگز

فقط ان سے لڑو جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں
فقط ان سے لڑو جو تم پہ جینا تنگ کرتے ہیں


قریش کی دوسری دھمکی

قریش مکہ نے ٹھانی ہوئی تھی قتل و غارت کی
مسلماں بھی لگے تدبیر کرنے اب حفاظت کی

قبائل کا بھی خطرہ تھا دیار ارض یثرب میں
کہ بود و باش تھی جن کی دیار ارضِ  یثرب میں

یہ خطرہ تھا مبادا اہل مکہ سے وہ مل جائیں
رسد کو لوٹ لیں اہل مدینہ پر ستم ڈھائیں

خبر تھی فتنہ آئندہ کی محبوب داور کو
معاہد کر لیا اس واسطے ان میں سے اکثر کو

یہ کوشش تھی کہ دب جائے فساد و جنگ کا فتنہ
نہ اٹھے اس جہاں میں کوئی خونیں رنگ کا فتنہ

مگر اب کر چکے تھے اہل مکہ خوب تیاری
نہ ان کو بیٹھنے دیتی تھی خوئے مسلم آزاری

مسلمانوں کو لکھ کر بھیج دی بو جہل نے دھمکی
کہ پہلے ہی سے اب تم فکر کر لو اپنے ماتم کی

محمد کو بڑا ہی صاحب اعجاز سمجھے ہو
یہاں سے بچ نکلنے کو خدائی راز سمجھے ہو

تمہیں یہ ناز ہو گا آ بسے ہیں اب مدینے میں
سمجھتے ہو گے ہم آزاد ہیں اب مرنے جینے میں

ذرا دم لو کوئی ساعت ٹھہر جاؤ ہم آتے ہیں
تمہارا نام ہی اب لوح ہستی سے مٹاتے ہیں


قافلہ تجارت اور ابو سفیان کے منصوبے 

یہ خالی ایک دھمکی ہی نہ تھی کفار مکہ کی
بہت بد ہو چکی تھیں نیتیں اشرار مکہ کی

نبیؐ پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے 
بس اپنے قافلے کے منتظر کفار بیٹھے تھے 

ابو سفیاں گیا تھا شام کی جانب تجارت کو
نکلنا تھا اسی کی واپسی پر قتل و غارت کو

تجارت کے منافع پر مدار جنگ تھا سارا
تجارت کیا تھی گویا کاروبار جنگ تھا سارا

قریشی تاجروں کا قافلہ جب لوٹ کر آیا
ابو سفیاں منافع کی رقم تھیلوں میں بھر لایا

پہنچ کر مکہ میں اب جنگ کا سامان کرنا تھا
مگر ڈر تھا کہ یثرب کے حوالی سے گزرنا تھا

دغا ہوتی ہے جس دل میں وہی چھاتی دھڑکتی ہے 
فسادِ  بلغمی سے آنکھ رہ رہ کر پھڑکتی ہے 

ابو سفیان کے دل میں بھی ہزاروں وہم آتے تھے 
خیالی وسوسے ہی بھوت بن بن کر ڈراتے تھے 

خیال آیا مسلماں نیک و بد پہچان جاتے ہیں
محمدؐ  آدمی کے دل کی باتیں جان جاتے ہیں

کہیں ایسا نہ ہو مقصد سمجھ لیں اس تجارت کا
مبادا جان لیں سامان ہے یہ قتل و غارت کا

چلے ہیں قاتلوں کے ہم دہانِ  آز بھرنے کو
قبائل ہیں یہ سارا مال و زر تقسیم کرنے کو

سمجھ جائیں یہ سونا قبر کے اندر سلائے گا
سمجھ جائیں کہ یہ کپڑا کفن ان کو پہنائے گا

سمجھ جائیں کہ ان کی صبح پر شام آنے والی ہے 
منافع کی یہ دولت جنگ میں کام آنے والی ہے 

کہیں ایسا نہ ہو اس قافلے کا حال کھل جائے 
سرِ  منزل نہ پہنچیں اور ساری چال کھل جائے 

ہمارا قافلہ مکے پہنچ جائے تو بہتر ہے 
کسی صورت مدینے پر بلا آئے تو بہتر ہے 

یہ کیا ہے آج آگے پاؤں دھرتے ہول آتا ہے 
مدینے کے حوالی سے گزرتے ہول آتا ہے 

اگر اہل مدینہ رستے میں ہی ٹوک لیں ہم کو
ارادوں سے ہمارے باخبر ہوں روک لیں ہم کو

اکارت جائیں گے مکے میں پھر سامان لڑائی کے 
ہوا ہو جائیں گے امکان خنجر آزمائی کے 

یہ سارا مال اگر اہل مدینہ چھین لے جائیں
تو شاید جا کے تلواریں خریدیں قلعے بنوائیں

بڑی دقت ہے پھر اللہ والوں کو مٹانے میں
محمد ہی کا مذہب پھیل جائے گا زمانے میں

کوئی ترکیب ایسی ہو کہ ہم بچ کر نکل جائیں
لڑائی کے لئے مکے سے واپس لوٹ کر آئیں

نئے مذہب کی جڑ تیغ و تبر سے کاٹ دیں آ کر
مدینے کی زمیں لاشوں سے یکسر پاٹ دیں آ کر


شرارت

ابو سفیان الجھتا آ رہا تھا ان خیالوں سے 
کیا اب مشورہ بزدل نے ساتھ والوں سے 

بہت سوچا بالآخر اک شرارت تازہ طے پائی
بلا کر مرد ضمضم نام کو ترکیب یہ سمجھائی

کہا یہ کام اگر کر دے تو اتنا مال پائے گا
ملیں گے اونٹ سونا بھی کئی مثقال پائے گا

چلا مکے کی جانب اونٹ پر چڑھ کر یہ ہرکارا
بڑھا دو منزلے کرتا ہوا و حرص کا مارا


مشرکین میں اشتعال کی چال

ادھر اس قافلے کے منتظر بیٹھے تھے مدت سے 
لڑائی چھیڑنا مقصود تھی فخرِ  نبوت سے 

فقط اس کارواں کی واپسی کا تھا خیال ان کو
کہ تھی لڑنے سے پہلے آرزوئے حفظِ  مال ان کو

قریش اک روز بیٹھے کر رہے تھے جنگ کی باتیں
ابو جہل ان کو سکھلاتا تھا قتلِ  عام کی گھاتیں

اچانک اک صدا اٹھی کہ فریاد اے نبی غالب
اٹھو دوڑو، کرو فی الفور امداد، اے نبی غالب

یہ چیخیں اور فریادیں سنیں تو اہلِ  شر دوڑے 
بہت بیتاب ہو ہو کر اٹھے آواز پر دوڑے 

نظر آیا کہ وادی میں کھڑا ہے اک شتر تنہا
اور اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے اک بشر ننگا

برہنہ جسم ننگِ خانداں معلوم ہوتا ہے 
تباہی اور فلاکت کا نشاں معلوم ہوتا ہے 

شتر کی پیٹھ پر کاٹھی بھی رکھی ہے الٹا کر
نظر آتا ہے آیا ہے کہیں سے کان کٹوا کر

فغاں کرتا ہے چیخیں مارتا ہے روتا جاتا ہے 
پیاپے سینہ کوباں ہو کے بے کل *ہوتا جاتا ہے 

صدا دیتا ہے اے لوگو مری فریاد کو پہنچو
تمہارا مال و زر لٹنے کو ہے امداد کو پہنچو

محمد بدلا لینا چاہتے ہیں برملا تم سے 
سمجھتے ہیں کہ جھیلے ہیں بہت جور و جفا تم سے 

مسلماں قافلے کی تاک میں نکلے ہیں اے یارو
اٹھو، دوڑو، بڑھو، چل کر انہیں روکو انہیں مارو

مجھے ڈر ہے کہ جو ہونا تھا اب تک ہو چکا ہو گا
ابو سفیان بچارا جان اپنی کھو چکا ہو گا

پڑے سوتے ہو تم سونا تمہارا الٹ گیا ہو گا
تمہارا کارواں سارے کا سارا الٹ گیا ہو گا

پکڑ کر لے گئے ہوں گے مسلماں ساتھ والوں کو
نکالو جلد اپنی فوج، دوڑاؤ رسالوں کو

ارے تم سن رہے ہو، تم سے کچھ بھی بن نہیں پڑتی
میری فریاد کی برچھی کسی دل میں نہیں گڑتی


ابو جہل کی آتش افروزی

اب اہل شہر پہچانے کہ ضمضم ہے یہ ہرکارا
گھڑی میں شہر اس کے گرد اکھٹا ہو گیا سارا

وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ہر سو تکتا جا تا تھا
دو ہتڑ پیٹتا جاتا تھا ظالم بکتا جاتا تھا

الجھنے کے لئے تیار تھے پہلے ہی دیوانے 
لگے یہ حال سن کر سانپ کے مانند بل کھانے 

چنگاری پڑ گئی بارود میں شعلہ بھڑک اٹھا
دلِ  ہر ثانی نمرود میں شعلہ بھڑک اٹھا

لگتی تلووں میں آگ ایسی کہ نتھنوں سے دھواں نکلا
غضب کی شکل میں آنکھوں سے مغز استخواں نکلا

غرور عجب نے دل کی سیاہی رخ پہ دوڑا دی
غضبناکی نے  آنکھوں  کو روائے سرخ پہنا دی

یہ ایسی بات تھی جو وہم میں بھی نہ آ سکتی تھی
تصور میں یہ صورت منہ کبھی دکھلا نہ سکتی تھی

مسلمانوں کی یہ جرات کہ ان کا قافلہ روکیں
جو اب تک چھپتے پھرتے تھے انہیں میدان میں ٹوکیں

انہیں ٹھیکہ ملا تھا اہل دنیا کو ستانے کا
کسی کو حق نہ تھا مد مقابل بن کے آنے کا

مسلماں اور ان کے کارواں پر حملہ آور ہوں
خبر سن لیں یہ تو بھتنے اور جامے سے باہر نہ ہوں

وہ ہرکارا تو پلٹا صورت شیطاں بہکا کر
لگے بس گھولنے یہ سانپ پیچ و تاب کھا کھا کر

بھرے بیٹھے تھے پہلے سے ہی بہانہ اور ہاتھ آیا
اٹھا ابو جہل اک تقریر کی لوگوں کو بھڑکایا

کہا بیوقوفو سوچتے کیا ہو، کمر باندھو
اٹھاؤ نیزہ و خنجر اٹھو تیغ و تبر باندھو

مسلمانوں کو مکے سے نکل جانے دیا تم نے 
وہ موقع خوب تھا افسوس ٹل جانے دیا تم نے 

محمدؐ کو یہیں پر ختم کر دو، میں نہ کہتا تھا
مسلمانوں سے قبرستان بھر دو میں نہ کہتا تھا

مدینے میں پہنچ کر اب یہ جرات مل گئی ان کو
تمہیں پر حملہ آور ہوں یہ ہمت مل گئی ان کو

تمہیں ان کو سزا دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی
نیا مذہب مٹا دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی

تمہارے سامنے ہستی ہی کیا ہے اس جماعت کی
مسلماں کیا ہیں اک بے رنگ سی تصویر غربت کی

وہ خود ہیں جنگ کے طالب حیا تم کو نہیں آتی
تمہارا قافلہ لٹتا ہے چھاتی پھٹ نہیں جاتی

 لطیمہ 183 ہو گیا تاراج تو پچھتاؤ گے یارو
تم اپنی بیویوں کو عیش سے ترساؤ گے یارو

یہ بھالے برچھیاں پیکان کس دن کام آئیں گے 
تمہارے جنگ کے سامان کس دن کام آئیں گے 

چلو میدان میں جرات آزماؤ دیکھتے کیا ہو
قریشی نسل کی شوکت دکھاؤ دیکھتے کیا ہو،

ہمارے تین سو اور ساٹھ ہیں، تنہا خدا ان کا
بھلا اتنے خداؤں سے لڑے گا کیا خدا ان کا

اٹھو اے لار و عزیٰ و ہبل کے پوجنے والو
عرب سے ایک خدا کے نام کا دھبہ مٹا لو


قریش مکہ کی چڑھائی

قیامت آ گئی ہر شخص تیاری لگا کرنے 
ہر اک تائید خونریزی و خونخوار لگا کرنے 

درستی ہو گئی جھٹ نیز و شمشیر و خنجر کی
چڑھی آندھی مدینے کی طرف باطل کے لشکر کی

قریشی نسل کے مردان جنگی سر بکف ہو کر
بڑے گھوڑوں پہ یا اونٹوں پہ چڑھ کر صف بصف ہو کر

نصر، بونجتری، حرث ابن عامر تھے یہ سب افسر
ابو جہل اور عتبہ اور شیبہ تھے یہ سر لشکر

چلے وہ سب کے سب جن کو پیمبر سے عداوت تھی
منبہ اور رقعہ عاص بن ہشام و عقبر بھی

بنی ہاشم بھی ان کے ساتھ شامل تھے مجبوری
کہ بزدل سمجھے جاتے گر بتاتے کوئی معذوری

اگر چہ با خبر تھے اس برائی کے نتیجے سے 
چلے عمِ  بنی عباس بھی لڑنے بھتیجے سے 

عقیل ابن ابی طالب بھی ان کے ساتھ شامل تھا
 نہیں تھا بو لہب 184 اس کی بدی کا ہاتھ شامل تھا

قریشی سورما اکشر شریکِ  فوِ ج باطل تھے 
کہ سب جنگ آزمودہ تیغ زن تھے اور قاتل تھے 

یہ لشکر مشتمل تھا ساڑھے گیارہ سو جوانوں پر
دلوں میں بغض، نعرے کفر کے ان کی زبانوں پر

یہ لشکر بڑھ رہا تھا کعبہ توحید ڈھانے کو
مسلمانوں سے لڑنے کو مدینے کے گرانے کو

مدینے کی طرف بڑھتا چلا آتا تھا یہ لشکر
گزر گاہوں میں لوگوں پر غضب ڈھاتا تھا یہ لشکر

زمینِ  دشت کی چھاتی سے آہوں کا غبار اٹھا
فلک بھی کانپ کر العظمۃ للہ پکار اٹھا
آگ لگا کر ابو سفیان مکے پہنچ گیا

ابو سفیان اور ان کا قافلہ بالکل سلامت تھا
مگر ظالم کا یہ فتنہ لگا دینا قیامت تھا

وہ لے کر مال و دولت منزل مقصود پر پہنچا
نہ آیا پیش کوئی حادثہ اور اپنے گھر پہنچا

پہنچ کر مکے میں یہ قافلہ دو روز سستایا
سوئے لشکر مگر اک تیز رو قاصد کو دوڑایا

کہ ہم بچ کر نکل آئے لطیمہ بھی سلامت ہے 
اگر چاہو تو لوٹ آؤ لڑائی بے ضرورت ہے 

اگر سارے عرب کو مشتعل کرنا ضروری ہو
مدینے کی زمیں کو خون سے بھرنا ضروری ہو

تو واپس لوٹ آؤ تاکہ بند و بست ہو جائے 
مسلمانوں کی ہستی جس سے بالکل پست ہو جائے 

تجارت کا منافع بانٹ دو سارے قبائل میں
کہ ہو گی اس سے وسعت اہل مکہ کے وسائل میں

قبائل ان مسلمانوں کا جینا تنگ کر دیں گے 
وہ ان کے کھیت، میداں، راستے لاشوں سے بھر دیں گے 

مدینے کے یہودی بھی ہمارے دوست ہیں سارے 
ابھی خاموش بیٹھے ہیں وہ حلف صلح کے مارے 

انہیں لالچ دیا جائے کہ وہ بھی عہد کو توڑ دیں
یہ مجبوری کی ظاہر داریاں رکھنے سے منہ موڑیں

اگر کچھ خرچ کرنے سے یہ ہو جائے تو کیا کہنا
کہ ہو گا اوس و خزرج کو بھی مشکل شہر میں رہنا

بہر سونا کہ بندی کر کے پھر ہم بھی کریں دھاوا
لگا دیں آگ، کر دیں مسجدوں کو راکھ کا آوا

مزا جب ہے ہمیں بھی حملہ کرنے کا مزا آئے 
کہ ان کے بھاگنے کا راستہ مسدود ہو جائے 

پلٹ آنا اگر ہونا مناسب خیر بڑھ جاؤ
مسلمانوں کے سر پر بھوت کی مانند چڑھ جاؤ

ہماری ضرورت ہو تو کہہ دو ہم بھی آ جائیں
نہیں کچھ اور خیر اس لوٹ ہی کا مال پا جائیں


ابو جہل کا جواب ابو سفیان کے قاصد کو

ہنسا بو جہل یہ پیغام سب کر تن کے یوں بولا
کہ یہ دفتر نصیحت کا ابو سفیان نے کیوں کھولا

اسے کہہ دو لطیمہ رکھ کے جلد آ جائے لشکر میں
وہ چالیں ہی نہ بتلائے ہمیں بیٹھا ہوا گھر میں

قبائل میں کریں کیوں مفت جا کر بادیہ گردی
مسلماں چیز ہی کیا ہیں کریں اتنی جو سردردی

مٹانے کے لئے ان کے یہ جنگی فوج کافی ہے 
خس و خاشاک کی خاطر یہی اک موج کافی ہے 

چڑھائی ہو چکی ہے اب پلٹ چلنا ہے نا ممکن
مسلمانوں کے سر سے موت کا ٹلنا ہے نا ممکن

ابو سفیان سے کہہ دینا کہ تم سمجھے ہو کیا ہم کو
تمہارا مدعا جو کچھ بھی تھا معلوم تھا ہم کو

جو قاصد تم نے بھیجا تھا اسے پہچانتے تھے ہم
تمہارے کارواں کو بھی سلامت جانتے تھے ہم

سمجھ لی بات ہم نے قوم ساری مشتعل کر دی
لگا دی آگ رگ رگ میں تمنا جنگ کی بھر دی

یہ لشکر جمع ہو کر بہرِ  قتل و خوں نکل آیا
نکلنا تھا جو مطلب مال و زر سے یوں نکل آیا

ہوا مفتوح پہلا مرحلہ اب تم بھی آ جاؤ
سلامت ہے تمہارا قافلہ اب تم بھی آ جاؤ

اگر تم عیش کرنے کے لئے بیٹھے ہو مکے میں
مزے سے پیٹ بھرنے کے لئے بیٹھے ہو مکے میں

تو لشکر میں ہمارے عیش و عشرت کی کمی کیا ہے 
یہاں ہر چیز ہے موجود ہر نعمت مہیا ہے 

شرابیں ناچ گانا کھانا پینا ساتھ لائے ہیں
بھلا لگتا ہے جن چیزوں سے جینا ساتھ لائے ہیں

بہت سی گانے والی عورتیں ہمراہِ  لشکر ہیں
انہیں کے حسن سے معمور یہ خرگاہ لشکر ہیں


انہیں سے منزلوں میں اہتمامِ  عیش رہتا ہے 
کہ ہر سردار کا خیمہ مقامِ  عیش رہتا ہے 

ہماری رات غرقِ  بادہ سر جوش رہتی ہے 
صدائے چنگ و دف گلبانگِ نوشا نوش رہتی ہے 

کبھی چشمِ  فلک نے یہ نرالے رنگ دیکھے ہیں
نظر سے گزرے ہیں یہ عیش، ایسے رنگ دیکھے ہیں

مگر یہ مت سمجھ لینا کہ ہم بیہوش و غافل ہیں
ارے خود آ کے دیکھو ویسے ہی سفاک و قاتل ہیں

ہمارا جوش ہر منزل پہ دونا ہوتا جاتا ہے 
کہ ہر مے نوش دل سے زنگِ حسرت دھوتا جاتا ہے 

یہ قومی آن کی باتیں ہیں متوالے نہیں ہیں ہم
دکھانا ہے کہ ہر رنگ میں مسند نشیں ہیں ہم

قریشی نسل کی شانِ  امارت کے امیں ہم ہیں
عرب کا کون مالک ہے ؟ ہمیں ہم ہیں ہمیں ہم ہیں

عرب کے رہنے والوں کو دکھا کر بزم کا نقشہ
بتا دیں بر سر میداں جما کر رزم کا نقشہ

یہ ساری عشرتیں اہل وغا کا دل لبھائیں گی
ہمیں جنگاہ تک لے جائیں گی پھر لوٹ آئیں گی

وہاں ہم کیا کریں گے ، یہ نہ پوچھو بس سمجھاؤ
مسلمانوں کی حالت دیکھنی چاہو تو جلد آؤ 185

تفنگ و نیزہ و خنجر، شراب و نغمہ و ساقی
مجھے یہ تو بتاؤ شہر میں کیا چیز ہے باقی

مرا مطلب یہ ہے بزدل نہ کہلاؤ ابو سفیان
مجھے تم جانتے ہو منہ نہ کھلواؤ ابو سفیان


صورتِ  حالات کی نزاکت، نبی صلعم کا مشورہ صحابہ سے 

ادھر گاو زمیں تھرا رہی تھی بد نہادوں سے 
ادھر اہل مدینہ بے خبر تھے ان ارادوں سے 

وہی اک ملہمِ  صادق، وہی اک دیدہ بینا
اسی کا قلب تھا جس پر تھا سارا حال آئینہ

اسے معلوم تھا آغاز و انجام اس چڑھائی کا
اس کا دل تھا جس میں درد تھا ساری خدائی کا

وہ سب کچھ جانتے ہیں جو اماں دیتے ہیں جانوں کو
خبر ہوتی ہے خونی بھیڑوں کی گلہ زبانوں کو

رسول اللہ نے اک دن مسلمانوں کو بلوایا
بٹھایا مسجدِ  نبوی میں سب کو اور فرمایا

کہ دو جانب سے اٹھ کر جنگ کا طوفان آتا ہے ،
قریشی فوج آتی ہے ، ابو سفیان آتا ہے 

ابو سفیان پلٹ آیا ہے لے کر شام کی دولت
قبائل میں یہ زر تقسیم کر دینے کی ہے نیت

اٹھائے گا قبائل کو تمہارے سر پہ لائے گا
مدینے پر قیامت ڈھائے گا فتنے اٹھائے گا

ادھر مکے سے لشکر چل چکا ہے لڑنے مرنے کو
تمہارے دین و امن صلح کے برباد کرنے کو

اٹھے ہیں اہل مکہ تاخت و تاراج کی خاطر
چلا آتا ہے باطل حق سے استمزاج کی خاطر

حلیفوں میں تمہارے ہیں یہودی اور کافر بھی
حمایت میں مسلمانوں کی ہیں کمزور و لاغر بھی

کرو قطع نظر اس سے کہ ان کا دین ہے کیسا
کہ دین و مذہب و ملت میں ہے اکراہ نازیبا

وہ عربانی بلندی پر ہیں یا پستی میں بستے ہیں
تمہارے دامنوں میں امن کی بستی میں بستے ہیں

بہت لوگ طرز غیر جانبدار رکھتے ہیں
بچارے بال بچے رکھتے ہیں گھر بار رکھتے ہیں

مدینے پر ہوا حملہ تو گھبرائیں گے بیچارے 
جفا و ظلم کی چکی میں پس جائیں گے بیچارے 

مسلمانوں پہ لازم ہے حمایت ان حلیفوں کی
مبادا آبرو بگڑے شریفوں کی ضعیفوں کی

قریش مکہ کی یورش کا باعث صرف مسلم ہیں
کہ اب تک باوجود ضعف، دین اللہ پہ قائم ہیں

وہ حق سے پھیر لینا چاہتے ہیں تم کو جبریہ
تمہیں پہ فرض ہے اس یورش بے جا کا دفعیہ

اگر چہ مفلس و نادار ہو تعداد میں کم ہو
قریش مکہ سے سامان میں افراد میں کم ہو

مہاجر بے وطن ہیں بے نواز کچھ بھی نہیں رکھتے 
غریب انصار بھی دل کے سوا کچھ نہیں رکھتے 

سواری اور ہتھیاروں کی حالت بھی نہیں اچھی
گھروں میں بعض بیماروں کی حالت بھی نہیں اچھی

مسلمانوں مگر اس راہ میں اللہ کافی ہے 
جہاد فی سبیل اللہ میں اللہ کافی ہے 

تمہارا عندیہ کیا ہے لڑیں یا بند ہو بیٹھیں
چلیں میدان میں یا شہر کے پابند ہو بیٹھیں


مہاجرین کا مشورہ

ابو بکر و عمر نے عرض کی اے ہادی دوراں
ہمارے مال، جاں، اولاد سب اسلام پر قرباں

غلامان محمد جان دینے سے نہیں ڈرتے 
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے کچھ پروا نہیں کرتے 

اٹھے مقداد اٹھ کر عرض کی اے سرور عالم
نہیں ہیں قوم موسیٰ کی طرح کہہ دینے والے ہم

کہا تھا اس نے اے موسیٰ آرام کرنے دے 
جہاں کی نعمتیں ملتی ہیں ان سے پیٹ بھرنے دے 

خدا کو ساتھ لے جا اور باطل سے لڑائی کر
ہمارے واسطے خود جا کے قسمت آزمائی کر

ہمیں کیوں ساتھ لے جاتا ہے دنیا سے اجڑنے کو
خدا اور اس کا موسیٰؑ ہی بہت کافی ہیں لڑنے کو

معاذ اللہ مثیل امت موسیٰ نہیں ہیں ہم
جہاں میں پیروان دین ختم المرسلیںؐ ہیں ہم

ہمارا فخریہ ہے ہم غلامان محمدؐ ہیں
ہمیں باطل کا ڈر کیا زیر دامان محمدؐ ہیں

مسلماں کو ڈرا سکتے ہیں کب یہ نیز ہ و خنجر
لڑیں گے سامنے ہو کر عقب پر دائیں بائیں پر

بزرگان مہاجر نے دکھائی جب توانائی
رسول اللہؐ نے سن کر دعائے خیر فرمائی


انصار کا جوش ایمان

صف انصار کی جانب اٹھیں آنکھیں نبوت کی
تو سعد ابن معاذؓ اٹھے دکھائی شان جرات کی

ادب سے عرض کی انصار ہیں ہم یا رسول اللہؐ
غلام سید ابرار ہیں ہم یا رسول اللہؐ

خدا نے ہم غریبوں پر عجب احسان فرمایا
کہ ختم المرسلیں اس شہر میں تشریف لے آیا

جہاں میں اس سے بڑھ کر کوئی عزت مل نہیں سکتی
کسی کو بھی ابد تک اب یہ دولت مل نہیں سکتی

خدائے پاک کے فرمان پر ایمان لائے ہم
رسول اللہؐ پر قرآن پر ایمان لائے ہم

تو کیا اب موت کے ڈر سے یہ دولت ہم گنوا دیں گے 
بھلا دیں گے احساں بار لغت سر پہ لا دیں گے 

تعالی اللہ یہ شیوہ نہیں ہے با وفاؤں کا
پیا ہے دودھ ہم لوگوں نے غیرت دار ماؤں کا

صداقت دیکھ کر رکھا تھا ان قدموں پہ سر ہم نے 
کہ مانا آپ کو روشن دلائل دیکھ کر ہم نے 

قسم اللہ کی جس نے نبیؐ مبعوث فرمایا
سبھی کچھ پا لیا جس وقت ہم نے آپ کو پایا

گدائی کے در کی ہماری پادشاہی ہے 
ہمیں تو آپ کا ارشاد ہی وحی الٰہی ہے 

ہمیں میدان میں لے جائیے یا شہر میں رہئے 
کسی سے صلح کو فرمائیے یا جنگ کو کہئے 

ہمارا فرض ہے تعمیل کرنا رائے عالی کی
ہماری زندگی تکمیل ہے ایمائے عالی کی

ہمارا مرنا جینا آپ کے احکام پر ہو گا
کسی میدان میں ہو خاتمہ اسلام پر ہو گا

اگر ارشاد ہو بحر فنا میں کود جائیں ہم
ہلاکت خیز گرداب بلا میں کود جائیں ہم

نبیؐ کا حکم ہو تو پھاند جائیں ہم سمندر میں
جہاں کو محو کر دیں نعرہ اللہ اکبر میں

قریش مکہ تو کیا چیز ہیں دیووں سے لڑ جائیں
سنان نیزہ بن کر سینہ باطل میں گڑ جائیں ہم


وعدہ نصرت الٰہی

نظارہ دیکھ کر انصار کے جوش اطاعت کا
اٹھا عرش معلیٰ کی طرف چہرہ نبوت کا

یہ وحدت آج وحدت کے مبلغ کو پسند آئی
اٹھا کر ہاتھ حضرت نے دعائے خیر فرمائی

دعا کے بعد لوگوں کو نوید فتح و نصرت دی
برائے جنگ یثرب سے نکلنے کی اجازت دی

کہا دونوں میں تم کو اک جماعت ہاتھ آئے گی
خدا نے وعدہ فرمایا ہے نصرت ہاتھ آئے گی

رہے گا بول بالا قدرت حق سے صداقت کا
گرے گا جڑ سے کٹ کے نخل کفر و ظلم و بدعت کا

فلک پر تھوکنے والے زمیں پر سرنگوں ہونگے 
یقین رکھو کہ خود سر حملہ آور سرنگوں ہونگے 



مجاہدین اسلام جہاد کے رستے پر

نماز صبح پڑھ کر ہو گئی چلنے کی تیاری
اٹھا خود مسجد نبوی سے ابر رحمت باری

دکھانا شان حق منظور تھی ہادی کامل کو
مدینے سے نکل کر روکنا تھا فوج باطل کو

دوم تھا سال ہجری بارھویں تھی ماہ رمضاں کی
کہ نکلی مختصر سی اک جماعت اہل ایماں کی

نکل کر شہر سے تعداد دیکھی جانثاروں کی
تو گنتی تین سو تیرہ تھی ان طاعت گذاروں کی

سلاح جنگ یہ تھا آٹھ تلواریں تھیں چھ زرہیں
غناء کا رنگ یہ تھا چیتھڑوں میں بیسیوں گرہیں

کمانیں اور نیزے ، چوبہائے نا تراشیدہ
حدود کفش سے آزاد پائے آبلہ دیدہ

زیادہ لوگ پیدل تھے سواری پر بہت تھوڑے 
کہ ستر اونٹ تھے بہر سواری اور دو گھوڑے 

ہلا دیتی تھی کہساروں کو جن کی دھاک پیدل تھے 
جناب حمزہ کیا خود صاحب لو لاک پیدل تھے 

علیؓ اور بولبابہ اور جناب سید عالمؐ
یہ تینوں باری باری سے شریک ناقہ تھے باہم

ابو بکرؓ و عمرؓ اور عبد رحمٰنؓ اک سواری پر
منازل طے کئے جاتے تھے اپنی اپنی باری پر

سمندر میں اٹھا کرتی ہے جیسے موج بے پروا
اسی صورت رواں تھی غازیوں کی فوج بے پروا

کھجوریں تک میسر تھیں نہ جن کے پیٹ بھرنے کو
یہ اللہ کے مجاہد تھے چلے تھے جنگ کرنے کو

بہت سے سر بسر محروم گھوڑے سے اور ناقے سے 
بہت ایسے تھے جن کی رات بھی کٹتی تھی فاقے سے 

خیال عظمت ملت مکیں تھا ان کے سینوں میں
کوئی ساماں نہ تھا ذوق یقیں تھا ان کے سینوں میں

یہ چند افراد اٹھے تھے ضعیفوں کی حمایت کو
شریروں کے مقابل میں شریفوں کی حمایت کو

چلے تھے یہ مجاہد آج میدان شہادت میں
محمدؐ کی ہدایت پر محمدؐ کی قیادت پر


کفار کا ڈیرا میدان بدر میں

زرہ پہنے ہوئے جب لشکر نور سحر نکلا
شر خاور اٹھا بہر مدد سینہ سپر نکلا

فضائے دہر سے اب اٹھ چلی شب کی علمداری
خدا دینے لگا باطل کو پاداش سیہ کاری

شعاعیں برچھیاں بن کر اندھیروں کی طرف لپکیں
بلائیں بھاگ اٹھیں اپنے ڈیروں کی طرف لپکیں

تکبر، ظالم، گستاخی، دل آزاری، من و مائی
تشدد، کینہ توزی، ناز، خود بینی، خود آرائی

ستانے کے طریقے قتل کر دینے کی ایجادیں
یہ بچے مادر شب کے اندھیرے کی یہ اولادیں

ہوئے آ آ کے سب شامل گروہ اہل باطل میں
یہ فتنے آ بسے کفار کے تہ خانہ دل میں

خودی نے بھر دیئے تھے کبر کے طوفان ہر سر میں
ڈبونے جا رہے تھے کشتیِ حق آب خنجر میں

لگایا بدر کے میدان میں کفار نے ڈیرا
یہاں تدبیر کی تزویر کو تقدیر نے گھیرا


ابو جہل کا غرور

یہاں بو جہل نے آتے ہی پھر لوگوں کو بھڑکایا
دلایا جوش سب کو اور خود بھی جوش میں آیا

کہا یہ دن وہ ہے جس کی طلب تھی ایک مدت سے 
اکٹھے ہیں صنادید قریش اس وقت قسمت سے 

ہمارے پہلواں بھاری ہیں سو سو پہلوانوں پر
مدینے بھر میں شور الحذر ہو گا زبانوں پر

یہ خود سر پہلواں کیا پھر کبھی ساتھ آنے والے ہیں
بھلا ایسے مواقع پھر کبھی ہاتھ آنے والے ہیں

یہ سارے مہربانی ہے ہمارے دیوتاؤں کی
چڑھائی ہو گئی ہے اک خدا پر سب خداؤں کی

کریں گے جب یہ مل کر تین سو اور ساٹھ تقدیریں
اٹھیں گی ساتھ ساڑھے گیارہ سو خوں ریز شمشیریں

میں دیکھوں گا کہ وہ تنہا خدا کس کام آتا ہے 
کہاں لے جا کے مٹھی بھر جماعت کو چھپاتا ہے 

یہ برچھے بجلیاں بن بن کے جن کے پھل چمکتے ہیں
کہاں ہیں آج وہ سینے جو ان کو روک سکتے ہیں

ذرا دیکھو تو یہ خونخوار جوہر دار شمشیریں
یہ شمشیریں پہاڑوں پر گریں تو بیخ تک چیریں

یہ خنجر دیکھتے ہو جو کھنچے جاتے ہیں تن تن کر
تڑپتے ہیں کہ تیریں موج خوں میں مچھلیاں بن کر

ہمارے تیر دیکھو ان کا مینہ جس دم برستا ہے 
تو لاکھوں بسملوں کا کھیت پانی کو ترستا ہے 

رسد کو دیکھو نظارا کرو سامان جنگی کا
ہے چہروں سے ظاہر دبدبہ مردان جنگی کا

نظارے ہی سے اصحاب محمدؐ کانپ جائیں گے 
ہمارے ہر سپاہی کو وہ اک جلاد پائیں گے 

مسلمانوں کے حق میں واقعی پتھر ہے دل ان کا
نہیں پتھر نہیں ، پتھر سے کچھ بڑھ کر ہے دل ان کا

محمدؐ خود کہیں گے ہاں یہ جلادوں کا لشکر ہے 
یہ نمرودوں کی فوجیں ہیں یہ شدادوں کا لشکر ہے 

ہمارے نام کی ہیبت عرب پر بیٹھ جائے گی
مسلماں قتل ہونگے دھاک سب پر بیٹھ جائے گی

یہاں اک دن ٹھہر کر پھر بڑھو باقاعدہ ہو کر
اچانک اس طرح سے جا پڑو اہل مدینہ پر

کہ ان  کے بھاگنے کی سعی بھی ناکام ہو جائے 
کوئی بچنے نہ پائے یعنی قتل عام ہو جائے 

علم کفار کا لہرا گیا وادی کے دامن پر
اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا اس روز روشن پر

بڑی ترتیب سے خیمے لگائے اہل باطل نے 
رسد بٹنے لگی، لحم شتر سب کو لگا ملنے 

زمیں کے جسم سے ہر خیمہ اک پر سوز چھالا تھا
کہ میخوں ہی سے جس نے بدر کا دل چھید ڈالا تھا

لگا اس شان و شوکت پر دماغ چرخ چکرانے 
غضب کے سازو ساماں لے کے آئے تھے یہ دیوانے 

زمین و آسماں حیران تھے ، کیا ہونے والا ہے 
قیامت آ رہی ہے ، حشر برپا ہونے والا ہے 


مسلمانوں کی کمزور جماعت

ادھر سے جا رہی تھی اک جماعت حق ستوں کی
بباطن روزہ داروں کی بظاہر فاقہ مستوں کی

نہ ان کے پاس خیمے تھے نہ سامان رسد کوئی
نہ ان کی پشت پر تھا جز خدا بہر مدد کوئی

نہ زرہیں تھیں، نہ ڈھالیں تھیں نہ خنجر تھے نہ شمشیریں
فقط خاموش تسکیں تھی، فقط پر جوش تکبیریں

کوئی ساماں نہیں تھا ایک ہی سامان تھا ان کا
خدا واحد، نبی صادق ہے ، یہ ایمان تھا ان کا

بنا کر اپنے سینوں کی سپر آیات قرآں کو
بظاہر چند تنکے روکنے آئے تھے طوفاں کو

انہی کے نور سے ہر سو اجالا ہونے والا تھا
انہی کے دم سے حق کا بول بالا ہونے والا تھا


0 comments so far,add yours