جہاں جہاں تری نظروں کی اوس ٹپکی تھی
وہاں وہاں سے ابھی تک غبار اٹھتا ہے
جہاں جہاں ترے جلووں کے پھول بکھرے تھے
وہاں وہاں دلِ وحشی پکار اٹھتا ہے
٭٭٭
تپتے دل پر یوں گرتی ہے
تیری نظر سے پیار کی شبنم
جلتے ہوئے جنگل پر جیسے
برکھا برسے، رک رک، تھم تھم
٭٭٭
کس کو خبر تھی، کس کو یقیں تھا ایسے بھی دن آئیں گے
جینا بھی مشکل ہو گا، اور ہم مرنے بھی نہ پائیں گے
ہم جیسے برباد دلوں کا جینا کیا اور مرنا کیا
آج تری محفل سے اٹھے، کل دنیا سے اٹھ جائیں گے
٭٭٭
ہوش میں تھوڑی بے ہوشی ہے
بے ہوشی میں ہوش ہے کم
تجھ کو پانے کی کوشش میں
دونوں جہاں سے کھو گئے ہم
٭٭٭
اب آئیں یا نہ آئیں ادھر، پوچھتے چلو
کیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلو
ہم سے اگر ہے ترکِ تعلق، تو کیا ہوا
یارو! کوئی تو ان کی خبر پوچھتے چلو
جو خود کو کہہ رہے ہیں کہ منزل شناس ہیں
ان کو بھی کیا خبر ہے، مگر پوچھتے چلو
کس منزلِ مراد کی جانب رواں ہیں ہم
اے رہروانِ خاک بسر پوچھتے چلو
٭٭٭

0 comments so far,add yours