طلسم کن سے قائم بزمِ ہست و بود ہو جانا
اشارے ہی سے موجودات کا موجود ہو جانا
عناصر کا شعور زندگی سے بہرہ ور ہونا
لپٹ کر آب و خاک و باد و آتش کا بشر ہونا
یہ کیا تھا، کس لیے ، کس کے لیے تھا، مدعا کیا تھا؟
یونہی تھا یا کوئی مقصد تھا، آخر ماجرا کیا تھا؟
وہ جلوہ جو چھپا بیٹھا تھا اپنے راز پنہاں میں
درآیا کیوں تماشا بن کے وہ بازار امکاں میں
یہ کس کی جستجو میں مہرِ عالمتاب پھرتا تھا
ازل کے روز سے بیتاب تھا بیخواب پھرتا تھا
یہ کس کی آرزو میں چاند نے سختی سہی برسوں
زمیں پر چاندنی برباد و آوارہ رہی برسوں
یہ کس کے شوق میں پتھرا گئیں آنکھیں ستاروں کی
زمیں تو تکتے تکتے آ گئیں آنکھیں ستاروں کی
کروڑوں رنگتیں کس کے لیے ایام نے بدلیں
پیا پے کروٹیں کس دھن میں صبح و شام نے بدلیں
یہ کس کے واسطے مٹی نے سیکھا گل فشاں ہونا
گوارا کر لیا پھولوں نے پامالِ خزاں ہونا
یہ سب کچھ ہو رہا تھا ایک ہی امید کی خاطر
یہ ساری کاہشیں تھیں ایک صبح عید کی خاطر
مشیت تھی کہ یہ سب کچھ تہِ افلاک ہونا تھا
کہ سب کچھ ایک دن نذرِ شہِ لولاک ہونا تھا
خلیل اللہ نے جس کے لیے حق سے دعائیں کیں
ذبیح اللہ نے وقتِ ذبح جس کی التجائیں کیں
جو بن کر روشنی پھر دیدہ یعقوبّ میں آیا
جسے یوسفّ نے اپنے *حسن کے نیرنگ میں پایا
کلیم اللہ کا دل روشن ہوا جس ضو فشانی سے
وہ جس کی آرزو بھڑکی جوابِ لن ترانی سے
وہ جس کے نام سے داؤد نے نغمہ سرائی کی
وہ جس کی یاد میں شاہِ سلیماں نے گدائی کی
دل یحیی میں ارماں رہ گئے جس کی زیارت کے
لبِ عیسیّٰ پہ آئے وعظ جس کی شانِ رحمت کے
وہ دن آیا کہ پورے ہو گئے تورات کے وعدے
خدا نے آج ایفا کر دیئے ہر بات کے وعدے
مرادیں بھر کے دامن میں مناجاتِ زبور آئی
امیدوں کی سحر پڑھتی ہوئی آیاتِ نور آئی
نظر آئی بالآخر معنی انجیل کی صورت
ودیعت ہو گئی انسان کو تکمیل کی صورت
اندھیری رات کے پردے سے کی حق نے سحر پیدا
ہوا بہر بصیرت کحل ما زاغ البصر پیدا
ربیع الاول امیدوں کی دنیا ساتھ لے آیا
دعاؤں کی قبولیت کو ہاتھوں ہاتھ لے آیا
خدا نے ناخدائی کی خود انسانی سفینے کی
کہ رحمت بن کے چھائی بارھویں شب اس مہینے کی
ازل کے روز جس کی دھوم تھی وہ آج کی شب تھی
ارادے ہی میں جو مرقوم تھی وہ آج کی شب تھی
مشیت ہی کو جو معلوم تھی وہ آج کی شب تھی
جو قسمت کے لیے مقسوم تھی وہ آج کی شب تھی
نئے سر سے فلک نے آج بختِ نوجواں پایا
خزاں دیدہ زمیں پر دائمی رنگِ بہار آیا
ادھر سطح فلک پر چاند تارے رقص کرتے تھے
ادھر روئے زمیں کے نقش بنتے تھے سنورتے تھے
سمندر موتیوں کو دامنوں میں بھر کے بیٹھے تھے
جبل لعل و جواہر کو مہیا کر کے بیٹھے تھے
زمرد وادیوں میں سبزہ بن کر ہر طرف بکھرا
ہوئی باران رحمت ہر شجر کا رنگِ رخ نکھرا
ہوائیں پے بہ پے اک سرمدی پیغام لاتی تھیں
کوئی مژدہ تھا جو ہر گوشِ گل میں کہہ سناتی تھیں
گلے پھولوں سے ملتے جا رہے تھے پھول گلشن میں
گلے مل مل کے کھلتے جا رہے تھے پھول گلشن میں
تبسم ہی تبسم تھے نظارے لالہ زاروں کے
ترنم ہی ترنم تھے کنارے جوئباروں کے
جہاں میں جشن صبح عید کا سامان ہوتا تھا
فقط شیطان تنہا اپنی ناکامی پہ روتا تھا
نظر آئیں جو محکم فطرتِ کامل کی بنیادیں
دھڑک کر زلزلے سے ہل گئیں باطل کی بنیادیں
ستوں مکے میں قائم ہو گئے جب دینِ بیضا کے
گِرے غش کھا کے چودہ کنگرے ایوانِ کسریٰ کے
سر فاران پہ لہرانے لگا جب نور کا جھنڈا
ہوا اک آہ بھر کر فارس کا آتشکدہ ٹھنڈا
بجائی آج اسرافیل نے پر کیف شہنائی
ہوئی فوج ملائک جمع زیر چرخ مینائی
ندا آئی دریچے کھول دو ایوانِ قدرت کے
نظارے خود کرے گی آج قدرت شانِ قدرت کے
یکایک ہو گئی ساری فضا تمثال آئینہ
نظر آیا معلق عرش تک اک نور کا زینہ
خدا کی شان رحمت کے فرشتے صف بہ صف اترے
پرے باندھے ہوئے سب دین و دنیا کے شرف اترے
سحاب نور آ کر چھا گیا مکے کی بستی پر
ہوئی پھولوں کی بارش ہر بلندی اور پستی پر
ہوا عرش معلیٰ سے نزولِ رحمتِ باری
تو استقبال کو اٹھی حرم کی چاردیواری
صدا ہاتف نے دی اے ساکنانِ خطہ ہستی
ہوئی جاتی ہے پھر آباد یہ اجڑی ہوئی بستی
مبارک باد ہے ان کے لیے جو ظلم سہتے ہیں
کہیں جن کو اماں ملتی نہیں برباد رہتے ہیں
مبارک باد بیواؤں کی حسرت زا نگاہوں کو
اثر بخشا گیا نالوں کو فریادوں کو آہوں کو
ضعیفوں بیکسوں آفت نصیبوں کو مبارک ہو
یتیموں کو غلاموں کو غریبوں کو مبارک ہو
مبارک ٹھوکریں کھا کھا کے پیہم گرنے والوں کو
مبارک دشتِ غربت میں بھٹکتے پھرنے والوں کو
خبر جا کر سنا دو شش جہت کے زیردستوں کو
زبردستی کی جرات اب نہ ہو گی خود پرستوں کو
معین وقت آیا زور باطل گھٹ گیا آخر
اندھیرا مٹ گیا ظلمت کا بادل چھٹ گیا آخر
مبارک ہو کہ دورِ راحت و آرام آ پہنچا
نجات دائمی کی شکل میں اِ سلام آ پہنچا
مبارک ہو کہ ختم المرسلیں ْ تشریف لے آئے
جناب رحمۃ للعالمیں ْ تشریف لے آئے
بصد انداز یکتائی بغایت شانِ زیبائی 64
امیں بن کر امانت آمنہ کی گود میں آئی
ندا ہاتف کی گونج اٹھی زمینوں آسمانوں میں
خموشی دب گئی اللہ اکبر کی اذانوں میں
حریم قدس سے میٹھے ترانوں کی صدا گونجی
مبارک باد بن کر شادیانوں کی صدا گونجی
بہر سو نغمہ صل علی گونجا فضاؤں میں
خوشی نے زندگی کی روح دوڑا دی ہواؤں میں
فرشتوں کی سلامی دینے والی فوج گاتی تھی
جناب آمنہ سنتی تھیں یہ آواز آتی تھی
سلام
سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی
سلام اے فخرِ موجودات فخرِ نوع انسانی
سلام اے ظلِ رحمانی، سلام اے نورِ یزدانی
ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لوحِ پیشانی
سلام اے سرِ وحدت اے سراجِ بزمِ ایمانی
زہے یہ عزت افزائی، زہے تشریف ارزانی
ترے آنے سے رونق آ گئی گلزارِ ہستی میں
شریکِ حال قسمت ہو گیا پھر فضلِ ربانی
سلام اے صاحبِ خلقِ عظیم انساں کو سکھلا دے
یہی اعمالِ پاکیزہ یہی اشغالِ روحانی
تری صورت، تری سیرت، ترا نقشا، ترا جلوہ
تبسم، گفتگو، بندہ نوازی، خندہ پیشانی
اگرچہ فقر فخری رتبہ ہے تیری قناعت کا
مگر قدموں تلے ہے فرِ کسرائی و خاقانی
زمانہ منتظر ہے اب نئی شیرازہ بندی کا
بہت کچھ ہو چکی اجزائے ہستی کی پریشانی
زمیں کا گوشہ گوشہ نور سے معمور ہو جائے
ترے پرتو سے مل جائے ہر اک ذرے کو تابانی
حفیظ بے نوا کیا ہے گدائے کوچۂ الفت
عقیدت کی جبیں تیری مروت سے ہے نورانی
ترا در ہو مرا سر ہو مرا دل ہو ترا گھر ہو
تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی
سلام ، اے آتشیں زنجیرِ باطل توڑنے والے
سلام، اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے
آنحضرت کے دادا عبدالمطلب کو خبر ملتی ہے
تھے عبدالمطلب کے بیٹے پوتے اور دس بارا 65
پھلا پھولا نظر آتا تھا اپنا خانداں سارا
اگرچہ بولہب، عباس، حمزہ اور ابو طالب
سبھی زندہ تھے عبداللہ کا غم تھا مگر غالب
جوانی کے دنوں میں اک نرالا خواب 66 دیکھا تھا
درختِ نسل ہاشم اس قدر شاداب دیکھا تھا
کہ اس کے سائے میں دونوں جہاں معلوم ہوتے تھے
مکان و لامکاں دو ٹہنیاں معلوم ہوتے تھے
وہ عبداللہ کو اس خواب کی تعبیر سمجھے تھے
اسی رخ کو کتابِ نور کی تفسیر سمجھے تھے
جوانی ہی میں لیکن ہو گیا جب انتقال ان کا
رہا بوڑھے پدر کے قلب میں رنج و ملال ان کا
جوانا مرگی فرزند سے ناشاد رہتے تھے
بچاری حاملہ بیوہ بہو کا رنج سہتے تھے
طواف کعبہ کرنا صبح کا معمول تھا ان کا
دعا بن کر ہوا کرتا تھا ظاہر مدعا ان کا
دعا یہ تھی کہ یارب نعمتِ موعود مل جائے
بنو ہاشم کا مرجھایا ہوا گلزار کھل جائے
یونہی اک روز معمولاً طواف کعبہ کرتے تھے
فلک کو دیکھتے تھے اور آہِ سرد بھرتے تھے
اچانک صبح کی پہلی کرن ہنستی ہوئی آئی
مبارک باد کہہ کر یہ خبر دادا کو پہنچائی
کہ رحمت نے تری سوکھی ہوئی ڈالی ہری کر دی
تری بیوہ بہو کی گود اپنے نور سے بھر دی
ملا ہے آمنہ کو فضلِ باری سے یتیم ایسا
نہیں ہے بحرِ ہستی میں کوئی در یتیم ایسا
کعبہ مقصود عالم کا طوافِ کعبہ
اٹھا سردارِ مکہ یہ نوید جاں فزا سن کر
ادائے شکر کر کے جلد پہنچا آمنہ کے گھر
جناب آمنہ تھیں شوہر مرحوم کے گھر 67 میں
مجسم سورہ والشمس کی تفسیر تھی بر میں
نظر آتی تھی آج اس گھر میں آبادی ہی آبادی
انگوٹھا چوستا تھا اس جگہ انسان کا ہادی
حسیں آنکھیں کہ جن سے کلفتیں معدوم ہوتی تھیں
فلک کو کچھ سبق دیتی ہوئی معلوم ہوتی تھیں
اٹھایا گود میں دادا نے عالی قدر پوتے کو
دکھانے لے چلا حق کا مقامِ صدر پوتے کو
شجر رستے میں استادہ ہوئے تعظیم کی خاطر
حجر قدموں کے آگے بچھ گئے تسلیم کی خاطر
طواف کعبہ کرنے جا رہا تھا قبلہ عالم
کہ جس کی ذات سے حق کی بنائیں ہو گئیں محکم
وہی کعبہ جو ابراہیم کے ایمان کا گھر تھا
جو انسانوں کے ہاتھوں ہر بتِ بے جان کا گھر تھا
بلائیں لے رہا تھا آج گویا گرد پھر پھر کر
ھو اللہ احد کہتے تھے بت سجدے میں گر گر کر
یہاں سے ہو کے عبدالمطلب فی الفور گھر پلٹے
خدا سے خیر و برکت کی دعائیں مانگ کر پلٹے
امانت آمنہ کی آمنہ کے بر میں پہنچا دی
غلاموں لونڈیوں نے اس خوشی میں پائی آزادی 68
بشارت کے مطابق آمنہ نے نام بتلایا
فرشتوں نے بتایا تھا کہ احمد ہے ترا جایا
کہا دادا نے اے بیٹی مرا پوتا محمد ہے 69
کہ دنیا بھر کے انسانوں سے اعلیٰ اور امجد ہے
عرب کی دودھ پلائیاں۔۔ حلیمہ 70 سعدیہ کی غریبی
شریفان عرب کا قاعدہ تھا اس زمانے میں
کہ بچے ان کے پلتے تھے کسی بدوی گھرانے میں
اسی مقصد سے بدوی عورتیں ہر سال آتی تھیں
بڑے شہروں سے نوزائیدہ بچے لے کے جاتی تھیں
پلا کر دودھ اپنا پالتی تھیں نونہالوں کو
عوض دولت میں دینا پڑتا تھا اولاد والوں کو
جو بچے اس طرح سے کاٹتے تھے دن رضاعت کے
بڑے ہو کر نظر آتے تھے وہ پتلے شجاعت کے
یہ بچے سختیوں کو کھیل بچوں کا سمجھتے تھے
یہ تلواروں کی جھنکاروں کو اک نغمہ سمجھتے تھے
چنانچہ شہر میں امسال بھی کچھ عورتیں آئیں
بیابانوں سے اپنے ساتھ نہریں دودھ کی لائیں
قریشی نسل کے اطفال کی ہر دل میں خواہش تھی
امیروں کا کوئی بچہ ملے یہ سخت کاہش تھی
یہ دایہ عورتیں تھی سعد کے بدوی 71 قبیلے کی
انہیں میں تھی حلیمہ سعدیہؓ اور اس کا شوہر بھی
حلیمہ قافلے بھر میں غریب اور سب سے کم تر تھی
پھر اس کی اونٹنی بھی دُبلی پتلی اور لاغر تھی
گھروں میں مقدرت والوں کے پہنچیں عورتیں ساری
حلیمہؓرہ گئی ڈیرے پہ بیٹھی شرم کی ماری
وہ زر داروں کے بچے لے کے واپس لوٹ بھی آئیں
حلیمہؓ سعدیہ نے دو کھجوریں بھی نہیں پائیں
بالآخر قافلے کی واپسی کا روز آ پہنچا
بچاری کے لئے اِ ک ناوکِ دلدوز آ پہنچا
شکستہ خاطری سے اب دلِ مایوس بھر آیا
مرادیں سب نے پائیں ہائے مَیں نے کچھ نہیں پایا!
اٹھی اس سوچ میں جا کر طوافِ کعبہ آؤں
وہاں سے آ کے سوچوں گی کہ ٹھہروں یا چلی جاؤں
مری قسمت بھلی ہوتی تو کوئی طفل مل جاتا
غریبی ہیں میں اس کو پال لیتی مجھ سے ہل جاتا
بلا سے دودھ کم ہے تو بھی وہ مجھ کو خوشی دیتا
مرا بچہ بچارا اُونٹنی کا دودھ پی لیتا!
یہ باتیں سوچتی تھی دل ہی دل میں روتی جاتی تھی
کوئی بچہ نظر آئے تو بیکل ہوتی جاتی تھی
اچانک اس کو اس کو عبدالمطلب نے دور سے دیکھا
حلیمہ کو بلایا رنج و غم کا ماجرا پوچھا
کہا میں سعدیہ عورت ہوں یعنی بدویہ دایا
حلیمہ نام ہے ، میں ے کوئی بچہ نہیں پایا
قبیلے والیاں لائی ہیں کیسے پھول سے لڑکے
رہی جاتی ہوں میں اور قافلے کا کوچ ہے تڑکے
ہنسے یہ سُن کے عبدالمطلب اور ہنس کے فرمایا
کہ ہاں اے نیک بی بی ! اے حلیمہ سعدیہ دایا
حلیمی اور سعادت خوبیاں دو پاس ہیں تیرے
انہی دونوں کے باعث کام سارے راس ہیں تیرے
مرے پاس ایک بچہ ہے پدر جس کا نہیں زندہ
مگر اک خاص جلوے سے ہے چہرہ اس کا تابندہ
تمہارے ساتھ والی عورتیں بھی گھر میں آئی تھیں
زر و انعام پانے کی امیدیں ساتھ لائی تھیں
یتیم اور بے سر و سامان بچہ تو اگر چاہے
اسے لے جا اگر بدلہ چاہے اور نہ زر چاہے
یہ کہہ کر ایک ہلکا سا تبسم آگیا لب پر
یہ معنی تھے مرا بچہ ہے بالا مال و جاں سب پر
حلیمہؓ نے کہا دریافت کر لوں اپنے شوہر سے
مبادا وہ خفا ہو اور میری جان پر برسے
یہ کہہ کر جلدی جلدی آئی حلیمہؓ اپنے ڈیرے پر
کہا قسمت سے بچہ مل گیا ہے مجھ کو اے شوہر!
مگر اس کا پدر زندہ نہیں، کہہ دو تو لے آؤں
یہاں سے قافلے ساتھ خالی گود کیا جاؤں
ہماری ساتھنیں بچوں کی دولت لے کے جائیں گی
ہنسیں گی مجھ پہ طعنے دیں گی سو باتیں بنائیں گی
کہا شوہر نے ہاں لے آؤ شاید کچھ بھلائی ہو
ہماری بہتری اس طفل کی صورت میں آئی ہو
اگرچہ اُونٹنی کا اور تمہارا دودھ بھی کم ہے
مگر مالک کی رحمت پر بھروسہ ہے تو کیا غم ہے
آنحضرتؐ کے بچپن کی برکات
حلیمہ ؓ جلد عبدالمطلب کے پاس لوٹ آئی
وہ اس کو لے کے گھر پہنچے کتاب نور دکھلائی
جو دیکھا آمنہؓ کو آمنہؓ کے لال کو اس نے
خوشی سے تج دیا دنیا کے جاہ و مال کو اس نے
یہی وہ ماں تھی جس سے مادرِ گیتی کی عزت تھی
یہی بچہ تھا جس سے خالقِ ہستی کی عظمت تھی
حلیمہ نے اُٹھایا آ کے بچہ دستِ اُلفت پر
برستا تھا تبسم سادگی بن بن کے صورت پر
کسی نے بھی نہ پائی تھی وہ دولت مل گئی اُس کو
جو تھی معنی ہی معنی اب وہ صورت مل گئی اس کو
چلی ڈیرے کی جانب آج ایسے نور کو لے کر
مہ و خورشید صدقے ہو رہے تھے جس کے قدموں پر
پلایا دودھ اس طفل کو تو ہو گئی حیراں
کہ چھاتی بن گئی دودھ کی اک نہر بے پایاں
یہ برکت روزِ اول ہی دیکھی جب حلیمہ نے
ہوئی حیران ، اندیشے مٹائے سب حلیمہ نے
کیا سیراب اپنے دودھ سے اپنے پسر کو بھی
سُلا کر دونوں بچوں کو خوشی سے خود بھی جا سوئی
یتیم مکہ صحرائی گھر کی طرف
بڑھائے اپنے اپنے اونٹ سب نے نور کے تڑکے
کجاووں پر تھیں دایہ عورتیں اور ساتھ کے لڑکے
اُٹھا شوہر حلیمہ کا اور اپنی اونٹنی لایا
حلیمہ اور دونوں بچوں کو اک ساتھ بٹھلایا
چلا خود آپ پیدل اُونٹنی دُبلی تھی بیچاری
کسی صورت نہ ہو سکتی تھی اس پر سب اسواری
جب آئے تھے تو پیچھے تھک کے رہ جاتے تھی منزل سے
وہ اپنے آپ ہی کو لے کے چل سکتی تھی مشکل سے
مگر آج اس نے دکھلائی کچھ ایسی تیز رفتاری
جو آگے چل رہی تھیں اب وہ پیچھے رہ گئی ساریں
یکایک ہمرہوں کے پاس سے جس دم گزرتی تھی
تو ہر عورت تعجب کا وہیں اظہار کرتی تھی
وہی پہلی ہے تیری اُونٹنی یا اور ہے کوئی
نہیں پہلی کہاں، ایمان سے کہنا اور ہے کوئی!
حلیمہؓ کہتی تھی ہاں ہاں وہی تو ہے وہی تو ہے
یہ سر ، یہ ناک ہے ، یہ تھوتھنی ہر شے وہی تو ہے
یہ سن کر عورتیں بیچاری حیران ہوتی تھیں
نگاہیں گِرد پھر پھر کر بلا گردان ہوتی تھیں
حلیمہؓ کی سواری اس قدر جب تیز دم دیکھی
سوار اس اُونٹنی پر ہو گیا اب اس کا شوہر بھی
مگر یہ ہو گئی تیز رَو اور برق دم ایسی
کہ سارے قافلے سے پہلے منزل پر پہنچتی تھی
بیاباں پر ابر رحمت کا سایہ
بچاری اُونٹنی کا دودھ کم کیا تھا بہت کم تھا
مگر اس مرتبہ منزل پہ آ کر جب اسے دوہا
تو اتنا دودھ نکلا جو زیادہ تھا ضرورت سے
لگے منہ دیکھے اک دوسرے کا دوں حیرت سے
کہا شوہر نے اے بی بی یہ اس بچے کی برکت ہے
اسی کا صدقہ ہے ورنہ ہماری کیا لیاقت ہے
حلیمہ ؓ نے کہا واللہ ! میں بھی ہوں بہت حیراں
نظر آتا ہے مجھ کو ہاشمی لڑکا بہت ذی شاں
مسرت ہوتی ہے جب اس کا چہرہ دیکھتی ہوں میں
کہ اس پر طُور کے پھولوں کا سہرا دیکھتی ہوں میں
غرض اس شان سے مائی حلیمہ اپنے گھر آئی
متاعِ دُنیوی اور اُخروی آغوش میں لائی
یہاں پر قحط تھا ہر سو، نہ دانا تھا نہ چارہ تھا
کہ اب مینہ نہ برسا یہاں پر جس کا سہارا تھا
مویشی مر رہے تھے لوگ فاقے کر رہے تھے سب
بتوں سے اپنے اپنے دیوتا سے ڈر رہے تھے سب
حلیمہ کی زمیں*کا حال سب لوگوں سے بدتر تھا
نکمی تھی زمیں اس کا زیادہ حصہ بنجر تھا
وہ لے آئی لیکن گھر میں اس سامان رحمت کو
مٹایا جس کی ذات پاک نے ہر ایک زحمت کو
حلیمہ اور کنبہ بکریوں کے دودھ پر جیتے
پلاتے دودھ مہمانوں کو بھی اور آپ بھی پیتے
قبیلے والے بھی سیراب تھے اس ابر رحمت سے
یتیمی کے سبب انکار تھا جس کی رضاعت سے
سبھی حیران تھے لیکن انہیں اس کی خبر کیا تھی
کہ رحمت کی نظر مفلس حلیمہ ہی کی جویا تھی
رہے محروم اس دولت سے دولت ڈھونڈنے والے
سبھی کچھ پا گئے دامانِ رحمت ڈھونڈنے والے
حلیمہ کا گھرانہ خوش تھا اپنی خوش نصیبی پر
یہ بچہ ایک دامن تھا یتیمی پر غریبی پر
تھا اک سادہ سے گھر مین دولتِ کونین کا وارث
رضاعی ماں حلیمہ تھی رضائی باپ تھا حارث 72
رضائی بہنیں شمیہ73 اور انیسہ بس یہی دو تھیں
عفیفہ تھیں محبت کرنے والی تھیں دُعا گو تھیں
رضاعی بھائی دو74 تھے جن میں عبداللہ ہمسن تھا
یہ سب نگران تھے جب اللہ کا محبوب کمسن تھا
رضاعت سے بعثت تک کا بیان
نجاتِ دوجہاں تھی جس کے دامانِ کریمی میں
وہ بچہ پل رہا تھا آج آغوشِ یتیمی میں
وہ بچہ ہاں وہ بچہ جو سبق آموزِ دنیا تھا
گلِ تقدیس تھا لیکن نظر افروزِ صحرا تھا
تمنا تھی حفیظ اے کاش عُمرِ نوحؑ مل جاتی
مے قالب کو اک جبریلؑ کی سی روح مل جاتی
بیاں کرتا میں حالِ نونہالِ گلشنِ خوبی
دکھاتا قدرتِ حق کا کمالِ شانِ محبوبی
وہ بچپن کا زمانہ کس طرح گزرا بیاں کرتا
حقیقت کا فسانہ پردے پردے میں عیاں کرتا
بیاں کرتا حلیمہؓ کیسا اس پر جان دیتی تھی
بیاں کرتا نایسہ گود میں کس طرح لیتی تھی
بیاں کرتا کہ شیماں لوریاں دیتی تھی کیا کہہ کر
جسے ھٰذَا اَخُلِیٰ75 کا خیال آتا تھا رہ رہ کر
بیاں کرتا تھا بھیڑ اور بکریاں بھی سجدے کرتی تھیں
فضائے دشت کی چڑیاں بھی دم الفت کے بھرتی تھیں
بیاں کرتا تھا کہ سورج شرق پر کیوں جگمگاتا تھا
بیاں کرتا زمیں پر چاند کیوں چادر بچھاتا تھا
بیاں کرتا ستارے رات بھر کیوں رقص کرتے تھے
بیاں کرتا کہ صبح شام کیوں یہ رنگ بھرتے تھے
بیاں کرتا کہ فطرت خود بخود کس طرح پلٹتی ہے
اندھیرے سے تجلی کی سحر کیونکر نکلتی ہے
بیاں کرنا ہے شقِ صدر کی اصلی حقیقت کو
ہوا کیوں چاک سینہ اور تھی اس کی ضرورت کیا؟
بیاں کرتا کہ حضرت کا بچپن کس طرح گزرا
لڑکپن کے چمن سے سروِ گلشن کس طرح گزرا
بیاں لازم تھا صحرائی وطن سے گھر میں آنے کا76
ั محمد (ص) کت دوبارہ دامنِ مادر میں آنے کا77
مدینے کے سفر میں ماں کی ہمراہی بیان کرتا
پدر کے مدفنِ راحت سے آگاہی بیاں کرتا78
بیاں کرتا وفات آمنہؓ کا حالِ حسرت زا
بیاں کرتا مقدس ہو گیا کیوں خطہ ابوا79
بیاں کرتا کہ جب اٹھتا ہے سر سے سایۂ مادر
یتیم اس وقت آنسو پونچھتے ہیں منہ سے کیا کہہ کر
بیاں کرتا کہ جب غُربت میں یہ صدمہ گزرتا ہے
تو شش سالہ یتیم اس وقت کیسا صبر کرتا ہے
بیاں کرتا کہ پھر مکے میں آئے حضرت والا80
بیاں کرتا کہ عبدالمطلب نے کتنے دن پالا
وہ عبدالمطلب کا سایۂ شفقت 81بھی اُٹھ جانا
وہ اس نورِ حقیقی کا ابو طالب82 کے گھر آنا
چچا کا پرورش کرنا بھتیجے کا بڑے ہونا
وہ کرنا کام کاج اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونا
وہ سن دس سال کا دن بکریوں کی گلہ بانی 83کے
لڑکپن سادگی کا پیش خیمے نوجوانی کے
یہ گلہ بانی اقوام کی تمہید تھی گویا
سلف کے ہادیانِ قوم کی تائید تھی گویا
چچا کے ساتھ ارض شام کا لمبا سفر کرنا
یہودی اور مسیحی راہبوں کے دل میں گھر کرنا84
نرالی تھی متانت جس طرح اس کے لڑکپن کی
نرالی تھی جوانی بھی جوانِ پاک دامن کی
شرافت ہو جہاں حسن ازل کا دائمی گہنا
سکھاتا ہے وہی پاکیزہ رہنا خوش چلنا رہنا
الگ رہنا وہ رسم رزم و بزم جاہلیت85 سے
وہ نفرت شرک سے اور مشرکوں کے ساتھ شرکت سے
وہ عہد تام 86مظلوموں کی امداد و اعانت کا
وہ آوازہ صداقت کا دیانت کا امانت کا
وہ خوش خلقی وہ دانائی وہ شان نیک کرداری
صداقت کی تجارت پیشگی وہ راست گفتاری87
یہ سب کچھ میں بیاں کرتا نہایت لطف لے لے کر
تواریخی و قرآنی حوالے ساتھ دے دے کر
بیاں کرتا خدیجہ88 کی شرافت کو نجابت کو
وہ جس کا مال لے کر آپ نکلے تھے تجارت کو
بیاں کرتا کہ آیا کس طرح پیغام89 شادی کا
سبق دیتا جہان شوق کو عالی نہادی کا
بیاں کرتا کہ یہ شادی بشر کی خوش نصیبی تھی
محمدؐ پاک شوہر تھا خدیجہ ؓ پاک بی بی تھی90
بیاں کرتا کہ گزری ازدواجی زندگی کیسی91
نظر والوں کو ملتی روح کی تابندگی کیسی
محبت ہی سے تہذیب و تمدن کی بنیادیں
بیاں کرتا کہ دیں اللہ پاک نے کیسی پاک اولادیں92
بیاں کرتا کہ قاسم طیب و طاہر یہ تھے بیٹے
کہ بچپن ہی میں جو آرام سے تُربت میں جا لیٹے
خدیجہؓ ہی سے حق نے آپ کو سب بیٹیاں بھی دیں
یہ زینبؓ اور رقیہ ؓ ام کلثوم ؓ اور زہراؓ تھیں
بیاں کرتا محبت کس قدر تھی رشتہ داروں سے
عزیزوں دوستوں سے ، شہریوں اور یاروں سے
بیاں کرتا عرب میں عام تھا لطف و کرم اس کا
یتیموں اور بیواؤں کے دل میں تھا بھرم اس کا
بیاں کرتا کہ سارا ملک کہتا تھا امیں اس کو
چنا تھا رحمت باری نے ختم المرسلیں اس کو
قبائل کا بہم تعمیر کعبہ کے لیے آنا
وہ سب کا سنگ اسود کے اٹھانے پر بگڑ جانا93
لہو94 سے ہاتھ بھرنا لڑنے مرنے کی قسم کھانا
گھٹاؤں کی طرح غصے کے طوفانوں کا ٹکرانا
وہ ہٹ وہ ضد وہ اپنوں کا سراسر غیر ہو جانا
مگر خیرا لامیںؐ کا آ کے وجہ خیر ہو جانا95
وہ چادر کا بچھانا اس پہ رکھنا سنگ اسود کا
یہ زندہ معجزہ قبل نبوت تھا محمدؐ96 کا
وہ پتھر نصب کرنا آپ خود جھگڑے کا چک جانا
وہ ہر اک جنگجو کا آشتی کی سمت جھک جانا
یتیموں کی خبر لینا غلاموں کی مدد کرنا
طلب کرنے سے نفرت خود سوالی کو نہ رد کرنا
بیاں کرتا میں ساری حالتیں قبل نبوت کی
طبیعت کا وہ سوز و ساز وہ تسکین خلوت کی
غریبوں پر ترس کھانا خدا کے خوف سے ڈرنا
وہ چھپ چھپ کر حرا 97کے غار میں یاد خدا کرنا
وہ صبح نور کا نظارہ وہ جبرئیلؑ کا آنا
ادب سے وہ نبوت کا لباس نور پہنانا
وہ اقراء کا سبق وہ ایک امیؐ کا سبق پڑھنا
وہ ہمت کی بلندی اور ذوق وشاق کا بڑھنا
وہ کثرت کے مقابل ایک قوت لے کے آ جانا
وہ فرمان خدا یعنی نبوت لے کے آ جانا
مصنف کا اعتراف عجز
میں یہ سب کچھ بیاں کرتا مگر ہمت نہیں پڑتی
یہ نازک مرحلے ہیں اور مری جرات نہیں پڑتی
ادب اے خامۂ گستاخ جھک جا سر نگوں ہو جا
تحیت خیز نظاروں میں عقل و ہوش کو کھو جا
بیاں کرتا یہ آخری گفتگو کیا ہے !
اگر کہہ دے کوئی تیرا بیاں کیا اور تو کیا ہے !
مرا منہ اور سرکار محمدؐ کی ثنا خوانی
مجھے معلوم ہے اپنے سخن کی تنگ دامانی
نہیں ہر گز کوئی دعویٰ نہیں ہے لب کشائی کا
دہن کیا ہے مرا ہاں ایک کاسہ ہے گدائی کا
میں حیثیت سوالی کے سوا کچھ بھی نہیں رکھتا
متاع بے کمالی کے سوا کچھ بھی نہیں رکھتا
نہ یارائے سخن سنجی نہ دعوائے زباں دانی
اگر کچھ پاس ہے تو بس عقیدت کی فراوانی
مگر ہاں مدعا ہے خدمت اسلام مدت سے
کہ میں نے بھی پئے ہیں چند قطرے جام وحدت کے
کروں سیرت نگاری یہ نہیں ہے حوصلہ میرا
حق و باطل کی آویزش ہے اصلی معرکہ میرا
رسول پاکؐ کی سیرت سے واقف اک زمانہ ہے
مجھے بعثت کے بعد اب نقطہ اصلی پہ آنا ہے

0 comments so far,add yours