غلبہ باطل اور شیطان کا غرور
اندھیرا چھا چکا جب ظُلم کا دنیائے ہستی پر
ہوا شیطان مسلط ہر بلندی اور پستی پر
پہاڑوں پر چڑھا شیطان زمین پر اک نظر ڈالی
نظر آئی اسے ہر مملکت ایمان سے خالی
بہت خوش ہوا ناز و تکبر عود کر آیا
ہنسا اور کفر کے کلمے زبان نحس پر لایا
کہ میں ہوں ‘ میں ہی میں ہوں بادشہ اقصائے عالم کا
مرے قدموں کے نیچے تخت ہے اولادِ آدم کا
زمیں کو چار جانب سے مری ظلمت نے گھیرا ہے
مرے دامن کے نیچے اب اندھیرا ہی اندھیرا ہے
یہی انسان ہے، کیا وہ اسی انسان کا دَر تھا
ازل میں سامنے جس کے مرا جھکنا مقدر تھا
مرے قدموں پہ ہے اب مرے سجدے کا طالب تھا
ابد تک میں ہی غالب ہوں ازل کے دن یہ غالب تھا
اگر میں راندہ درگاہِ باری ہوں تو یہ بھی ہے
اگر میں قابلِ دوزخ ہوں ناری ہوں تو یہ بھی ہے
یہ کہہ کر تن گیا منحوس پر پھیلا دیئے اپنے
مُرید اور چیلے چانٹے نام شیطاں کا لگے جپنے
پیغمبر آخرالزماں کے والد عبداللہ
زمین سے آسماں تک واقعی گہری سیاہی تھی
کہ جزم ماہ سے شاہی اس کی تابماہی تھی
یکایک جا پڑیں اس کی نگاہیں سنگِ اسود پر
ہوا لرزہ سا طاری شیطنت پر فطرتِ بد یر
یہ پتھر مرکزِ عالم کا اک ثابت ستارا تھا
اسے جنت سے حق نے ساتھ آدم کے اتارا تھا
قریبِ سنگِ اسود ایک جوانِ ہاشمی دیکھا
گروہِ ابنِ آدم میں نرالا آدمی دیکھا
نظر آیا کہ اس کے گرد ہے اک نور کا ہالا
زمین پر جس کے باعث ہے فروغِ عالمِ بالا
وہی نورِ ازل معصوم چہرے سے ہویدا ہے
ازل سے جاودانی کامرانی جس پہ شیدا ہے
نرالے نوجواں کو دیکھ کر شیطان تھرایا
جھلک ایمان کی دیکھی تو بے ایمان تھرایا
زمیں ہلنے لگی کمبخت ایسے زور سے کانپا
خدا کی قدرتیں غافل نہیں ، شیطان نے بھانپا
یہ عبد المطلب کا نوجواں فرزند عبداللہ
نہیں ہے ملتفت کیوں جانبِ اصنامِ بیت اللہ
اُٹھا رکھی ہے کیوں سُوئے فلک پُر نُور پیشانی
نظر آتا ہے کیوں ایوانِ فرش و عرش نُورانی
ڈرا شیطان سمجھ میں آگیا مقصد مشیت کا
نظر ایا کہ یہ لڑکا ہے جو ہر آدمیت کا
دلِ ناپاک سے بُغض و حسد کا اِک دھُواں اُٹھا
جگہ سے اپنی مثلِ شعلہ آتش فشاں اُٹھا
اُٹھا غصے میں اور اس نوجواں سے جنگ کی ٹھانی
مشیت کے مقبل اپنی حیثیت نہ پہچانی
لگا اِ ک وسوسہ بن کر جواں کے گرد منڈلانے
نگاہ دل کی عفّت کو لگا رستے سے بھٹکانے
رہا کچھ دیر تک شیطان اپنی سعی باطل میں
نہ داخل ہو سکا لیکن یہ عبداللہ کے دل میں
خدا کا فضل تھا ہر دم شریکِ حالِ عبداللہ
نبی کا سایہ اقبال تھا اقبال عبداللہ
بنتِ مُرّالخثمیہ اور شیطان
جواں نے کعبہ سے جب گھر کی جانب قصد فرمایا
تو شیطاں اس سے پہلے جانبِ مکہ چلا آیا
یہاں پر بنتِ مُرّالخثمیہ اک حسینہ تھی
حسینہ تھی مگر اطوار و عادت میں کمینہ تھی
وہ پہلے سے جمال و حسنِ عبداللہ پہ مرتی تھی
مگر عرضِ تمنا کر نہیں سکتی تھی ڈرتی تھی
اچانک ہو گیا اس پر مسلط رنگ شیطانی
رگوں میں بے حیائی بن کے دوڑا خون حیوانی 58
ادھر سے آ رہا تھا یہ جوان پاک سیرت بھی
جسے آنکھیں جھکا کر شہر میں چلنے کی عادت تھی
ہوئی آ کر اچانک اب وہ عورت راہ میں حائل
نکالیں منہ سے بے شرمی کی باتیں سخت لاطائل
کہا سو اونٹ لے لے اور مری جانب توجہ کر
شراب وصل کی خاطر گری ہوں تیرے قدموں پر
مرے گھر میں شراب ناب بھی موجود ہے پیارے
در اندازوں کا رستہ ہر طرف مسدود ہے پیارے
کہاں جاتا ہے آ مل کر جوانی کے مزے لوٹیں
اندھیری رات میں جوش نہانی کے مزے لوٹیں
حیا و شرم کے باعث ادھر گردن خمیدہ تھی
ادھر عورت وفور جوش خوں سے آبدیدہ تھی
اب اس نے اس طرح دست جواں کو زور سے کھینچا
زبردستی اٹھا کر لے ہی جائے گی اسے گویا
سردار عبداللہ کی پاکیزگی
بدی کے جوش کو پایا جو یوں ایمان کا طالب
جوان ہاشمی کی شرم پر غصہ ہوا غالب
کراہت اور نفرت سے جھٹک کر ہاتھ عورت کا
زباں سے اس طرح گویا ہوا پتلا شرافت کا
مجھے معلوم ہے کرتے نہیں اشراف کام ایسا
سمجھتا ہوں میں بد تر موت سے فعل حرام ایسا
اگر تو عقد کو کہتی تو شاید مان جاتا میں
مطابق رسم قومی کے تجھے بیوی بناتا میں
مگر تو نے بے شرمی دکھائی اور بہکایا!
شریف انساں پہ لازم ہے بچانا دین و عزت کا
متانت سے کہا جو کچھ کہا جھڑکا نہ دی گالی
فقط جاتے ہوئے مردانہ غصے کی نگہ ڈالی
دکھائی مرد عالی ظرف نے جب شوکت ایماں
ہوئی شرمندہ عورت پست ہو کر رہ گیا شیطاں
غرض اس حادثے کے بعد عبداللہ گھر پہنچا
سلامت لے کے ایماں کو پسر پیش پدر پہنچا
جلال ہاشمی سے مشتعل تھا چہرہ انور
کہ تھا عورت کی گستاخی کا صدمہ زخم تھا دل پر
پدر نے برہمی کا حال اس سے پوچھنا چاہا
پسر چپ تھا کہ چپ رہنا ہی غیرت کا تقاضا تھا
کہا بابا طبعیت آج گھبرائی ہوئی سی ہے
اداسی کی گھٹا دل پر مرے چھائی ہوئی سی ہے
اجازت ہو تو میں بہر شکار اک دن چلا جاؤں
دل آبادی سے گھبرایا ہوا ہے اس کو بہلاؤں
پدر بولا کہ اے جان پدر اچھا چلے جانا
مگر دو ایک مسلح خادموں کو ساتھ لے جانا
مجھے اکثر تمہاری جان کا رہتا ہے ڈر بیٹا
نہ جانے بات کیا ہے کیوں ہے یہ بیم و خطر بیٹا
وہاں دن بھر ٹھہرنا شام ہوتے ہی چلے آنا
جونہی سورج چھپے تم شہر کے اندر چلے آنا
شیطان اور یہودی
ادھر ان باپ بیٹوں میں تو یہ تقریر ہوتی تھی
شکار آہوان دشت کی تدبیر ہوتی تھی
ادھر شیطان ناکامی پہ سر دھنتا ہوا نکلا
خود اپنے دل سے لعنت کی صدا سنتا ہوا نکلا
نظر دوڑائی ہر جانب بلندی پر کھڑے ہو کر
بھیانک تھا ڈرانا تھا پہاڑوں کا سیہ منظر
تھا آدھی رات کا عالم خموشی ہی خموشی تھی
اندھیرے کے سبب سے ہر گنہ کی عیب پوشی تھی
حرم سے فاصلے پر دامن کہسار کے اندر
نظر آئی اسے اک روشنی سے غار کے اندر
مسافر کچھ وہاں بیٹھے ہوئے اس کو نظر آئے
خیال آیا کہ شاید میرا مطلب ان سے بر آئے
اڑا شیطان فوراََ اس پہاڑی سے دھواں بن کر
پہنچ کر اس جگہ کچھ دیر ٹھہرا غار کے در پر
مسافر تھے یہودی قوم کے یہ پانچ سوداگر
کہ پلٹے جا رہے تھے شہر مکہ سے سوئے خیبر
یہاں ٹھہرے تھے شب کو ، صبح دم پھر اٹھ کے چلنا تھا
حجازی بدوؤں سے راہ کترا کر نکلنا تھا
پڑھے لکھے تھے باتیں کر رہے تھے قوم و مہذب کی
انہیں تو رات میں سوجھتی تھی اپنے مطلب کی
کیا ذکر ایک نے تورات کی پیش گوئی کا
کہ صحرائے عرب میں ظاہر اک سچا نبی ہو گا
سنی یہ بات تو اک دوسرا دعوے سے بول اٹھا
نبی ہو گا تو وہ بیشک ہماری قوم سے ہو گا
پیمبر جز بنی یعقوب پیدا ہو نہیں سکتا
کسی سے بھی زمانے میں یہ دعویٰ ہو نہیں سکتا
کہا پھر تیسرے نے ہم پہ راضی حق تعالیٰ ہے
ہماری برگزیدہ قوم سب قوموں سے بالا ہے
کہا چوتھے نے وہ سچا نبی یثرب سے اٹھے گا
جو سچ پوچھو تو وہ ہو گا ہمارے ہی قبیلے کا
تڑپ کر پانچواں بولا نہیں ہم میں سے ہو گا وہ !
اگر ہو گا تو بیشک بالیقیں ہم میں سے ہو گا وہ !!
غرض پانچوں ہی اپنی بات پر اصرار کرتے تھے
دلیلیں دیتے تھے غصے میں بھرتے تھے بپھرتے تھے
ادھر شیطاں کہ عیاری و مکاری میں ہے ماہر
بظاہر اک مقدس شکل میں ان پر ہوا ظاہر
سفید اس کی بھویں براق سی داڑھی تھی نورانی
چمکتی تھیں مثال شعلہ آنکھیں اور پیشانی
عصا ہاتھوں میں اور لانبی سی اک تسبیح گردن میں
بہت ڈھیلی عبا چھپ جائے انساں جس کے دامن میں
اندھیرے سے نکل کر روشنی میں اس طرح آیا
یہودی ڈر گئے اور دفعتاً ہر ایک چلایا
کہ اے ربی ہمارے حال پر لطف و کرم فرما
ترے بندے ہوئے جاتے ہیں کرتے ہیں تجھے سجدہ
مگر شیطاں نے دی ان کو تسلی اور یوں بولا
نہایت عارفانہ شان سے اس نے دہن کھولا
کہ اے بچو میں اترا ہوں تمھیں تلقین کرنے کو
تمھارے مذہبی میلان پر تحسین کرنے کو
نبی کے مسئلے پر تم جھگڑتے تھے جو آپس میں
میں سنتا تھا وہاں بیٹھا ہوا بیت المقدس میں
خیال آیا کہ چل کر تم کو سیدھی راہ بتلاؤں
یہودی قوم کے اک فائدہ کی بات سمجھاؤں
سنو اک بات کہتا ہوں بہت ہی راز داری کی
مخالف ہیں تمھارے طاقتیں پروردگاری کی
وہ عبدالمطلب جو آج کل سردار مکہ ہے
قریش ہاشمی ہے مالک و مختار مکہ ہے
پسر ہے اس کا عبداللہ تم اس کو جانتے ہو گے
اسے مکہ میں دیکھا ہو گا اور پہچانتے ہو گے
وہی لڑکا ہے جس کے صلب سے ہو گا نبی پیدا
مشیت آج کل ہے آل اسمعیل پر شیدا
مرے بچو نبی پیدا ہوا گر اس گھرانے میں
نہیں ہے پھر کوئی اپنا ٹھکانا اس زمانے میں
وہ اسمٰعیل کی اولاد کو شاہی دلائے گا
یہودی قوم کے حصے میں پھر کچھ بھی نہ آئے گا
یہودی قوم پر گویا خدا نے قہر ڈھایا ہے
مجھے یہ امر پوشیدہ فرشتوں نے بتایا ہے
یہ قصہ سنتے ہی جوش آ گیا پانچوں لعینوں کو
حسد سے بھر دیا شیطان نے تاریک سینوں کو
وہ بولے واقعی ہم پر ہمیشہ ظلم ہوتا ہے
نوازش دوسروں پر ہے خدا ہم کو ڈبوتا ہے
کہا شیطاں نے ایسی بات منہ سے مت نکالو تم
بھلا چاہو تو اس لڑکے کو جا کر مار ڈالو تم
سحر کے وقت وہ ان وادیوں میں آنے والا ہے
شکارِ آہواں سے اپنا دل بھلانے والا ہے
اٹھو تم بھی یہاں سے اور کرو جا کر شکار اس کا
نہ جانے دو یہاں سے آج زندہ زینہاںاس کو
کہاں تک رنج اٹھاؤ گے یہ جھگڑا ہی چکا ڈالو
کوئی خطرہ نہیں ہے دل سے اندیشہ مٹا ڈالو
تم اس کار عظیمہ مری امداد پاؤ گے
بڑی شوکت ملے گی مال لاتعداد پاؤ گے
مری امداد سے تم کو حکومت ہاتھ آئے گی
یقیں رکھو تمھاری بادشاہی پھر نا جائے گی
نہ مانو گے تو پھر اس کا ملے گا تم کو خمیازہ
جو چاہو تو ابھی کر لو مری طاقت کا اندازہ
یہ کہہ کر ایک پتھر پر نگاہ شیطان نے ڈالی
اڑا پتھر جگہ سے باوجود بے پرو و بالی
بلندی پر تڑاقے سے پھٹا شعلہ ہوا پیدا
پھر اس سے اک ہیولیٰ پانچ گھوڑوں کا ہوا پیدا
مرصع تھے یہ گھوڑے جنگ کے ہر ساز و ساماں سے
یہ ساماں بھی مرصع تھا عقیق و لعل و مرجاں سے
کہا شیطاں نے ، یہ لو میں تمہیں رہوار دیتا ہوں
ہر اک کو ایک اک شمشیرِ جوہر دار دیتا ہوں
سحر کے وقت نکلو غار سے میدان میں آؤ
وہیںاس نوجواں کو قتل کو ڈالو جہاں پاؤ
یہ کہہ کر دیکھتے ہی دیکھتے شیطان غائب تھا
اسے مدِ نظر اس وقت اظہارِ عجائب تھا
یہودی رہ گئے حیران اس زورِ کرامت پر
بھروسا ہو گیا اب ان کو اس کاہن کی قوت پر
لگے کہنے کہ یہ طاقت نہ دیدہ نے شنیدہ ہے
یہ بڈھا واقعی کوئی بڑا ہی برگزیدہ ہے
ہم اس کی بات پر پورا عمل کر کے دکھا دیں گے
حصول بادشاہی کے لئے جانیں لڑا دیں گے
سردار عبداللہ پر یہودیوں کا حملہ
اٹھیں مشرق سے نورانی شعاعیں برچھیاں تانے
بچھا رکھے تھے لیکن دام کوہ دشت و صحرا نے
مگر سورج نے ان کو مکر کی پاداش دی آخر
اندھیرے کو اجالے نے شکست فاش دی آخر
ادھر پانچوں یہودی بھی اندھیرے غار سے نکلے
یہ بزدل گھڑ چڑھے اس دامن کہسار سے نکلے
جوان ہاشمی کی جستجو تھی ان کمینوں کو
کہ شیطاں نے حسد سے بھر دیا تھا ان کے سینوں کو
بہر سو جھانکتے پھرنے لگے حیران و سرگرداں
لئے دل میں امید و بیم کا دریائے بے پایاں
یکایک فاصلے پر ٹاپ گھوڑے کی سنائی دی
بالآخر نوجوان کی چاند سی صورت دکھائی دی
یہ عبداللہ تھا، اور اس گھڑی بالکل اکیلا تھا
مسلح خادموںکو دور پیچھے چھوڑ آیا تھا!
تعاقب میں ہرن کے آ رہا تھا برق دم گھوڑا
سوار ہاشمی نے تاک کر تیر قضا چھوڑا !
نشانے پر پڑا ناوک نشانہ ہو گیا آہو
گرا گر کر اٹھا آہو، پھر اٹھا ، پھر گرا آہو
وہیں ناوک فگن بھی دوسری ساعت میں آ پہنچا
اتر کر زین سے ، نخچیر آہو کے قریب آیا
ارادہ تھا کہ باندھوںذبح کر کے پشت توسن سے
سراسر بے خبر تھا کید صیادان پر فن سے
یہودی گھڑ چڑھوں نے دفعتاً پیدل کو آ گھیرا
نظر تلوار آئی دیدہ حیراں جدھر پھیرا
مگر یہ شیر تلواروں کے سائے سے نہ گھبرایا
مثال برق کوندا ، پشت توسن پر چلا آیا
پکارا ! یہ تو بتلاؤ ، کہ حملے کا سبب کیا ہے
وہ بولے ، ایک ہی مقصد ہے ، تجھ کو قتل کرنا ہے
پانچ شیطان ، ایک بندہ رحمان
غرض پانچوں نے تلواروں سے حملہ کر دیا یکدم
اکیلا بھڑ گیا ناچار ان سے ہاشمی ضیغم
لئے پہلے تو جھک کر وار اپنی ڈھال پر اس نے
چرا کر جسم سارا کر لیا زیر سپر اس نے
بڑی پھرتی سے پھر مشتاق گھوڑے کو دیا کاوا
ذرا ہٹ کر، سنبھل کر ان پہ نیزے سے کیا دھاوا
یہ نیزہ ایک کے پہلو سے پہلو توڑ کر نکلا
بقیہ عمر کا رشتہ فضا سے جوڑ کر نکلا
یہودی چیخ اٹھے یہ سانحہ یکدم گزرنے سے
ہوئے اب اور بھی سفاک ، اک ساتھی کے مرنے سے
ہوئے محتاط ، گھیرا نوجواں کو اس طریقے سے
کہ لڑنا ہو گیا اس کے لئے مشکل سلیقے سے
مگر پھر بھی وہ نعرے مار کر ان پر جھپٹتا تھا
برابر زخم کھاتا تھا، مگر پیچھے نا ہٹتا تھا
اگرچہ یہ بہادر ہمت و جرات میں یکتا تھا
مگر وہ چار تھے ، کم عمر تھا یہ اور تنہا تھا
دکھائی اس جری کے بازوؤں نے دیر تک چستی
بالآخر خون بہ جانے سے آئی جسم میں سستی
وہب بن عبد مناف والد سیدہ آمنہ ؓ
بنو زہرہ میں اک مرد معمر وہب نامی تھا
قریشی نسل میں یہ شخص بھی ماہ تمامی تھا
تھی اس کے گھر میں اک دختر جو ایسی پاک سیرت تھی
کہ اس کی ذات سے لفظ حیا داری عزت تھی
عرب میں آمنہ مشہور تھا نام اس عفیفہ کا
اسی کی گود گہوارہ بنی دین حنیفہ کا
بہت ہی فکر رہتی تھی پدر کو عقد دختر کی
بنی ہاشم میں تھی اس کو تلاش و جستجو بر کی
روایت ہے کہ اس دن ہو گیا تھا اونٹ گم اس کا
وہ اس کو ڈھونڈا پھرتا تھا اس جانب بھی آ نکلا
بلندی سے اسے اس جنگ کا نقشہ نظر آیا
یہودی قاتلوں کے بس میں اک لڑکا نظر آیا
نظر آیا وہ لڑکا برسرِ پیکار چاروں سے
بہت ہی تن دہی سے لڑ رہا تھا پختہ کاروں سے
خیال آیا کہ ملنی چاہیے امداد لڑکے کو
مبادا قتل کر دیں مل کے یہ جلاد لڑکے کو
مگر اٹھا جونہی امداد کرنے کے ارادے سے
نہ جانے کیوں الجھ کر رہ گیا اپنے لبادے سے
پھر اٹھا جب دوبارہ پاؤں پھسلا ایک پتھر سے
چٹان ابھری ہوئی تھی ایک وہ ٹکڑا گئی سر سے
اٹھا پھر تیسری بار اور چاہا جلد اتر جاؤں
جوان ہاشمی کو قتل ہونے سے بچا لاؤں
مگر اب کے ہوا اک اژدہا اس راہ میں حائل
کہ جس کے خوف سے ساری عزیمت ہو گئی زائل
یہ مرد اب دور ہی بیٹھا ہوا حسرت سے تکتا تھا
جوان ہاشمی کے واسطے کچھ کر نہ سکتا تھا
نظر آیا کہ لڑکا سست ہے زخموں کی شدت سے
یہودی پے بہ پے حملے کئے جاتے ہیں قوت سے
خیال آیا مری آواز سے شاید وہ ڈر جائیں
یہاں اک شخص کو موجود سمجھیں اور باز آئیں
مگر جونہی یہ سوچا اور نعرہ مارنا چاہا
وہیں گھونٹا کسی نے حلق اور بٹھلا دیا چپکا
حقیقت میں یہ سب شیطان کی فتنہ طرازی تھی
مدد کے راستے میں ہر رکاوٹ حیلہ سازی تھی
رہی جب اس برح ہر مرتبہ تدبیر ناکارہ
نظر آیا نہیں تقدیر سے انسان کا چارہ
مگر اس بے گنہ کا قتل میں ہونا نہ دیکھوں گا
نہیں کچھ اور کر سکتا تو آنکھیں بند کرلوں گا
مگر اتنے میں اس کو اور ہی نقشہ نظر آیا
زمیں سے تا فلک اک نور کا جلوہ نظر آیا
نظر آیا اترنا چار نورانی فرشتوں کا
اور ان کو دیکھتے ہی بھاگنا ان بد سرشتوں کا 59
گرا کر قاتلوں کو بھاگ اٹھے رہوار شیطانی
زمیں پر سر پٹکتے رہ گئے غولِ بیابانی
جواں نے ا ب تعاقب کر کے مارا ان لعینوں کو
نہ شیطاں دے سکا کوئی سہارا ان لعینوں کو
یہ صورت دیکھ کر مرد معمر ہو گیا حیراں
یقیں آیا، کہ ہے یہ ہاشمی لڑکا بہت ذیشاں
اٹھا تو راستے میں اب نہ کوئی اژدہا دیکھا
وہاں پہنچا تو پانچوں قاتلوں کا سر کٹا دیکھا
پڑے تھے پانچ لاشے ایک اک سے دور سب تنہا
کھڑا تھا اک جگہ فرزند عبدالمطلب تنہا
غرض زخمی جواں کو ساتھ لے کر وہب گھر آیا
یہ سارا ماجرا اس کے پدر کو جا کے بتلایا
پھر اپنی نیک دختر بیاہ دی اس شیر صولت سے
خوشی اس بیاہ کی سب نے منائی شان و شوکت سے
بہم دولہا دلہن تھے صورت و سیرت میں لاثانی
قسم کھاتی تھی ان کا نام لے کر پاک دامانی
وہ نور لم یزل جس کی ضیا تھی روئے انور میں
نظر آنے لگی اس کی جھلک تقدیر مادر میں
سردار عبداللہ کا انتقال
گئے پھر کچھ دنوں کے بعد سوئے شام عبداللہ
وہاں سے پلٹے آتے تھے کہ آئی موت بھی ناگاہ
جوانی میں ہوا یثرب کے اندر انتقال ان کا
رہا اب آمنہ کے واسطے رنج و ملال ان کا
لیے بیٹھی تھیں اب گھر میں امانت اپنے شوہر کی
کہ تھی بطنِ صدف میں روشنی اک پاک گوہر کی
اصحاب فیل کا بیان
ہوئی شیطان کو اس مرتبہ بھی سخت ناکامی
تو قبضے میں کیا اک شخص اس نے ابرہہ 60 نامی
یہ حاکم تھا یمن کا اور حبش کی فوج کا افسر
تھا اس کے پاس خونی ہاتھیوں کا اک بڑا لشکر
یمن میں ڈالی تھی بنیاد اس نے اک کلیسا 61 کی
دیا تھا حکم پوجا ہو یہاں تصویرِ عیسیٰ کی
مگر آئے نہ اس ڈھب پر بتوں کے پوجنے والے
اگرچہ ابرہہ نے ملک پر ڈورے بہت ڈالے
اگرچہ نام حق سے سر بسر یہ لوگ عاری تھے
بتانِ کعبہ کے اہلِ عرب لیکن پجاری تھے
کوئی رونق نہ پائی جب یمن والے کلیسا نے
کسی کا دل نہ کھینچا الفتِ تصویرِ عیسیٰ نے
در تثلیث پر گردن جھکائی جب نہ انساں نے
تو یہ پٹی پڑھائی ابرہہ کو نفسِ شیطاں نے
کہ مکے میں جو کعبہ ہے اسے جب تک نہ ڈھاؤ گے
اٹھا کر سنگِ اسود کو یہاں جب تک نہ لاؤ گے
وہاں جب تک براہیمی عبادت گاہ باقی ہے
عرب والوں میں رسمِ حجِ بیت اللہ باقی ہے
تمہارے اس کلیسا کی طرف کوئی نہ آئے گا
تمہارا دین دنیا میں کبھی رونق نہ پائے گا 62
خدا کے خانہ وحدت کو ڈھا دینا ہی لازم ہے
نشان حق زمانے سے مٹا دینا ہی لازم ہے
پڑا اس خوئے بد پروار شیطاں کا بڑا کاری
کہ فوراً ابرہہ اشرم نے کی حملے کی تیاری
ہوا تیار خونی ہاتھیوں کا اک بڑا لشکر
چلا مکے کی جانب ابرہہ اس فوج کو لے کر
تھا آگے آگے اک فیل سفید اس کی سواری میں
اکڑ کر ابرہہ بیٹھا تھا اک زریں عماری میں
رواں تھیں پیچھے پیچھے ہاتھیوں کی جنگجو فوجیں
سمندر کی اندھیری رات میں طوفان کی موجیں
یہ لشکر جا رہا تھا کعبۃ اللہ کے گرانے کو
زمیں سے نام حق کا مرکزی نقطہ مٹانے کو
یمن سے مکہ تک آبادیاں جو راہ میں آئیں
وہاں اس فوج نے بربادیاں ہر سمت پھیلائیں
کبھی دیکھے نہ تھے ہاتھی عرب کے رہنے والوں نے
اثر ان پر کیا شمشیر و خنجر نے نہ بھالوں نے
مشرکین کا فرار
یہ خبریں اہل مکہ نے سنیں اور سخت گھبرائے
دلوں پر وسوسے شیطان نے فی الفور پھیلائے
اگرچہ بت پرستی کی نہیں رکھی تھی حد کوئی
ہبل اور لات و عزی نے نہ کی ان کی مدد کوئی
قریش ان ہاتھیوں سے خوف کھا کر دفعتاً بھاگے
پہاڑوں میں چھپے جا کر کوئی پیچھے کوئی آگے
یہ سب خوف و خطر تھا بت پرستی ہی کا خمیازہ
کہ برہم ہو چکا تھا ان کی یک جہتی کا شیرازہ
دلائی ان کو عبدالمطلب نے گو بہت غیرت
نہ دکھلائی مگر نسلِ قریشی نے کوئی جرات
تھے عبدالمطلب یا بیٹے پوتے ان کے دس بارا
یہی باقی تھے ، باقی شہر خالی ہو گیا سارا
سپہ اولاد تھی والد سپہ سالار مکہ تھا
یہی کعبے کا خادم تھا، یہی سردارِ مکہ تھا
سردار عبدالمطلب اور ابرہہ اشرم کی گفتگو
سحر کے وقت اک بدویہ مکے میں*خبر لایا
کہ لشکر فیل والوں نے حرم کی حد پہ ٹھیرایا
چراگاہوں میں خاک اڑنے لگی ہے ظلم کے مارے
پکڑ کر اونٹ عبدالمطلب کے لے گئے سارے
ہوئے تیار عبدالمطلب بھی یہ خبر سن کر
تنِ تنہا چلے گھوڑے پہ چڑھ کر جانبِ لشکر
وہاں پہنچے تو ان کو ابرہہ نے دور سے دیکھا
کہ اک مرد معمر آ رہا ہے بے دھڑک تنہا
نشاں چہرے سے ظاہر ہیں بزرگی کے امارت کے
شرافت کے نجابت کے تقدس کے طہارت کے
وہ ان کی پیشوائی کے لیے باہر نکل آیا
بڑی عزت سے اپنی بارگہ میں لا کے بیٹھا
کہا فرمائیے کیا نام ہے کیا کام ہے صاحب؟
بیاں کیجے یہاں آنے کا اپنے مقصد و مطلب
کہا اہلِ عرب کہتے ہیں عبدالمطلب مجھ کو
نہیں ہے آپ سے کوئی غرض کوئی طلب مجھ کو
ہنکا لائے ہیں میرے اونٹ جا کر آپ کے چاکر
میں آیا ہوں کہ لے جاؤں یہاں سے اونٹ لوٹا کر
سنی یہ بات تو حیران ہو کر ابرہہ بولا
کہ شاید تم نے اپنی بات کو دل میں نہیں تولا
یہ ظاہر ہے میں آیا ہوں یہاں کعبہ گرانے کو
تمہارے جدِ امجد کی عبادت گاہ ڈھانے کو
تعجب ہے ، کہ اک ناچیز شے کا ذکر کرتے ہو
نہیں کعبے کی فکر اونٹوں کی اپنے فکر کرتے ہو
تمہیں لازم تھا عزت کے مطابق گفتگو کرتے
خدا کا گھر بچانے کے لیے کچھ آرزو کرتے
اصحاب فیل کے حملے کی صبح
بالآخر نور نے اس سحر کے آثار بھی میٹے
ہوئے تیار عبدالمطلب اور ان کے سب بیٹے
دعا مانگی جناب آمنہ کو پاس بٹھلا کر
کہ اے کعبہ کے مالک ، نصرت غیبی مہیا کر
یہ عالی شان بچہ جو ابھی ہے بطن مادر میں
بشارت تھی کہ اس کا نور چمکے گا تیرے گھر میں
اسی کے واسطے سے ہم دعا کرتے ہیں اے مالک
سوا تیرے کسی سے ہم نہیں ڈرتے ہیں اے مالک
بچا لے یورشِ دشمن سے اپنے گھر کی حرمت کو
بچا لے آلِ اسمٰعیلّ کے سامانِ عزت کو
دعائیں مانگ کر اٹھے فرازِ کوہ پر آئے
یہاں سے فوجِ دشمن کے انہیں نقشے نظر آئے
غبار اٹھتا نظر آیا حرم کے اک کنارے سے
فلک کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا اس نظارے سے
چڑھی آتی تھی کعبے پر گھٹا ظلمت کی صحرا سے
ستارے ڈر کے مارے ہو گئے روپوش دنیا سے
سحر نے بسترِ مشرق سے لی جب اٹھ کے انگڑائی
افق پر کالے کالے ہاتھیوں کی چھاؤنی چھائی
ہنسا شیطاں کہ بر آنے لگی اس کی امید آخر
بڑھایا ابرہہ نے فوج سے فیلِ سفید آخر
قطاریں ہاتھیوں کی پیچھے پیچھے بڑھتی آتی تھیں
بروئے کعبہ یہ کالی گھٹائیں چڑھتی آتی تھیں
کہیں آنکس کہیں تیغے کہیں برچھے چمکتے تھے
مہاوت ہاتھیوں کو ریلتے تھے کفر بکتے تھے
حرم کی حد میں یوں جب چیرہ دستی کا سماں دیکھا
زمیں نے خوف سے تھرا کے سوئے آسماں دیکھا
ہاتھی سجدے میں
اٹھائی تیغ، اب غصے میں عبدالمطلب اٹھے
فدائے کعبہ ہو جانے کو با غیظ و غضب اٹھے
مگر اٹھتے ہی ان کو اور ہی نقشا نظر آیا
جلالِ ربِ کعبہ کا عجب جلوا نظر آیا
حرم کی حد میں آیا ابرہہ تو رک گیا ہاتھی
پئے تعظیم کعبہ عاجزی سے جھک گیا ہاتھی
گرا سجدے میں سر ایسا کہ پھر اوپر نہیں اٹھا
ہزار آنکس پڑے تن پر مگر یہ سر نہیں اٹھا
یکایک ابرہہ نے مڑ کے دیکھا فوج کی جانب
حرم کی سرزمیں پر بڑھنے والی موج کی جانب
نظر آیا قطاراں در قطاراں رک گئے ہیں سب
بروئے کعبہ سجدے کر رہے ہیں جھک گئے ہیں سب
تعجب اور گھبراہٹ کا ہنگامہ ہے پیش و پس
مہاوت مارتے ہیں ہاتھیوں پر پے بہ پے آنکس
پڑے ہیں اس طرح ہاتھی کہ جنبش ہی نہیں کرتے
خدا کا ڈر ہے دل میں آج شیطاں سے نہیں ڈرتے
اصحاب فیل کا حشر
نکالی ابرہہ نے تیغ ہاتھی سے اتر آیا
مخاطب کر کے اپنی فوج کو کم بخت چلایا
کہ بزدل ہاتھیوں کو چھوڑ کر آگے بڑھیں فوجیں
بہادیں آج کعبے کو اٹھیں لہریں، چڑھیں موجیں
یہ کہنا تھا کہ چھائی آسماں پر ایک بدلی سی
فضا میں روشنی مہر کر دی جس نے گدلی سی
بلندی پر سے عبدالمطلب حیرت سے تکتے تھے
کہ وہ خطہ جہاں یہ لوگ ایسا کفر بکتے تھے
وہاں زیر فلک ساری فضا پر چھا گئیں چڑیاں
خدا جانے کہاں سے جمع ہو کر آ گئیں چڑیاں
یہ ننھی منی چڑیاں تھیں ابابیلوں کا لشکر تھا
ذرا سی چونچ میں نازک سے ہر پنجے میں کنکر تھا
نہ کی جب ابرہہ نے اک ذرا بھی حرمت کعبہ
ابابیلوں نے کی آ کر یکایک نصرتِ کعبہ
بلندی سے ابابیلوں نے پھینکے اس طرح کنکر
کہ چھلنی کی طرح سے چھد گئی یہ فوج بد اختر
وہ ظالم ابرہہ اور اس کے ساتھی ایک ساعت میں
پڑے تھے سب کے سب دھنکی ہوئی روئی کی صورت میں
وہ فوجیں اور وہ ہاتھی اور ان کے ہانکنے والے
خدا کے قہر نے اک آن میں پامال کر ڈالے 63
یہ زندہ معجزہ دکھلا دیا اس مہرِ انور نے
چھپا رکھا تھا جس کو عصمتِ دامانِ مادر نے
یہ پوتا واسطے سے جس کے دادا نے دعا مانگی
وہ جس کے نام سے نادیدہ تائیدِ خدا مانگی
وہ بچہ آمنہ کے گھر میں پیدا ہونے والا تھا
وہ نور اب چند ہی دن میں ہویدا ہونے والا تھا
جہاں کے واسطے امن و اماں کے دور باقی تھے
وہ دن آنے کو تھا بس دو مہینے اور باقی تھے

0 comments so far,add yours