یہاں مکے مین دنیا تنگ تھی ایمان داروں پر
کہ روندے جا رہے تھے پھول کے سے جسم خاروں پر
نبوت نے اجازت دی کہ یثرب میں چلے جاؤ
وطن والوں کے اس ظلم و تعدی سے اماں پاؤ
بشارت ہے وہاں پر امن بخشے گا خدا تم کو
یہاں صبح وطن ہے ، خندہ دنداں نما تم کو
صحابہ پر اگر چہ قہر کے بادل برستے تھے
بچارے سانس آزادی سے لینے کو ترستے تھے
نہ تھا آسان منہ اپنے وطن سے موڑ کر جانا
رسول پاک کو مکے میں تنہا چھوڑ کر جانا
مگر فرمانِ محبوب خداؐ فرمانِ باری تھا
مسلمانوں کا شیوہ، شیوہ طاعت گزاری تھا
مشرکین مکہ کے ارادے
صحابہ رفتہ رفتہ جانب یثرب ہوئے راہی
قریشی قافلوں کو مل گئی فی الفور آگاہی
دلوں میں خوش ہوئے ظالم کہ اب حسرت ہوئی پوری
محمدؐ اور اس کے ساتھیوں میں ہو گئی دوری
مسلماں جا چکے ارض حبش میں اور یثرب میں
یہ اچھا وقت ہے سب ٹل گئے وقت مناسب میں
ابو بکرؓ و علیؓ باقی ہیں لیکن دو کی ہستی کیا
بہادر ہی سہی ہم پر کریں گے پیش دستی کیا
جو چند افراد ہیں کچھ اور وہ کمزور 154 ہیں سارے
کہ اب بھی چھپتے پھرتے ہیں ہمارے خوف کے مارے
یہ اچھا وقت ہے اب قتل کر ڈالو محمدؓ کو
مٹا دو آج تنہائی میں اس نور مجرد کو
تساہل اب نہیں اچھا کہ طوفاں چڑھتے جاتے ہیں
حبش میں اور یثرب میں مسلماں بڑھتے جاتے ہیں
مشاورت قتل
جبیر و عقبہ و عتبہ ابو جہل و ابو سفیاں
نضر بو بختری حارث امیہ اور اک شیطاں
یہ سب ایوان ندوہ میں اکٹھے ہو گئے آ کر
قبائل کے نمائندے بٹھائے ساتھ بلوا کر
تھا شیطاں نجد کے اک بے حیا بوڑھے 155کی صورت میں
کہ چل کر دور سے آیا تھا آج اس بزم لعنت میں
ہوئے ایوان کے در بند، تقریریں لگی ہونے
نبیؐ کو قتل کر دینے کی تدبیریں لگی ہونے
نظر آتی تھی اس بوڑھے کو ہر تجویز میں خامی
وہ کہتا تھا مبادا پیش آ جائے کوئی خامی
بالآخر سوچ کر بوجہل نے اک بات بتلائی
یہی تجویز اس شیطان بوڑھے کو پسند آئی
کہا اس نے کہ ہر کنبے سے اک اک آدمی چن لو
کوئی باقی نہ رہ جائے قبیلہ یہ ذرا سن لو
یہ نکلیں آج شب کو لے کے خون آشام تلواریں
محمدؐ پر یہ تلواریں سبھی یکبارگی ماریں
نبی کا جسم عبرت کا نظارہ ہو کے رہ جائے
مجسم نور وحدت پارہ پارہ ہو کے رہ جائے
یہی تجویز اچھی ہے ، یہی ترکیب ہے کامل
کہ ہو گا اس طرح ہر اک قبیلہ قتل میں شامل
کریں ایس خون کا دعویٰ مسلماں یا بنی ہاشم
تو مل کر سب قبیلے جنگ میں ان سے نپٹ لیں ہم
غرض طے پا گئی آخر یہی تجویز شیطانی
قسم کھا کھا کے لوگوں نے نبی کے قتل کی ٹھانی
ہجرت کی رات
سفینہ مہر کا جس دم شفق کے خون میں ڈوبا
کیا تاریکیوں نے دن پہ چھا جانے کا منصوبا
کئی فتنے جگا کر رات نے پھیلا دیے دامن
فضا پر لشکر ظلمات نے پھیلا دیے دان
مسلط ہو گئیں خاموشیاں دنیائے ہستی پر
ستاروں کی نگاہیں جم گئیں مکے کی بستی پر
نہیں تھا دامن کعبہ پہ زمزم اشک جاری تھا
چٹانیں دم بخود تھیں وادیوں پر ہول طاری تھا
نظر آتی ہو جس میں روشنی وہ ایک ہی گھر تھا
مصلے پر وہاں جو شخص بیٹھا تھا پیمبر تھا
عبادت ختم کی تسکین اطمینان سے اس نے
اٹھا، باندھی کمر اللہ کے فرمان سے اس نے
جگایا نیند سے شیر خدا کو اور فرمایا
کہ فرماں ہجرت یثرب کا ہے میرے لیے آیا
مثال موسیٰؑ و داؤدؑ ہجرت 156 فرض ہے مجھ پر
کمال دین حق اتمام حجت فرض ہے مجھ پر
اٹھو دیکھو کہ تلواروں سے گھر محصور ہے میرا
کہ میری قوم کو اب قتل ہی منظور ہے میرا
نکلنا اور اس عالم میں تلواروں پہ چلنا ہے
مگر حکم خدا ہے اس لیے مجھ کو نکلنا ہے
یہ چادر اوڑھ لو! سو جاؤ آ کر میرے بستر پر
محافظ ہے وہی رکھو بھروسہ شانِ داور پر
یہ مال و زر انہی لوگوں کا میرے پاس امانت ہے
امانت کا ادا کرنا ہی اسلامی دیانت ہے
خدا حافظ ہے دیکھو دل میں اندیشہ نہ کچھ لانا
یہ چیزیں ان کی پہنچا کر سوئے یثرب چلے آنا
علی ؓ نے حکم کی تعمیل کی اور اوڑھ لی چادر
بہ اطمینان آ کر سو گئے حضرت کے بستر پر
ارادہ کر لیا جب سرور عالمؐ نے چلنے کا
تو دیکھا راستہ مسدود ہے گھر سے نکلنے کا
درازوں میں سے جھانکا ہر طرف گہرا اندھیرا تھا
مگر پہرے کھڑے تھے گھر کو جلادوں نے گھیرا تھا
اندھیرے میں چمک اٹھتی تھیں بجلی کی طرح دھاریں
نظر آیا کہ ہیں ہر سمت تلواریں ہی تلواریں
یہ آدھی رات کا عالم یہ ہیبت ناک نظارہ
مگر ڈرتا تھا باطل سے وہ اللہ کا پیارا
وہ دراتا ہوا وحدت کا دم بھرتا ہوا نکلا
تلاوت سورہ یس کی کرتا ہوا نکلا
گری برق نظر اس مجمع قاتل کی آنکھوں پر
کہ پٹی خیرگی کی بندھ گئی باطل کی آنکھوں پر
کھنچی ہی رہ گئیں خوں ریز خوں آشام شمشیریں
کسی نے کھینچ دی ہوں جس طرح کاغذ کی تصویریں
خدا نے خاکِ غفلت ڈال دی کفار کے سر میں
رسول پاک پہنچے حضرت صدیق کے گھر میں
سنایا دوست کو فرمان حق یثرب کی ہجرت کا
نوید زندگی بخشی دیا مژدہ رفاقت کا
بعجلت دختر صدیقؓ نے سامان کو باندھا
نطاق اپنی اتاری اس سے توشہ دان کو باندھا
حبیب حق کی خوشنودی صلہ تھا جوشِ خدمت کا
شرف پایا ہوئیں ذات النطاقین آج سے ا سماؓ 157
غارِ ثور 158
ہوئے آزاد باطل کے حصار قہر سے دونوں
ابھی کچھ رات باقی تھی کہ نکلے شہر سے دونوں
نبیؐ نے خانہ کعبہ کو دیکھا اور فرمایا
کہ اے پیارے حرم میری تری فرقت کا وقت آیا
ترے فرزند اب مجھ کو یہاں رہنے نہیں دیتے
تری پاکیزگی کا وعظ تک کہنے نہیں دیتے
جدائی عارضی ہے پھر بھی دل کو بے قراری ہے
کہ تو اور تیری خدمت مجھ کو دنیا بھر سے پیاری ہے
یہ فرماتا ہوا آگے بڑھا اسلام کا ہادیؐ
سرا سر موم ہو کر رہ گئی یہ سنگ دل وادی
چڑھائی سخت تھی سنگین و ناہموار رستہ تھا
نکیلے پتھروں کا فرش تھا پر خار رستہ تھا
نبیؐ کے پائے نازک ہر قدم پر چوٹ کھاتے تھے
دل صدیقؓ کے جذبات زخمی ہوتے جاتے تھے
نہ دیکھا جا سکا پائے محمدؐ کی جراحت کو
بصد اصرار کندھوں پر اٹھایا شان رحمت کو
اندھیرا ، پتھروں کے ڈھیر، کوہِ ثور کی گھاٹی
خدا ہی جانتا ہے یہ مسافت جس طرح کاٹی
بالآخر دو مسافر نزد غارِ ثور آ ٹھہرے
مقدر تھا یہیں نورانیوں کا قافلہ ٹھہرے
گئے اندر ابو بکر ؓ اور اس کو صاف کر آئے
عبا کو چاک کر کے روزنوں میں اس کے بھر آئے 159
مہ و خورشید نے برج سفر میں استراحت کی
کہ تھا نوروز تاریخ یکم تھی سن ہجرت کی
ازل سے سو رہی تھی خاک کی توقیر جاگ اٹھی
یکایک اس اندھیرے غار کی تقدیر جاگ اٹھی
سحر کا نور خندہ زن تھا باطل کی لیاقت پر
افق کے غرفہ مشرق سے جب خورشید نے جھانکا
نظر آیا تماشا قاتلوں کی چشم حیراں کا
گروہ اشقیا کو سرنگوں ہوتا ہوا پایا
علی ؓ کو سایہ شمشیر مین سوتا ہوا پایا
سحر کا نور خندہ زن تھا باطل کی لیاقت پر
بہت جز بز تھا انبوہ قریش اپنی حماقت پر
حقیقت کھل گئی جس وقت غافل ہوش میں آئے
بہت بپھرے ، بہت ہی اچھلے کودے جوش میں آئے
بہت کچھ کھینچا تانی کی علی ؓ کو خوب دھمکایا160
یہاں سے پھر یہ مجمع خانہ صدیق ؓ پر آیا
ہوا معلوم انہیں بو بکرؓ بھی گھر میں نہیں سوئے
یہ ایسی بات تھی جس نے حواس و ہوش بھی کھوئے
بہم لڑنے لگے اک دوسرے کی داڑھیاں نوچیں
محمدؐ کو پکڑ لینے کی ترکیبیں کئی سوچیں
انعام کا اعلان اور تلاش
کیا اعلان آخر جو کوئی جرات دکھائے گا
پکڑ لائے گا تو انعام میں سو اونٹ پائے گا
لگے کچھ جمع ہو کر شہر ہی میں ہا و ہو کرنے
بہت سارے مسلح ہو کے نکلے جستجو کرنے
لگائے ہر طرف چکر بہت لمبے بہت چوڑے
پہاڑوں پر چڑھے وادی میں گھومے دشت میں دوڑے
تعاقب میں کئی مشرک دہان غار تک پہنچے
کئی بار اس مقام سید ابرار تک پہنچے
سنی بو بکرؓ نے قدموں کی آہٹ دل ہوا پر غم
کہا دشمن قریب آئے ہیں اے فخر بنی آدم
کہا اللہ ساتھی ہے تو کیا اندیشہ دشمن
رکھ ان اللہ معنا پر نظر اے دوست لا تحزن161
قافلہ نبوت مدینے کے راستے میں
اٹھا رکھی نہ اہل مکہ نے باقی کسر کوئی
نہیں پہنچا خدا کے پاک بندوں تک مگر کوئی
مسافر تین روز و شب رہے اس غار کے اندر
غذا ملتی رہی تازہ بفضل خالق اکبر
سکوں افشا ہوا دنیا پہ چوتھی رات کا سایا
تو عامر162 گھر سے اک ناقہ کی جوڑی ساتھ لے آیا
ادب سے عرض کی بوبکر نے اے رحمتِ باری
سوارِ ناقہ ہو کر کیجیے چلنے کی تیاری
ہوا ارشاد اس ناقہ کی قیمت طے کرو پہلے
کہ ہم قیمت بغیر اس کو نہ لیں گے سوچ لو پہلے
اشارا تھا مدد جز رحمتِ یزداں نہیں لیتے
خدا کی راہ میں انسان کا احساں نہیں لیتے
بقیمت لے کے ناقہ شان رحمت نے سواری کی
بڑھیں یثرب کی جانب نکہتیں بادِ بہاری کی
رسول اللہؐ اور صدیق ؓ تھے اک پشت ناقہ163 پر
تھا عامر دوسری پر اور اس کے ساتھ اک رہبر164
بظاہر چند اہل کارواں معلوم ہوتے تھے
مگر ان کے جلو میں دو جہاں معلوم ہوتے تھے
عرب کی دھوپ
یہ شب چلتے ہی گزری اور دن کی دوپہر آئی
رب کی دھوپ نے شان تمازت اپنی دکھلائی
اٹھا طوفانِ آتش اس بیابانی سمندر میں
سمایا آ کے سو سو ہاویہ ایک ایک پتھر میں
زمیں انگارے اگلی آگ برسی آسمانوں سے
دھواں اٹھنے لگا جھلسی ہوئی کالی چٹانوں سے
فضا تھرا گئی سیلِ حرارت کے دریڑوں سے
ہوا گھبرا گئی امواج حدت کے تھپیڑوں سے
ازل کے روز سے یہ خاک یونہی پاک ہوتی تھی
وضو کرتی تھی ہر ذرے کا منہ کرنوں سے دھوتی تھی
کیا کرتی تھی غسلِ آفتابی اس لیے وادی
کہ گزرے گا یہاں سے ایک دن اسلام کا ہادی
کیا آرام اک پتھر کے سائے میں رسالت نے
مہیا کر لیا دودھ اس جگہ بھی جوش خدمت165 نے
ہوئی جس وقت ہلکی دھوپ کی وہ شعلہ سامانی
پیا شیرِ مصفا آپ نے چلنے کی پھر ٹھانی
سراقہ ابن مالک ابن جعشم کا تعاقب
مقرر ہو چکا تھا اس طرف انعام اونٹوں کا
گرفتاری کی خاطر بچھ چکا تھا دام اونٹوں کا
سراقہ ابن مالک کو ہوس نے آج اکسایا
چڑھا گھوڑے کے اوپر اور نبی کو ڈھونڈنے آیا
مگر چلتے ہی ٹھوکر لی صبا رفتار گھوڑے نے
جگایا روح خوابیدہ کو پہلی بار گھوڑے نے
یہ اک تنبیہ تھی لیکن سمجھ اس کو نہیں آئی
کہ بعد از صد تامل پھر تعاقب ہی کی ٹھہرائی
نظر آیا اسے اب قافلہ ایمان والوں کا
ہوس نے بھر دیا سو اونٹ سے دامن خیالوں کا
سراقہ خوش ہوا گھوڑے کا دوڑاتا ہوا دوڑا
نہایت زعم سے نیزے کو چمکاتا ہوا دوڑا
گرایا اک جگہ بار دگر راکب کو مرکب نے
جھنجھوڑا روح خوابیدہ کو دستِ قدرتِ رب نے
یہ غیبی تازیانہ تھا یہ تنبیہ الٰہی تھی
ہوا ثابت کہ فالوں میں تعاقب کی مناہی تھی
پھر اکسایا اسے انعام ملنے کی امیدوں نے
خطاب قاتلِ اسلام ملنے کی امیدوں نے
بڑھا پھر چڑھ کے گھوڑے پر جہالت کے اعادے سے
اسی بے رحم نیت سے اسی قاتل ارادے سے
مگر اس مرتبہ دامِ بلا میں پھنس گیا گھوڑا
روایت ہے کہ رانوں تک زمیں میں دھنس گیا گھوڑا 166
دکھائی پے بہ پے آخر جو قسمت نے نگوں ساری
سراقہ کے دلِ وحشی پہ ہیبت ہو گئی طاری
پڑا ہاتھوں میں رعشہ ڈر سے نیزہ گر گیا اس کا
یہ نقشہ دیکھ کر اس کام سے دل پھر گیا اس کا
آنحضرتؐ کی ایک معجز نما پیش گوئی
پکارا یا محمدؐ بخش دیجیے گا خطا میری
میں گمراہی میں تھا بیشک بدی تھی رہنما میری
میں تائب ہوں مجھے اک امن کی تحریر مل جائے
ترے دربار رحمت میں مجھے توقیر مل جائے
انوکھی التجا تھی مسکرایا قوم کا ہادیؐ
پھر اس کو بے تامل امن کی تحریر لکھوا دی
سراقہ سے مخاطب ہو کے یوں ملہم نے فرمایا
اگرچہ تو ابھی اللہ پر ایماں نہیں لایا
نرالے رنگ ہیں لیکن خدا کی شان والا کے
تیرے ہاتھوں میں کنگن دیکھتا ہوں دست کسریٰ کے
تحیر خیز تھے معجز نما الفاظ حضرت کے
عیاں فرما دیئے تھے آپ نے اسرار قسمت کے
جہاں کو جلوے اس پیشن گوئی کے نظر آئے
کہ یہ کنگن سراقہ نے عمر ؓ ے عہد میں پائے 167
بریدہ اسلمی اور اس کے ساتھی
سراقہ امن کی تحریر لے کر گھر پلٹ آیا
اعادہ پھر سفر کا رحمت عالم نے فرمایا
ستارے ہم سفر تھے رات کو اور دن کو سورج تھا
منازل میں لقف تھا مدلجہ تھا اور مرحج تھا
حداید اور اذاخر اور رابغ راہ میں آئے
مقامات جدا جد بھی اقامت گاہ میں آئے 168
ابھی یہ قافلہ دامانِ منزل تک نہ تھا پہنچا
گرفتاری کی خاطر اور اک انبوہ آ پہنچا
یہ ستر آدمی تھے دشت ہی گھربار تھا ان کا
جواں ہمت بریدہ اسلمی سردار تھا ان کا
اسی انعام کا لالچ انہیں بھی کھینچ لایا تھا
یہ فتنہ راستے میں اہل مکہ نے اٹھایا تھا
مگر اسلام کی دولت لکھی تھی ان کی قسمت میں
بریدہ آ گیا آتے ہی دامانِ نبوت میں 169
شرف پایا جو اس نطقِ خدا سے ہم کلامی کا
تہیہ کر لیا سب نے محمدؐ کی غلامی کا
بتوں کو چھوڑ کر دنیائے باطل سے جدا ہو کر
چلے یثرب کی جانب ہمرکاب مصطفیٰ ہو کر
محبت میں بریدہ نے اتارا اپنا عمامہ170
اسے نیزے میں باندھا اور یہ جھنڈا اس طرح تھاما
کہ اسلامی پھریرا آج لہرایا فضاؤں میں
معاً اللہ اکبر کی صدا گونجی ہواؤں میں
یہ جھنڈا امن و راحت کی بشارت دیتا جاتا تھا
طلوع صبح وحدت کی شہادت دیتا جاتا تھا
کہ عدل و بذل کا مختار امن و صلح کا حامی
مجسم رحمت عالم محمد مصطفیؐ نامی
وہ ابر لطف جس سے ہر گل گلزار خنداں ہے
انیس بے کساں ہے درد مند درد منداں ہے
جہاں کو از سر نو نور سے معمور کرنے کو
دلوں سے کفر کا رنگ کدورت دور کرنے کو
وہ جس کا اک اشارہ روح مردہ کو جلاتا ہے
وہی تشریف لاتا ہے وہی تشریف لاتا ہے
قبا میں ورود مسعود 171۔۔ الانتظار ، الانتظار
طلوع بدر کے ساماں ہوئے بزم کواکب میں
کئی دن سے یہ روشن ہو چکا تھا ارضِ یثرب میں
نکل کر شہر سے خلقت قبا تک چل کے آتی تھی
تمنا رنگ حسرت بن کے آنکھوں میں سماتی تھی
ہوا کرتی تھی فرشِ راہ اٹھ کر بار بار آنکھیں
ہمہ تن انتظار آنکھیں ہمہ تن انتظار آنکھیں
بھٹکتا تھا تصور منزلوں میں اور راہوں میں
سحر سے شام تک اک شکل رہتی تھی نگاہوں میں
کئی دن تک نہ جب صورت دکھائی شاہِ والا نے
بہت مضطر ہوئے شمع نبوت کے یہ پروانے
ہوئیں کوتاہ آخر انتظار دید کی گھڑیاں
نگاہوں کے لیے آئیں نمازِ عید کی گھڑیاں
کسی نے دی خبر اے لو رسول اللہؐ آ پہنچے
جناب حضرت صدیقؓ بھی ہمراہ آپہنچے 172
غل اٹھا لیجیے ذروں کے گھر میں آفتاب آیا
زمین و آسماں کا نور جس کے ہمرکاب آیا
اکٹھے ہو گئے ہر سمت سے طالب زیارت کے
شعاعوں کی طرح سے گرد خورشید رسالت کے
نظر آئی جونہی پہلی جھلک روئے منور کی
سلامی گونج اٹھی نعرہ اللہ اکبر کی
پیمرؐ نے قبا میں چند دن آرام فرمایا
مروت نے بلطف خاص فیض عام فرمایا
سبھی پہلے مہاجر اس جگہ موجود تھے سارے
اکٹھے ہو گئے تھے چاند کے چاروں طرف تارے
علی مرتضیٰؓ بھی تیسرے ہی روز آ پہنچے
چلے مکے سے تنہا پا پیادہ تا قبا پہنچے
وہ اہل مکہ کو ان کی امانت دے کے آئے تھے
انہیں اسلام کا درسِ دیانت دے کے آئے تھے
ہوئے حاضر تو پا سوجے ہوئے تھے خون جاری تھا
نبی کا دیدہ ہمدرد محو اشکباری تھا
اساس دین محکم تھی نبی کی خاطر عالی
قبا میں سب سے پہلے ایک مسجد 173 کی بنا ڈالی
یہ مسجد اولیں بنیاد تھی طاعت گذاری کی
صفا کی صدق کی تقویٰ کی اور پرہیز گاری کی
قافلہ نبوت شہر یثرب کی طرف
اٹھی اک روز آواز بلند اللہ اکبر کی
سواری جانب یثرب چلی محبوب داور کی
نماز جمعہ کا وقت مبارک راہ میں آیا
یہاں حضرت نے خطبہ جمعہ کا ارشاد فرمایا
کیا تھا بہر ملت جمعہ کا آغاز حضرت نے
امام المرسلیں کی اقتدا کی آج امت 174نے
نبیؐ اپنے مدینے میں
ہوا چاروں طرف اقصائے عالم میں پکار آئی
بہار آئی، بہار آئی، بہار آئی، بہار آئی
جوان و پیر و مرد و زن سراپا چشم بیٹھے تھے
بہار آنے کو تھی گلشن سراپا چشم بیٹھے تھے
اب استقبال کو دوڑے بنی نجار175 سج سج کر
بڑھے انصار بن کر اوپچی، ہتھیار سج سج کر
جنوبی سمت سے اٹھا ایک نورانی غبار آخر
سوادِ شہر میں داخل ہوا ناقہ سوار آخر
فضا میں بس گئیں توحید کی آزاد تکبیریں
یہ تکبیریں تھیں باطل کے گلو پر تیز شمشیریں
مہاجر پیچھے پیچھے چل رہے تھے سر بکف ہو کر
کھڑے تھے راہ میں انصار ہر سو صف بہ صف ہو کر
درو دیوار استادہ ہوئے تعظیم کی خاطر
زمیں کیا آسماں بھی جھک گئے تسلیم کی خاطر
مسلماں بیبیاں گھر کی چھتوں پر جمع ہو ہو کر
نظر سے چومتی تھیں عصمتِ دامانِ پیغمبر
زباں پر اشرق البدر علینا کی صدائیں تھیں
دلوں میں ما دعی للہ داع کی دعائیں تھیں 176
کہیں معصوم ننھی بچیاں تھیں دف بجاتی تھیں
رسول پاک کی جانب اشارے کر کے گاتی تھیں
کہ ہم ہیں بچیاں نجار کے عالی گھرانے کی
خوشی ہے آمنہ کے لال کے تشریف لانے کی
مسلمانوں کے بچے بچیاں مسرور تھے سارے
گلی کوچے خدا کی حمد سے معمور تھے سارے
نبوت کی سواری جس طرف سے ہو کے جاتی تھی
درود و نعت کے نغمات 177 کی آواز آتی تھی
شوق میزبانی
رسول اللہ سلام انصار کا لیتے ہوئے گزرے
زباں سے خیرو برکت کی دعا دیتے ہوئے گزرے
ہر اک مشتاق تھا پیارے نبی کی میہمانی کا
تمنا تھی شرف بخشیں مجھی کو میزبانی کا
ہر اک مشتاق اپنی اپنی قسمت آزماتا تھا
بصد آداب و منت راہ میں آنکھیں بچھاتا تھا
بہت ہی کشمکش تھی اشتیاق میزبانی کی
نبیؐنے اس عقیدت کی نہایت قدردانی کی
کہا تم سب مرے بھائی ہو آپس میں برابر ہو
تونگر ہے وہی جو زہد و تقویٰ میں تونگر ہو
اقامت کو مگر میں نے خدا پر چھوڑ رکھا ہے
کہ ناقے کو فقط اس کی رضا پر چھوڑ رکھا ہے
سبھی پیارے ہو تم ہر ایک سے مجھ کو محبت ہے
جہاں ناقہ ٹھہر جائے وہیں جائے اقامت ہے
رکی یک بارگی ناقہ بحکم حضرت باری
جہاں اک سمت بستے تھے ابو ایوب انصاریؓ
پڑی تھی ایک جانب کچھ زمیں ویران و افتادہ
مشیت تھی اسی کو پاک کر دینے پر آمادہ
تھے وارث دو ہی لڑکے 178 داغ تھا جن پر یتیمی کا
انہی کے حال پر سایہ ہوا ابر کریمی کا
یہی وہ فرش تھا ملنا تھا جس کو عرش کا پایا
نبی نے ان یتیموں کو بلایا اور یہ فرمایا
کہ بچو یہ زمیں تم بیچنا چاہو تو ہم لے لیں
جو قیمت مانگو ہم دے کر تمہیں دام و درم لے لیں
وہ بولے نذر ہے حضرت نے نامنظور فرمایا
انہیں بو بکرؓ کے ہاتھوں سے پورا دام دلوایا
یہ افتادہ زمیں ہے سجدہ گاہ شوق اس دن سے
یہیں تسکین پاتی ہے نگاہِ شوق اس دن سے
صحابہ سے کہا جب تک نہ ہو مسجد کی تیاری
ہمارے میزباں ہونگے ابو ایوب انصاریؓ
فلک نے رشک سے دیکھا اس انصاری ؓ کی قسمت کو
ابو ایوبؓ گھر میں لے گئے سامانِ رحمت کو
مبارک منزلے کاں خانہ را ماہے چنیں باشد
ہمایوں کشورے کاں عرصہ را شاہے چنیں باشد
دارالامانِ مدینہ
ابو ایوبؓ کے گھر میں حبیب کبریاؐ ٹھہرے
مگر جب ہو گئی تیار مسجد اس میں آ ٹھہرے
ملی اظہار حق کی آج انسانوں کا آزادی
بہ آزادی لگا تبلیغ کرنے صلح کا ہادی
بھٹکتے پھرنے والوں کو خدا کی راہ پر لایا
بتوں میں گھرنے والوں کو در اللہ پر لایا
یہاں آتے تھے غیر اللہ سے رشتہ توڑنے والے
صدائے آخرت پر حب دنیا چھوڑنے والے
زمانے کے ستائے درد کے مارے ہوئے آتے
نبیؐ کے دامن رحمت میں آرام و سکوں پاتے
کوئی ترکی کوئی تازی کوئی حبشی کوئی رومی
سبھی یکساں تھے زیرِ سایہ دامان معصومی
تھے انصار و مہاجر اک نمونہ شانِ وحدت کا
کہ اس تسبیح میں تھا رشتہ محکم اخوت کا
تماشوں رنگ رلیوں کی جگہ پائی عبادت نے
فسادوں اور جھگڑوں کو مٹایا ذوقِ وحدت نے
مسلماں تھے کہ تھے زہد و ورع کی زندہ تصویریں
نمازیں اور تسبیحیں اذانیں اور تکبیریں
تجارت اور زراعت یا دعائیں یا مناجاتیں
مشقت کے لیے دن تھے عبادت کے لیے راتیں
یہ بستی کاٹتی تھی وقت نیکی سے بھلائی سے
نہایت آشتی سے امن سے صلح و صفائی سے
ہدایت کی سعادت پر ہزاروں شکر کرتے تھے
خدا پر تھی نظر سب کی ، خودی کا دم نہ بھرتے تھے
نبیؐ کا حکم اور قرآں دستور العمل ان کا
صداقت بن گئی آئینہ ظاہر اور باطن کا
ضیائے حق سے رشک طور سینا بن گیا یثرب
نبی کا آستاں بن کر مدینہ بن گیا یثرب

0 comments so far,add yours