وہ سلسلے، وہ شوق، وہ نسبت نہیں رہی
 
 اب زندگی میں ہجر کی وحشت نہیں رہی

ٹوٹا ہے جب سے اس کی مسیحائی کا طلسم
 
 دل کو کسی مسیحا کی حاجت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ کوئی شناسا نہیں رہا
 
 پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کہ ہوگیا وہ مصروف بھی بہت
 
 پھر ہمیں یاد کرنے کی اسے فرصت نہیں رہی

اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوں
 
خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی

0 comments so far,add yours