تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی،
محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو،
تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے،
کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو،
وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے،
مگر ایک بار آزما کر تو دیکھو،
زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا،
ہمیں بھی تم اپنا بنا کر تو دیکھو،
خدا کے لئے چھوڑ دو اب یہ پردہ،
کہ ہیں آج ہم تم نہیں غیر کوئ،
شبِ وصال بھی ہے حجاب اس قدر کیوں،
ذرا رخ سے آنچل ہٹا کر تو دیکھو،
جفائیں بہت کی بہت ظلم ڈھائے،
کبھی ایک نگاہِ کرم اس طرف بھی،
ہمیشہ ہوئے دیکھ کر مجھ کو برہم،
ذرا سا کبھی مسکرا کر تو دیکھو،
اگرچہ کسی بات پر وہ خفا ہیں،
تو اچھا یہی ہے کہ تم اپنی ہی کر لو،
وہ مانے یا نہ مانے یہ مرضی اُن کی،
مگر اُن کو پر تم منا کر تو دیکھو۔....!
تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی،
محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو،
تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے،
کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو،
وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے،
مگر ایک بار آزما کر تو دیکھو،
زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا،
ہمیں بھی تم اپنا بنا کر تو دیکھو،
خدا کے لئے چھوڑ دو اب یہ پردہ،
کہ ہیں آج ہم تم نہیں غیر کوئ،
شبِ وصال بھی ہے حجاب اس قدر کیوں،
ذرا رخ سے آنچل ہٹا کر تو دیکھو،
جفائیں بہت کی بہت ظلم ڈھائے،
کبھی ایک نگاہِ کرم اس طرف بھی،
ہمیشہ ہوئے دیکھ کر مجھ کو برہم،
ذرا سا کبھی مسکرا کر تو دیکھو،
اگرچہ کسی بات پر وہ خفا ہیں،
تو اچھا یہی ہے کہ تم اپنی ہی کر لو،
وہ مانے یا نہ مانے یہ مرضی اُن کی،
مگر اُن کو پر تم منا کر تو دیکھو۔....!
محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو،
تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے،
کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو،
وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے،
مگر ایک بار آزما کر تو دیکھو،
زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا،
ہمیں بھی تم اپنا بنا کر تو دیکھو،
خدا کے لئے چھوڑ دو اب یہ پردہ،
کہ ہیں آج ہم تم نہیں غیر کوئ،
شبِ وصال بھی ہے حجاب اس قدر کیوں،
ذرا رخ سے آنچل ہٹا کر تو دیکھو،
جفائیں بہت کی بہت ظلم ڈھائے،
کبھی ایک نگاہِ کرم اس طرف بھی،
ہمیشہ ہوئے دیکھ کر مجھ کو برہم،
ذرا سا کبھی مسکرا کر تو دیکھو،
اگرچہ کسی بات پر وہ خفا ہیں،
تو اچھا یہی ہے کہ تم اپنی ہی کر لو،
وہ مانے یا نہ مانے یہ مرضی اُن کی،
مگر اُن کو پر تم منا کر تو دیکھو۔....!
0 comments so far,add yours