دیارِ یار میں سَر کو جھکائے بیٹھے ہیں
کرم کی آس صنم سے لگائے بیٹھے ہیں

سنا ہے دید کی دولت اُنہیں ہُوئی حاصل
جو تیری راہ میں سب کچھ لٹائے بیٹھے ہیں

نہیں ہے دوسرا کوئی خیال میں میرے
حضور آپ میرے دل میں آئے بیٹھے ہیں

ہمیں بھی ناز ہے محبوب کی عنایت پر
اِسی اُمّید میں دامن بِچھائے بیٹھے ہیں

کرم کی ایک نظر جِس پہ ڈال دی تم نے
وہ آج سارے زمانے پہ چھائے بیٹھے ہیں

0 comments so far,add yours