اے عشق جنوں پیشہ
عمروں کی مسافت سے
تھک ہار گئے آخر
سب عہد اذیت کے
بیکار گئے آخر
اغیار کی باہوں میں
دلدار گئے آخر
رو کر تری قسمت کو
غمخوار گئے آخر
یوں زندگی گزرے گی
تا چند وفا کیشا
وہ وادئ کلفت تھی
یا کوہِ الم جو تھا
سب مدِّ مقابل تھے
خسرو تھا کہ جم جو تھا
ہر راہ میں ٹپکا ہے
خوننابہ بہم جو تھا
رستوں میں لٹایا ہے
وہ بیش کہ کم جو تھا
نے رنجِ شکستِ دل
نے جان کا اندیشہ
۔۔۔ ۔۔
کچھ اہلِ ریا بھی تو
ہمراہ ہمارے تھے
رہرو تھے کہ رہزن تھے
جو روپ بھی دھارے تھے
کچھ سہل طلب بھی تھے
وہ بھی ہمیں پیارے تھے
اپنے تھے کہ بیگانے
ہم خوش تھے کہ سارے تھے
سو زخم تھے نس نس میں
گھائل تھے رگ و ریشہ
۔۔۔ ۔۔
جو جسم کا ایندھن تھا
گلنار کیا ہم نے
وہ زہر کہ امرت تھا
جی بھر کہ پیا ہم نے
سو زخم ابھر آئے
جب دل کو سیا ہم نے
کیا کیا نہ محبت کی
کیا کیا نہ جیا ہم نے
لو کوچ کیا گھر سے
لو جوگ لیا ہم نے
جو کچھ تھا دیا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے
رکنا نہیں درویشا
۔۔۔ ۔۔
یوں ہے کہ سفر اپنا
تھا خواب نہ افسانہ
آنکھوں میں ابھی تک ہے
فردا کا پریخانہ
صد شکر سلامت ہے
پندارِ فقیرانہ
اس شہرِ خموشی میں
پھر نعرۂ مستانہ
اے ہمّتِ مردانہ
صد خارہ و یک تیشہ
اے عشقِ جنوں پیشہ
اے عشقِ جنوں پیشہ



0 comments so far,add yours