میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔ ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا آج اردو کے نامور شاعر احمد فراز کی ساتویں برسی ہے ۔ ا...
"کبھی ہم بھی خوبصورت تھے" اس خوبصورت نظم کے شاعر احمد شمیم تھے احمد فراز نے احمد شمیم کی یاد میں ایک آزاد نظم لکھی تھی۔ "ا...
اے عشق جنوں پیشہ عمروں کی مسافت سے تھک ہار گئے آخر سب عہد ...
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میںکچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد...
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل ج...
یہ آخری ساعت شام کی ہے یہ شام جو ہے مہجوری کی یہ شام اپنوں سے دوری کی اس شام افق کے ہونٹوں پر جو لالی ہے زہریلی ہے اس شام نے میری آ...
کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دُکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز ت...
انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں کس...
آخر کو ضرورت ہی خریدار کی نکلی مریم سی وہ لعبت بھی تو بازار کی نکلی * دیکھو کبھی مقتل کبھی گلزار لگے ہے تصویر عجب کوچۂ دلدار کی نکلی ...
